سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 930
Sunan Ibn Majah 930
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
33: بَابُ : الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف پھرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَال، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ فِي نَفْسِهِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَقًّا لِلَّهِ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی ذات میں شیطان کے لیے حصہ مقرر نہ کرے ، وہ یہ سمجھے کہ اس پر اللہ کا یہ حق ہے کہ نماز کے بعد وہ صرف اپنے دائیں جانب سے پھرے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اکثر بائیں جانب سے مڑتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 930]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے آپ کے مصلّے سے بائیں جانب پڑتے تھے، آپ اکثر بائیں جانب مڑتے، اور اٹھ کر اپنے حجروں میں تشریف لے جاتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم ¤ -
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 159 (852)، صحیح مسلم/المسافرین 7 (707)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1042)، سنن النسائی/السہو 100 (1361)، (تحفة الأشراف: 9177)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/383، 429، 464)، سنن الدارمی/الصلاة 89 (1390) (صحیح)