سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1005
Sunan Ibn Majah 1005
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
55: بَابُ : فَضْلِ مَيْمَنَةِ الصَّفِّ
باب: صف کے داہنی جانب کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1005]
💡 وضاحت:
۱؎: اللہ تعالیٰ کی صلاۃ رحمت اور فرشتوں کی صلاۃ دعا ہے، یہ جب ہے کہ دائیں اور بائیں طرف برابر ہوں، اور دونوں طرف نمازی ہوں اگر بائیں جانب خالی ہو اور ادھر نمازی نہ ہوں، تو بائیں جانب میں بھی وہی فضیلت ہو گی، جو دائیں جانب میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (676) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 96 (676)، (تحفة الأشراف: 16366) (ضعیف) (اسامہ بن زید العدوی ضعیف الحفظ ہیں، اور معاویہ بن ہشام کے حفظ میں ضعف ہے، اور ثقات نے اس کے خلاف روایت کی ہے: إن الله وملائكته يصلون على ميامن الصفوف ، اور یہ ثابت ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 104)