📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب الجنائز

کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل

کتاب #25 • کل احادیث: 273
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : تَمَنِّي الْمَوْتِ
باب: موت کی آرزو و تمنا۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا , وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے ، ( کیونکہ ) یا تو وہ نیک ہو گا تو ہو سکتا ہے زیادہ نیکی کرے ، یا برا ہو گا تو ہو سکتا ہے وہ برائی سے توبہ کر لے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1819]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لیے زندہ رہنا ہی اس کے لیے بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14117)، مسند احمد 2/236 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعِيشَ يَزْدَادُ خَيْرًا وَهُوَ خَيْرٌ لَهُ , وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے ( کیونکہ ) اگر وہ نیک ہے تو شاید زندہ رہے ( اور ) زیادہ نیکی کرے ، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ، اور اگر گناہ گار ہے تو ہو سکتا ہے گنا ہوں سے توبہ کر لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1820]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المرضی 19 (5673)، التمني 6 (7235)، (تحفة الأشراف: 12934)، مسند احمد 2/309، 514، سنن الدارمی/الرقاق 45 (2800) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَلَكِنْ لِيَقُلْ، اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز مصیبت کی وجہ سے جو اسے دنیا میں پہنچتی ہے موت کی تمنا نہ کرے ۱؎ ، بلکہ یہ کہے : «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي‏» ” اے اللہ ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو ، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1821]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ زندگی کا جو حصہ باقی ہے اس کے دین و دنیا کے لیے بہتر ہو، اس لیے موت کی آرزو کرنا منع ہے، شہادت کی یا مقدس جگہ مرنے کی آرزو کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 805، حم3/104 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ. ح وَأَنْبَأَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا الْمَوْتَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو نہ کرے ، اس مصیبت کی وجہ سے جو اسے پہنچی ہے ، اگر موت کی آرزو کرنا ضروری ہو تو یہ کہے : «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» ” اے اللہ ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو ، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1822]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: حدیث إسماعیل ابن علیّة، عن عبدالعزیز أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات 30 (6351)، صحیح مسلم/الذکر 4 (2680)، سنن الترمذی/الجنائز 3 (971)، (تحفة الأشراف: 991)، مسند احمد 3/101، وحدیث عبدالوارث، عن عبدالعزیز أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 13 (3108)، سنن ابن ماجہ/الزہد 31 (4265)، (تحفة الأشراف: 1037) (صحیح)
2: بَابُ : الدُّعَاءِ بِالْمَوْتِ
باب: موت کی دعا کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ وَهُوَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَدْعُوا بِالْمَوْتِ وَلَا تَتَمَنَّوْهُ فَمَنْ كَانَ دَاعِيًا لَا بُدَّ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم موت کی دعا نہ کرو ، اور نہ ہی اس کی تمنا ( مگر ) جسے دعا کرنا ضروری ہو وہ کہے : «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» ” اے اللہ ! مجھے زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور موت دیدے جب میرے لیے موت بہتر ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1823]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 496) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا وَقَالَ: " لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ دَعَوْتُ بِهِ".
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں میں خباب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوا رکھے تھے وہ کہنے لگے : اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے نہ روکا ہوتا تو میں ( شدت تکلیف سے ) اس کی دعا کرتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1824]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المرضی 19 (5672)، والدعوات 30 (6349)، والرقاق 7 (6430)، والتمني 6 (7234)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 4 (2681)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة القیامة 40 (2483)، (تحفة الأشراف: 3518)، مسند احمد 5/109، 110، 111، 112 و 6/395 (صحیح)
3: بَابُ : كَثْرَةِ ذِكْرِ الْمَوْتِ
باب: موت کو کثرت سے یاد کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو. ح وأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالِدُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لذتوں کو کاٹنے والی ۱؎ کو خوب یاد کیا کرو ” ۲؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : محمد بن ابراہیم ابوبکر بن ابی شیبہ کے والد ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1825]
💡 وضاحت:
۱؎: لذتوں کو کاٹنے والی سے مراد موت ہے۔ ۲؎: موت کو کثرت سے یاد کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ انسان اس سے نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے، اور برائیوں سے توبہ کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: حدیث فضل بن موسی، عن محمد بن عمرو قد أخرجہ: سنن الترمذی/الزھد 4 (2307)، سنن ابن ماجہ/الزھد 31 (4258)، مسند احمد 2/293، (تحفة الأشراف: 15080)، وحدیث محمد بن إبراہیم، عن موسی بن عمرو قد تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15087) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ" , فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: " قُولِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً" , فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اچھی باتیں کرو ، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں “ ۔ چنانچہ جب ابوسلمہ مر گئے ، تو میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں کیا کہوں ؟ تو آپ نے فرمایا ـ : ” تو کہو : «اللہم اغفر لنا وله وأعقبني منه عقبى حسنة» ” اے اللہ ! ہماری اور ان کی مغفرت فرما ، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما “ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1826]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوسلمہ کی وفات کے بعد ام سلمہ رضی الله عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو گیا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں بدل ہی نہیں نعم البدل عطا فرما دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 3 (919)، سنن ابی داود/الجنائز 19 (3115)، سنن الترمذی/الجنائز 7 (977)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 4 (1447)، 55 (1598)، (تحفة الأشراف: 18162)، موطا امام مالک/الجنائز 14 (42)، مسند احمد 6/291، 306، 322 (صحیح)
4: بَابُ : تَلْقِينِ الْمَيِّتِ
باب: میت کو «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ» کی تلقین کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا إله إلا اللہ» کی تلقین کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1827]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تلقین سے مراد تذکیر ہے یعنی ان کے پاس پڑھ کر انہیں اس کی یاد ہانی کرائی جائے تاکہ سن کر وہ بھی پڑھنے لگیں، ان سے پڑھنے کے لیے نہ کہا جائے کیونکہ موت کے شدت سے گھبراہٹ میں جھنجھلا کر وہ کہیں اس کلمہ کا انکار نہ کر دے، لیکن البانی صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک تلقین کا مطلب یہی ہے کہ اس سے «لا إله إلا الله» پڑھنے کے لیے کہا جائے، تفصیل کے لیے دیکھئیے احکام الجنائز للالبانی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 1 (916)، سنن ابی داود/الجنائز 20 (3117)، سنن الترمذی/الجنائز 7 (976)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 3 (1445)، مسند احمد 3/3، (تحفة الأشراف: 4403) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ ابْنُ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَقِّنُوا هَلْكَاكُمْ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا إله إلا اللہ» کی تلقین کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1828]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17861) (صحیح)
5: بَابُ : عَلاَمَةِ مَوْتِ الْمُؤْمِنِ
باب: مومن کے مرنے کی نشانی۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بِعَرَقِ الْجَبِينِ".
