سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1364
Sunan Ibn Majah 1364
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
182: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ
باب: رات کا کون سا وقت (عبادت کے لیے) سب سے اچھا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَسْلَمَ مَعَكَ؟، قَالَ: " حُرٌّ وَعَبْدٌ"، قُلْتُ: هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ مِنْ أُخْرَى؟، قَالَ: " نَعَمْ، جَوْفُ اللَّيْلِ الْأَوْسَطُ".
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کے ساتھ کون کون سے لوگ اسلام لائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک آزاد اور ایک غلام “ ۱؎ میں نے پوچھا : کیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی کے مقابلے میں ایسی ہے جس میں اللہ کا قرب زیادہ ہوتا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں رات کی درمیانی ساعت ( گھڑی ) “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1364]
💡 وضاحت:
۱؎: آزاد سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور غلام سے مراد بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ ۲؎: یعنی درمیانی رات کے وقت، ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اخیر تہائی رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر اترتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اخیر کی تہائی رات زیادہ افضل ہے، اور ممکن ہے کہ درمیانی رات کے وقت سے یہی مراد ہو، کیونکہ شروع اور آخر کے اندر سب درمیان ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح إلا الجملة الأخيرة منه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (1251) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10762، ومصباح الزجاجة: 478)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 111، 113، 114، 385) (صحیح) (سند میں عبد الرحمن بن البیلمانی کا سماع عمرو بن عبسہ سے ثابت نہیں ہے، نیز یزید بن طلق مجہول ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، لیکن جوف الليل الأوسط کا لفظ منکر ہے، صحیح الآخر کے لفظ سے ہے، یہ حدیث (1251) نمر پر گذری ملاحظہ ہو، صحیح ابی داود: 1158)۔