سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1275
Sunan Ibn Majah 1275
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
155: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کی نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ عِيدٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا؟، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا، فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( گورنر ) مروان عید کے دن ( عید گاہ ) منبر لے گئے ، اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا ، ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : مروان ! آپ نے خلاف سنت عمل کیا ، عید کے دن منبر لے آئے ، جب کہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا ، اور آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا جب کہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا تھا ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : اس شخص نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جو شخص خلاف شرع کام ہوتے ہوئے دیکھے اور اپنے ہاتھ سے اسے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے ، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے ، اور اگر زبان سے بھی کچھ نہ کہہ سکتا ہو تو دل میں برا جانے ، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1275]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایمان کا اخیر درجہ ہے اگر خلاف شرع کام کو دل سے بھی برا نہ جانے بلکہ ایسے کاموں پر چپ رہے اور دل میں بھی نفرت نہ لائے تو اس شخص میں ذرا بھی ایمان نہیں ہے، اس حدیث کو یاد رکھنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1140)، سنن الترمذی/الفتن 11 (7172)، سنن النسائی/الإیمان 17 (5011)، (تحفة الأشراف: 4085)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین 6 (956)، مسند احمد (3/10، 49، 52، 53، 54، 92) (صحیح)