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1829]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مومن موت کی شدت سے دوچار ہوتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کی بخشش ہو جائے، یا موت اسے اچانک اس حال میں پا لیتی ہے کہ وہ رزق حلال اور ادائیگی فرض کے لیے اس قدر کوشاں رہتا ہے کہ اس کی پیشانی عرق آلود رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجنائز 10 (982)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 5 (1452)، (تحفة الأشراف: 1992)، مسند احمد 5/350، 357، 360 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا : ” مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود رہتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1830]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1996) (صحیح)
6: بَابُ : شِدَّةِ الْمَوْتِ
باب: موت کی شدت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد کبھی کسی کی موت کی سختی مجھے ناگوار نہیں لگتی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1831]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ موت کی سختی برے ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ ترقی درجات، اور گناہوں کی مغفرت کا سبب بھی ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 83 (4446)، (تحفة الأشراف: 17531)، مسند احمد 6/64، 77 (صحیح)
7: بَابُ : الْمَوْتِ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ
باب: دوشنبہ (سوموار) کے دن مرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشْفُ السِّتَارَةِ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَرْتَدَّ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ امْكُثُوا وَأَلْقَى السِّجْفَ , وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَذَلِكَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار اس وقت کیا تھا ( جب ) آپ نے ( حجرے کا ) پردہ اٹھایا ، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے ( کھڑے تھے ) ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو ، اور پردہ گرا دیا ( پھر ) آپ اسی دن کے آخری ( حصہ میں ) انتقال فرما گئے ، اور یہ دوشنبہ کا دن تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1832]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 21 (419)، سنن الترمذی/الشمائل 53 (368)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 64 (1624)، (تحفة الأشراف: 1487)، مسند احمد 3/110، 163، 196، 197 (صحیح)
8: بَابُ : الْمَوْتِ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ
باب: اپنے مقام پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " يَا لَيْتَهُ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ" , قَالُوا: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : ” کاش ! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا : ” آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے ، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1833]
💡 وضاحت:
۱؎: جنت میں یہ جگہ اس لیے ملتی ہے کہ وہ اجنبیت کی موت مرتا ہے، یا مراد یہ ہے کہ اس کی قبر اتنی کشادہ کر دی جاتی ہے جتنا اس کی جائے پیدائش اور جائے وفات میں فاصلہ ہوتا، اس سے مسافرت اور اجنبیت کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، جب کسی برے کام کے لیے نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 61 (1614)، (تحفة الأشراف: 8856)، مسند احمد 2/177 (حسن)
9: بَابُ : مَا يُلْقَى بِهِ الْمُؤْمِنُ مِنَ الْكَرَامَةِ عِنْدَ خُرُوجِ نَفْسِهِ
باب: روح نکلتے وقت مومن کی عزت و تکریم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ , فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيًّا عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتَّى أَنَّهُ لَيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ السَّمَاءِ , فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ يَقْدَمُ عَلَيْهِ، فَيَسْأَلُونَهُ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا، فَإِذَا قَالَ: أَمَا أَتَاكُمْ؟ قَالُوا: ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي سَاخِطَةً مَسْخُوطًا عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحَ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مومن کی موت آتی ہے تو اس کے پاس رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں ، اور ( اس کی روح سے ) کہتے ہیں : نکل ، تو اللہ سے راضی ہے ، اور اللہ تجھ سے راضی ہے ، اللہ کی رحمت اور رزق کی طرف اور ( اپنے ) رب کی طرف جو ناراض نہیں ہے ، تو وہ پاکیزہ خوشبودار مشک کی مانند نکل پڑتی ، ہے یہاں تک کہ ( فرشتے ) اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ، ( جب ) آسمان کے دروازے پر اسے لے کر آتے ہیں تو ( دربان ) کہتے ہیں : کیا خوب ہے یہ خوشبو جو زمین سے تمہارے پاس آئی ہے ، ( پھر ) وہ اسے مومن کی روحوں کے پاس لے کر آتے ہیں ، تو انہیں ایسی خوشی ہوتی ہے جو گمشدہ شخص کے لوٹ کر آ جانے سے بڑھ کر ہوتی ہے ، وہ روحیں اس سے ان لوگوں کا حال پوچھتی ہیں جنہیں وہ دنیا میں چھوڑ گئے تھے : فلاں کیسے ہے ، اور فلاں کیسے ہے ؟ وہ کہتی ہیں : انہیں چھوڑو ، یہ دنیا کے غم میں مبتلا تھے ، تو جب وہ ( نووارد روح ) کہتی ہے : کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا ؟ ( وہ تو مر گیا تھا ) تو وہ کہتی ہیں : اسے اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا ، اور جب کافر قریب المرگ ہوتا ہے تو عذاب کے فرشتے ایک ٹاٹ کا ٹکڑا لے کر آتے ہیں ، ( اور ) کہتے ہیں : اللہ کے عذاب کی طرف نکل ، تو اللہ سے ناراض ہے ، اور اللہ تجھ سے ناراض ہے ، تو وہ نکل پڑتی ہے جیسے سڑے مردار کی بدبو نکلتی ہے یہاں تک کہ اسے زمین کے دروازے پر لاتے ہیں ( پھر ) کہتے ہیں : کتنی خراب بدبو ہے یہاں تک کہ اسے کافروں کی روحوں میں لے جا کر ( چھوڑ دیتے ہیں ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1834]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وأحاديث مسلم (2872) والبيهقي (اثبات عذاب القبر بتحقيقي: 1933) تغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 335
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14290) (صحیح)
10: بَابُ : فِيمَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ
باب: اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے محبت کرنے والے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي زُبَيْدٍ وَهُوَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" قَالَ شُرَيْحٌ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ , فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ هَلَكْنَا , قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" , وَلَكِنْ لَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ , قَالَتْ: قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ إِذَا طَمَحَ الْبَصَرُ وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا ، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا “ ۔ شریح کہتے ہیں : میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور میں نے کہا : ام المؤمنین ! میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ذکر کرتے سنا ہے ، اگر ایسا ہے تو ہم ہلاک ہو گئے ، انہوں نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو اللہ سے ملنا چاہے اللہ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا ، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا “ لیکن ہم میں سے کوئی ( بھی ) ایسا نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو ۔ تو انہوں نے کہا : بیشک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نگاہ پتھرا جائے ، سینہ میں دم گھٹنے لگے ، اور رونگٹے کھڑے ہو جائیں ، اس وقت جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا ، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1835]
