سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1212
Sunan Ibn Majah 1212
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
133: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَتَحَرَّى الصَّوَابَ
باب: جس شخص کو نماز میں شک ہو تو وہ سوچے اور غور کرے اور جو صحیح معلوم ہو اس پر عمل کرے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ"، قَالَ الطَّنَافِسِيُّ: هَذَا الْأَصْلُ وَلَا يَقْدِرُ أَحَدٌ يَرُدُّهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص نماز میں شک کرے ، تو سوچ کر صحیح کو معلوم کرے ، پھر دو سجدے کرے “ ۔ طنافسی کہتے ہیں : یہی اصل ہے جس کو کوئی شخص رد نہیں کر سکتا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1212]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سجدہ سہو سب کے نزدیک لازم ہو گا، اب اختلاف اور امور میں ہے کہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، یا سلام سے پہلے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9451) (صحیح)