سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1179
Sunan Ibn Majah 1179
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
117: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ” اے اللہ ! میں تیری رضا مندی کے ذریعہ تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں ، اور تیری معافی کے ذریعہ تیری سزاؤں سے پناہ مانگتا ہوں ، اور تیرے رحم و کرم کے ذریعہ تیرے غیظ و غضب سے پناہ مانگتا ہوں ، میں تیری حمد و ثنا کو شمار نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف کی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1179]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 340 (1427)، سنن الترمذی/الدعوات 113 (3566)، (تحفة الأشراف: 10207)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل 43 (1749)، مسند احمد (1/96، 118، 150) (صحیح)