💡 وضاحت:
۱؎: خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی صراحت فرما دی ہے (دیکھئیے حدیث رقم: ۱۸۳۹) مطلب یہ ہے کہ مومن کو موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خوشی ہوتی ہے، اور کافر کو گھبراہٹ ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء 5 (2685)، (تحفة الأشراف: 13492)، مسند احمد 2/313، 346، 420 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
قَالَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: " إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ , وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میرا بندہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے تو میں ( بھی ) اس سے ملنا چاہتا ہوں ، اور جب وہ مجھ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو میں ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1836]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري أَخْبَرَنَاالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ
تخریج دارالدعوہ: حدیث أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي ہریرة أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 5 (7504)، (تحفة الأشراف: 13831)، وحدیث مغیرة، عن أبي الزناد قد تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13908)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (50)، مسند احمد 2/418 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ".
عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے ، اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا ، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1837]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق 41 (6507) مطولاً، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 5 (2683)، سنن الترمذی/الجنائز 67 (1066)، والزھد 6 (2309)، (تحفة الأشراف: 5070)، مسند احمد 5/316، 321، سنن الدارمی/الرقاق 43 (2798) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ".
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہتا ہے ، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1838]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ. ح وأَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" , زَاد عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ , فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَرَاهِيَةُ لِقَاءِ اللَّهِ كَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ , قَالَ: " ذَاكَ عِنْدَ مَوْتِهِ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَمَغْفِرَتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا ، اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ، ( عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے ) اس پر اللہ کے رسول سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ( اگر ) اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرنا موت کو ناپسند کرنا ہے ، تو ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” یہ اس کے مرنے کے وقت کی بات ہے ، جب اسے اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے ( جلد ) ملنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہتا ہے ، اور جب اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے تو ( ڈر کی وجہ سے ) ملنا ناپسند کرتا ہے ، اور وہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1839]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق 41 (6507) (تعلیقاً)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 5 (2684)، سنن الترمذی/الجنائز 67 (1067)، سنن ابن ماجہ/الزھد 31 (4264)، (تحفة الأشراف: 16103)، مسند احمد 6/44، 55، 207 (صحیح)
11: بَابُ : تَقْبِيلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کو بوسہ لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ" أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے بیچ بوسہ لیا ، اور آپ انتقال فرما چکے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1840]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن شهاب الزهري عنعن. والحديث الآتي (1841) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 335
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16745) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ" أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ".
عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا ، اور آپ انتقال فرما چکے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1841]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: حدیث ابن عباس قد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 83 (4455)، والطب 21 (5709)، سنن الترمذی/الشمائل 53 (373)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 7 (1457)، (تحفة الأشراف: 5860)، مسند احمد 6/55، وحدیث عائشة قد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 83 (4455، 4456، 4457)، تحفة الأشراف: 16316) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ , وَيُونُسُ , قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنُحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِبُرْدٍ حِبَرَةٍ" فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ , ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ فَبَكَى" ثُمَّ قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ، وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ نے مجھے خبر دی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ ابوبکر ” سُنح “ میں واقع اپنے مکان سے ایک گھوڑے پر آئے ، اور اتر کر ( سیدھے ) مسجد میں گئے ، لوگوں سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( ان کے حجرے میں ) آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کھولا ، پھر وہ آپ پر جھکے اور آپ کا بوسہ لیا ، اور رو پڑے ، پھر کہا : میرے باپ آپ پر فدا ہوں ، اللہ کی قسم ! اللہ کبھی آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا ، رہی یہ موت جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی تو یہ ہو چکی ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1842]
💡 وضاحت:
۱؎: سُنح یہ عوالی مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے جہاں نبی حارث بن خزرج کے لوگ رہتے تھے، ابوبکر رضی الله عنہ نے انہیں میں شادی کی تھی، اور یہ رہائش گاہ ان کی اہلیہ کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہاں جانے کی اجازت دی تھی۔ ۲؎: ابوبکر رضی الله عنہ نے یہ جملہ عمر رضی الله عنہ کی تردید میں کہا تھا جو کہہ رہے تھے کہ آپ پھر دنیا میں واپس آئیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 3 (1241)، والمغازي 83 (4452)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 65 (1627) مطولاً، (تحفة الأشراف: 6632)، مسند احمد 6/117 (صحیح)
12: بَابُ : تَسْجِيَةِ الْمَيِّتِ
باب: میت کو ڈھانپنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ , فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُجِّيَ بِثَوْبٍ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ فَلَمَّا رُفِعَ سَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ , فَقَالَ: " مَنْ هَذِهِ؟" , فَقَالُوا: هَذِهِ بِنْتُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو , قَالَ: " فَلَا تَبْكِي أَوْ فَلِمَ تَبْكِي؟ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ".
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میرے والد کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا تھا ، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا ، اور ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا ، میں نے ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانا چاہا تو لوگوں نے مجھے روک دیا ، ( پھر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( اٹھانے ) کا حکم دیا ، انہیں اٹھایا گیا ، تو جب وہ اٹھائے گئے تو آپ نے کسی رونے والے کی آواز سنی تو پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ “ تو لوگوں نے کہا : یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے ، آپ نے فرمایا : ” مت روؤ “ ، یا فرمایا : ” کیوں روتی ہو ؟ جب تک انہیں اٹھایا نہیں گیا تھا فرشتے انہیں برابر سایہ کئے ہوئے تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1843]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 3 (1244)، 34 (1293)، والجھاد 20 (2816)، والمغازي 26 (4080)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 26 (2471)، (تحفة الأشراف: 3032)، مسند احمد 3/298، 307 (صحیح)
13: بَابُ : فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر رونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَتْ بِنْتٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَغِيرَةٌ , فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهَا إِلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَقَضَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَتَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَكِ"، فَقَالَتْ: مَا لِي لَا أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَسْتُ أَبْكِي وَلَكِنَّهَا رَحْمَةٌ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی بچی کے مرنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اپنی گود میں ) لے کر اپنے سینے سے چمٹا لیا ، پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا ، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی مر گئی ، ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ام ایمن ! تم رو رہی ہو جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہیں ؟ “ تو انہوں نے کہا : میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( خود ) رو رہے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں رو نہیں رہا ہوں ، البتہ یہ اللہ کی رحمت ہے “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن ہر حال میں اچھا ہے ، اس کی دونوں پسلیوں کے بیچ سے اس کی جان نکالی جاتی ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1844]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الشمائل 44 (308)، (تحفة الأشراف: 6156)، مسند احمد 1/268، 273، 297 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بَكَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ، فَقَالَتْ: " يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، يَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ، يَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر رونے لگیں ، اور کہنے لگیں : ہائے ، ابا جان ! آپ اپنے رب سے کس قدر قریب ہو گئے ، ہائے ، ابا جان ! مرنے کی خبر ہم جبرائیل علیہ السلام کو دے رہے ہیں ، ہائے ، ابا جان ! آپ کا ٹھکانا جنت الفردوس ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1845]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 487)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 83 (4462)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 65 (1630)، مسند احمد 3/197 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ , قَالَ: فَجَعَلْتُ أَكْشِفُ عَنْ وَجْهِهِ وَأَبْكِي وَالنَّاسُ يَنْهَوْنِي , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَنْهَانِي، وَجَعَلَتْ عَمَّتِي تَبْكِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبْكِيهِ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ".
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد غزوہ احد کے دن قتل کر دیئے گئے ، میں ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانے اور رونے لگا ، لوگ مجھے روک رہے تھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں روک رہے تھے ، میری پھوپھی ( بھی ) ان پر رونے لگیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان پر مت روؤ ، فرشتے ان پر برابر اپنے پروں سے سایہ کیے رہے یہاں تک کہ تم لوگوں نے اٹھایا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1846]
💡 وضاحت:
۱؎: ان احادیث سے میت پر رونے کا جواز ثابت ہو رہا ہے، رہیں وہ روایتیں جن میں رونے سے منع کیا گیا ہے تو وہ اس رونے پر محمول کی جائیں گی جس میں بین اور نوحہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 3 (1244)، المغازي 26 (4080)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 26 (2471)، (تحفة الأشراف: 3044)، مسند احمد 3/298 (صحیح)
14: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر رونا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، أَنَّ عَتِيكَ بْنَ الْحَارِثِ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ , فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " قَدْ غُلِبْنَا عَلَيْكَ أَبَا الرَّبِيعِ"، فَصِحْنَ النِّسَاءُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ" , قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْمَوْتُ" , قَالَتِ ابْنَتُهُ: إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا قَدْ كُنْتَ قَضَيْتَ جِهَازَكَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَيْهِ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟" , قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ , وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ , وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ , وَصَاحِبُ الْهَدَمِ شَهِيدٌ , وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ , وَصَاحِبُ الْحَرَقِ شَهِيدٌ , وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ".
جابر بن عتیک انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت ( بیمار پرسی ) کرنے آئے تو دیکھا کہ بیماری ان پر غالب آ گئی ہے ، تو آپ نے انہیں زور سے پکارا ( لیکن ) انہوں نے ( کوئی ) جواب نہیں دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اناللہ وانا اليہ راجعون» پڑھا ، اور فرمایا : ” اے ابو ربیع ! ہم تم پر مغلوب ہو گئے “ ( یہ سن کر ) عورتیں چیخ پڑیں ، اور رونے لگیں ، ابن عتیک انہیں چپ کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں چھوڑ دو لیکن جب واجب ہو جائے تو ہرگز کوئی رونے والی نہ روئے “ ۔ لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ( یہ ) واجب ہونا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” مر جانا “ ، ان کی بیٹی نے اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہا : مجھے امید تھی کہ آپ شہید ہوں گے ( کیونکہ ) آپ نے اپنا سامان جہاد تیار کر لیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی نیت کے حساب سے انہیں اجر و ثواب دے گا ، تم لوگ شہادت سے کیا سمجھتے ہو ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے جانے کے علاوہ شہادت ( کی ) سات ( قسمیں ) ہیں ، طاعون سے مرنے والا شہید ہے ، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے ، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے ، عمارت سے دب کر مرنے والا شہید ہے ، نمونیہ میں مرنے والا شہید ہے ، جل کر مرنے والا شہید ہے ، اور جو عورت جننے کے وقت یا جننے کے بعد مر جائے وہ شہید ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1847]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن ثابت کی کنیت ہے مطلب یہ ہے کہ تقدیر ہمارے ارادے پر غالب آ گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 15 (3111)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 17 (2803)، (تحفة الأشراف: 3173)، موطا امام مالک/الجنائز 12 (36)، مسند احمد 5/446، ویأتی عند المؤلف فی الجھاد 48 (بأرقام: 3196، 3197) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أَتَى نَعْيُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صِئْرِ الْبَابِ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ يَبْكِينَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْطَلِقْ فَانْهَهُنَّ" فَانْطَلَقَ، ثُمَّ جَاءَ , فَقَالَ: قَدْ نَهَيْتُهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْتَهِينَ، فَقَالَ: " انْطَلِقْ فَانْهَهُنَّ" فَانْطَلَقَ، ثُمَّ جَاءَ , فَقَالَ: قَدْ نَهَيْتُهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْتَهِينَ , قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ" , فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَ الْأَبْعَدِ إِنَّكَ وَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب زید بن حارثہ ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ( رضی اللہ عنہم ) کے مرنے کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ( اور ) آپ ( کے چہرے ) پر حزن و ملال نمایاں تھا ، میں دروازے کے شگاف سے دیکھ رہی تھی ( اتنے میں ) ایک شخص آیا اور کہنے لگا : جعفر ( کے گھر ) کی عورتیں رو رہی ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” جاؤ انہیں منع کرو “ ، چنانچہ وہ گیا ( اور ) پھر ( لوٹ کر ) آیا اور کہنے لگا : میں نے انہیں روکا ( لیکن ) وہ نہیں مانیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں منع کرو “ ( پھر ) وہ گیا ( اور پھر لوٹ کر آیا ، اور کہنے لگا : میں نے انہیں روکا ( لیکن ) وہ نہیں مان رہی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ ان کے منہ میں مٹی ڈال دو “ ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس شخص کی ناک خاک آلود کرے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہے ، تو اللہ کی قسم ! نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کرنا چھوڑ رہا ہے ، اور نہ تو یہی کر سکتا ہے ( کہ انہیں سختی سے روک دے ) ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1848]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ تو بار بار شکایات کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کرنے سے بھی باز نہیں آتا ہے، اور نہ یہی کرتا ہے کہ ڈانٹ ڈپٹ کر عورتوں کو رونے سے منع کر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 40 (1299)، 45 (1305)، والمغازی 44 (4763)، صحیح مسلم/الجنائز 10 (935)، سنن ابی داود/الجنائز 25 (3122)، (تحفة الأشراف: 17932)، مسند احمد 6/58، 277 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ".
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1849]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 9 (927)، (تحفة الأشراف: 10556)، مسند احمد 1/26، 36، 47، 50، 51، 54 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: ذُكِرَ عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ" , فَقَالَ عِمْرَانُ: قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس ذکر کیا گیا کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، تو انہوں نے کہا : اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1850]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10843)، مسند احمد 4/437 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ".
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1851]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجنائز 24 (1002)، (تحفة الأشراف: 10527)، مسند احمد 1/42 (صحیح)
15: بَابُ : النِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر نوحہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ، قَالَ: " لَا تَنُوحُوا عَلَيَّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ" مُخْتَصَرٌ.
قیس بن عاصم رضی الله عنہ نے کہا تم میرے اوپر نوحہ مت کرنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا ۔ یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1852]
💡 وضاحت:
۱؎: میت پر اس کے اوصاف بیان کر کے چلا چلا کر رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11101)، مسند احمد 5/61 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ، أَنْ لَا يَنُحْنَ، فَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت عورتوں سے بیعت لی تو ان سے یہ بھی عہد لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی ، تو عورتوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کچھ عورتوں نے زمانہ جاہلیت میں ( نوحہ کرنے میں ) ہماری مدد کی ہے ، تو کیا ہم ان کی مدد کریں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں ( نوحہ پر ) کوئی مدد نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1853]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 485)، مسند احمد 3/197 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِالنِّيَاحَةِ عَلَيْهِ".
عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1854]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 33 (1292)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (927)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 54 (1593)، (تحفة الأشراف: 10536)، مسند احمد 1/26، 36، 50، 51 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ هُوَ ابْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ بِخُرَاسَانَ وَنَاحَ أَهْلُهُ عَلَيْهِ هَاهُنَا , أَكَانَ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ؟ قَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَبْتَ أَنْتَ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، اس پر ایک شخص نے ان سے کہا : مجھے بتائیے کہ ایک شخص خراسان میں مرے ، اور اس کے گھر والے یہاں اس پر نوحہ کریں تو اس پر اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا ، ( یہ بات عقل میں آنے والی نہیں ) ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ، اور تو جھوٹا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1855]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی جواب ہے اس شخص کا جو حدیث کے ہوتے ہوئے عقل اور قیاس کے گھوڑے دوڑائے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وعنعن. ولأصل الحديث شواهد كثيرة،انظر الحديث السابق (1854) وهو يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10810) (صحیح) (اس سند میں ’’ہشیم“ اور ”حسن بصری‘‘ مدلس ہیں، مگر پچھلی سند (1850) سے یہ روایت صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ: وَهِلَ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ , فَقَالَ: " إِنَّ صَاحِبَ الْقَبْرِ لَيُعَذَّبُ وَإِنَّ أَهْلَهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ" , ثُمَّ قَرَأَتْ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے “ ، اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا : انہیں ( ابن عمر کو ) غلط فہمی ہوئی ہے ( اصل واقعہ یوں ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو کہا : اس قبر والے کو عذاب دیا جا رہا ہے ، اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں ، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی : «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ ( فاطر : ۱۸ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1856]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 8 (3978)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (931)، سنن ابی داود/الجنائز 29 (3129)، (تحفة الأشراف: 7324، 16818)، مسند احمد 2/38 و 6/39، 57، 95، 209 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَهَا، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنْ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ".
عمرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت کرے ، سنو ! انہوں نے جھوٹ اور غلط نہیں کہا ہے ، بلکہ وہ بھول گئے انہیں غلط فہمی ہوئی ہے ( اصل بات یہ ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ عورت ( کی قبر ) کے پاس سے گزرے جس پر ( اس کے گھر والے ) رو رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1857]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 32 (1289)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (932)، سنن الترمذی/الجنائز 25 (1006)، (تحفة الأشراف: 17948)، موطا امام مالک/الجنائز 12 (37)، مسند احمد 6/107، 255 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: قَصَّهُ لَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ" إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1858]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 32 (1286) مطولاً، صحیح مسلم/الجنائز 9 (929) مطولاً، (تحفة الأشراف: 7276، 16227)، مسند احمد 1/41، 42 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: لَمَّا هَلَكَتْ أُمُّ أَبَانَ حَضَرْتُ مَعَ النَّاسِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ، فَبَكَيْنَ النِّسَاءُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَا تَنْهَى هَؤُلَاءِ عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ رَأَى رَكْبًا تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: انْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِصُهَيْبٍ، فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ أُصِيبَ عُمَرُ فَجَلَسَ صُهَيْبٌ يَبْكِي عِنْدَهُ , يَقُولُ: وَا أُخَيَّاهُ وَا أُخَيَّاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ , لَا تَبْكِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" , قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَمَا وَاللَّهِ مَا تُحَدِّثُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَاذِبَيْنِ مُكَذَّبَيْنِ , وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ، وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرْآنِ لَمَا يَشْفِيكُمْ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة النجم آية 38 , وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب ام ابان مر گئیں تو میں ( بھی ) لوگوں کے ساتھ ( تعزیت میں ) آیا ، اور عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں بیٹھ گیا ، عورتیں رونے لگیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : کیا تم انہیں رونے سے روکو گے نہیں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے “ ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کہتے تھے ، ( ایک بار ) میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم بیداء پہنچے ، تو انہوں نے ایک درخت کے نیچے کچھ سواروں کو دیکھا تو ( مجھ سے ) کہا : دیکھو ( یہ ) سوار کون ہیں ؟ چنانچہ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں ، لوٹ کر ان کے پاس آیا ، اور ان سے کہا : امیر المؤمنین ! وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں ، تو انہوں نے کہا : صہیب رضی اللہ عنہ کو میرے پاس لاؤ ، پھر جب ہم مدینہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دئیے گئے ، صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس روتے ہوئے بیٹھے ( اور ) وہ کہہ رہے تھے : ہائے میرے بھائی ! ہائے میرے بھائی ! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : صہیب ! روؤ مت ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “ ( ابن عباس ) کہتے ہیں : میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا : سنو ! اللہ کی قسم ! تم یہ حدیث نہ جھوٹوں سے روایت کر رہے ہو ، اور نہ ایسوں سے جنہیں جھٹلایا گیا ہو ، البتہ سننے ( میں ) غلط فہمی ہوئی ہے ، اور قرآن میں ( ایسی بات موجود ہے ) جس سے تمہیں تسکین ہو : «ألا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) فرمایا تھا : ” اللہ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1859]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
16: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر رونے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَزْرَقِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ , وَالْقَلْبَ مُصَابٌ , وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں ( اور ) میت پر رونے لگیں ، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے ، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے ، اور موت کا وقت قریب ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1860]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1587) سلمة: مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده من المتقدمين. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 53 (1587)، (تحفة الأشراف: 13475)، مسند احمد 2/110، 273، 408 (ضعیف) (اس کے راوی ’’سلمہ‘‘ لین الحدیث ہیں)
17: بَابُ : دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ
باب: جاہلیت کی چیخ پکار اور رونا دھونا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ. ح أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدُعَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ" وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ، وَقَالَ الْحَسَنُ بِدَعْوَى.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ۱؎ جو منہ پیٹے ، گریباں پھاڑے ، اور جاہلیت کی پکار پکارے ( یعنی نوحہ کرے ) “ ۔ یہ الفاظ علی بن خشرم کے ہیں ، اور حسن کی روایت «بدعا الجاہلیۃ» کی جگہ «بدعویٰ الجاہلیۃ» ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1861]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 35 (1294)، 38 (1297)، 39 (1298)، والمناقب 8 (3519)، صحیح مسلم/الإیمان 44 (103)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 22 (999)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1584)، (تحفة الأشراف: 9569)، مسند احمد 1/432، 442، 456 (صحیح)
18: بَابُ : السَّلْقِ
باب: میت پر رونا چلانا اور واویلا کرنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خَالِدٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ كَمَا بَرِئَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ , وَلَا خَرَقَ , وَلَا سَلَقَ".
صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، لوگ ان پر رونے لگے ، تو انہوں نے کہا : میں تم سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ کہہ کر برات کا اظہار کیا تھا کہ جو سر منڈائے کپڑے پھاڑے ، واویلا کرے ہم میں سے نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1862]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مصیبت کے موقع پر سر منڈائے جیسے ہندو منڈواتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، (تحفة الأشراف: 9004)، سنن ابی داود/الجنائز 29 (3130)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1586)، مسند احمد 4/396، 404، 405، 416 (صحیح)
19: بَابُ : ضَرْبِ الْخُدُودِ
باب: نوحہ میں منہ پیٹنا اور گالوں پر مارنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو گال پیٹے ، گریباں پھاڑے ، اور جاہلیت کی پکار پکارے ہم میں سے نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1863]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 35 (1294)، المناقب 8 (3519)، سنن الترمذی/الجنائز 22 (999)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1584)، (تحفة الأشراف: 9559)، مسند احمد 1/386، 442 (صحیح)
20: بَابُ : الْحَلْقِ
باب: مصیبت میں سر منڈانا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي بُرْدَةَ , قَالَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَصِيحُ، قَالَا: فَأَفَاقَ , فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبِرْكِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ , وَخَرَقَ , وَسَلَقَ".
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری ( کی بیماری ) سخت ہوئی ، تو ان کی عورت چلاتی ہوئی آئی ۔ ( ان کی بیماری میں کچھ ) افاقہ ہوا ، تو انہوں نے کہا : کیا میں تجھے نہ بتاؤں کہ میں ان چیزوں سے بری ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری تھے ، ان دونوں نے ان کی بیوی سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” میں اس شخص سے بری ہوں جو سر منڈائے ، کپڑے پھاڑے اور واویلا کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1864]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1586)، (تحفة الأشراف: 9020) (صحیح)
21: بَابُ : شَقِّ الْجُيُوبِ
باب: گریبان پھاڑنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے ، گریبان پھاڑے ، اور جاہلیت کی پکار پکارے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1865]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1863 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَبَكَتْ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ، فَلَمَّا أَفَاقَ , قَالَ لَهَا: أَمَا بَلَغَكِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَسَأَلْنَاهَا , فَقَالَتْ: قَالَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ , وَحَلَقَ , وَخَرَقَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان پر غشی طاری ہوئی ، تو ان کی ام ولد رو پڑی ، جب ( کچھ ) افاقہ ہوا تو انہوں نے اس سے کہا : کیا تجھے وہ بات نہیں پہنچی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے ؟ تو ہم نے اس سے پوچھا ( آپ نے کیا فرمایا تھا ؟ ) تو اس نے کہا : آپ نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے ، سر منڈائے ، اور کپڑے پھاڑے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1866]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 29 (3130)، (تحفة الأشراف: 18334)، مسند احمد 4/396، 404، 405 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ , وَسَلَقَ , وَخَرَقَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو سر منڈائے ، واویلا کرے اور کپڑے پھاڑے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1867]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، (تحفة الأشراف: 9153)، مسند احمد 4/396، 404 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى صَاحَتِ امْرَأَتُهُ , فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى، ثُمَّ سَكَتَتْ، فَقِيلَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ: أَيُّ شَيْءٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ حَلَقَ أَوْ سَلَقَ أَوْ خَرَقَ".
قرثع کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری بڑھ گئی تو ان کی بیوی چیخ مار کر رونے لگی ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کیا تجھے معلوم نہیں ؟ اس نے کہا : کیوں ، نہیں ضرور معلوم ہے ، پھر وہ خاموش ہو گئی ، تو اس سے اس کے بعد پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے ؟ اس نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہر اس شخص پر ) لعنت فرمائی ہے جو سر منڈوائے ، یا واویلا کرے ، یا گریبان پھاڑے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1868]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1866 (صحیح الإسناد)
22: بَابُ : الأَمْرِ بِالاِحْتِسَابِ وَالصَّبْرِ عِنْدَ نُزُولِ الْمُصِيبَةِ
باب: مصیبت آنے پر صبر کرنے اور اللہ سے ثواب چاہنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: أَرْسَلَتْ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، أَنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ، فَأْتِنَا فَأَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلَامَ , وَيَقُولُ: " إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَ اللَّهِ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ" , فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا، فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا هَذَا؟ قَالَ: " هَذَا رَحْمَةٌ يَجْعَلُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپ کو صلی اللہ علیہ وسلم کہلا بھیجا کہ میرا بیٹا ۱؎ مرنے کو ہے آپ آ جائیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ آپ سلام کہتے ہیں ، اور کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو ( کچھ ) لے ، اور اسی کے لیے ہے جو ( کچھ ) دے ، اور اللہ کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ، تو چاہیئے کہ تم صبر کرو ، اور اللہ سے اجر طلب کرو ، بیٹی نے ( دوبارہ ) قسم دے کے کہلا بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور آ جائیں ، چنانچہ آپ اٹھے ، آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ ، معاذ بن جبل ، ابی بن کعب ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور کچھ اور لوگ تھے ، ( بچہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر اس حال میں لایا گیا کہ اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی ، تو آپ کی آنکھوں ( سے ) آنسو بہ پڑے ، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ رکھا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1869]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد علی بن ابی العاص بن ربیع ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ بنت سے مراد فاطمہ رضی الله عنہا اور ابن سے مراد ان کے بیٹے محسن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 32 (1284)، والمرضی 9 (5655)، والقدر 4 (6602)، والأیمان والنذور 9 (6655)، والتوحید 2 (7377)، 25 (7448)، صحیح مسلم/الجنائز 6 (923)، سنن ابی داود/الجنائز 28 (3125)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 53 (1588)، (تحفة الأشراف: 98)، مسند احمد 5/204، 205، 206، 207 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر وہی ہے جو صدمہ ( غم ) پہنچتے ہی ہو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1870]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ رو پیٹ کر تو صبر سبھی کو آ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 31 (1283)، 42 (1302)، والأحکام 11 (7154)، صحیح مسلم/الجنائز 8 (926)، سنن ابی داود/الجنائز 27 (3124)، سنن الترمذی/الجنائز 13 (988)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 55 (1596)، (تحفة الأشراف: 439)، مسند احمد 3/130، 143، 217 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ وَهُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: " أَتُحِبُّهُ؟" , فَقَالَ: أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ، فَمَاتَ فَفَقَدَهُ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالَ: " مَا يَسُرُّكَ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ عِنْدَهُ يَسْعَى يَفْتَحُ لَكَ".
قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس کے ساتھ اس کا بیٹا ( بھی ) تھا ، آپ نے اس سے پوچھا : ” کیا تم اس سے محبت کرتے ہو ؟ “ تو اس نے جواب دیا : اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں ، پھر وہ ( لڑکا ) مر گیا ، تو آپ نے ( کچھ دنوں سے ) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں ( اس کے باپ سے ) پوچھا ( تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے ) آپ نے فرمایا : ” کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے ( اپنے بچے ) کو اس کے پاس پاؤ گے ، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1871]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11083)، مسند احمد 5/35، ویأتی عند المؤلف برقم: 2090 (صحیح)
23: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ
باب: صبر کرنے اور اجر و ثواب چاہنے والے کے ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ يُعَزِّيهِ بِابْنٍ لَهُ هَلَكَ، وَذَكَرَ فِي كِتَابِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ , وَقَالَ: مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ".
عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا ، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے ، اور وہ اس پر صبر کرے ، اور اجر چاہے ، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے ، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1872]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8765) (صحیح)
24: بَابُ : ثَوَابِ مَنِ احْتَسَبَ ثَلاَثَةً مِنْ صُلْبِهِ
باب: تین صلبی اولاد مر جانے پر اللہ تعالیٰ سے اجر چاہنے والے کے ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ احْتَسَبَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ" , فَقَامَتِ امْرَأَةٌ , فَقَالَتْ: أَوِ اثْنَانِ , قَالَ: " أَوِ اثْنَانِ" , قَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا لَيْتَنِي قُلْتُ وَاحِدًا.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی تین صلبی اولاد مر جائیں ( اور ) وہ اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر و ثواب چاہے ، تو وہ جنت میں داخل ہو گا “ ( اتنے میں ) ایک عورت کھڑی ہوئی اور بولی : اور دو اولاد مرنے پر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو اولاد کے مرنے پر بھی “ ، اس عورت نے کہا : کاش ! میں ایک ہی کہتی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1873]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر میں ایک بچہ مرنے کی بات آپ سے پوچھتی تو قوی امید ہے کہ آپ ایک بچہ مرنے پر بھی یہی ثواب بتاتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 549) (صحیح)
25: بَابُ : مَنْ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلاَثَةٌ
باب: جس کی تین اولاد مر جائیں اس کے ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں ، تو اللہ تعالیٰ اسے ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1874]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 6 (1248)، 91 (1381)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 57 (1605)، (تحفة الأشراف: 1036)، مسند احمد 3/152 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُمَا بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ".
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا : مجھ سے حدیث بیان کیجئے تو انہوں کہا : اچھا سنو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جس مسلمان ماں باپ کی بھی تین نابالغ اولاد مر جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے بخش دیتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1875]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11923)، مسند احمد 5/151، 153، 159، 164، سنن الدارمی/الجہاد 13 (2447) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں میں سے جس شخص کے بھی تین بچے مر جائیں ، تو اسے جہنم کی آگ صرف قسم ۱؎ پوری کرنے ہی کے لیے چھوئے گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1876]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وإن منكم إلا واردها» (مريم: 71) یعنی تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جسے جہنم پر سے نہ آنا پڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 6 (1251)، والأیمان والنذور 9 (6656)، صحیح مسلم/البر والصلة 47 (2632)، سنن الترمذی/الجنائز 64 (1060)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 57 (1603)، (تحفة الأشراف: 13234)، موطا امام مالک/الجنائز 13 (38)، مسند احمد 2/473 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمُ الْجَنَّةَ , قَالَ: يُقَالُ لَهُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ , فَيَقُولُونَ: حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا , فَيُقَالُ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس مسلمان ماں باپ کے تین نابالغ بچے مر جائیں ، تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” ان سے کہا جائے گا : جنت میں داخل ہو جاؤ ، تو وہ کہیں گے ( ہم نہیں داخل ہو سکتے ) جب تک کہ ہمارے والدین داخل نہ ہو جائیں ، ( پھر ) کہا جائے گا : ( جاؤ ) اپنے والدین کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1877]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14489)، مسند احمد 2/510 (صحیح)
26: بَابُ : مَنْ قَدَّمَ ثَلاَثَةً
باب: جو تین اولاد آگے اللہ کے پاس بھیج چکا ہو اس کے اجر و ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا يَشْتَكِي، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخَافُ عَلَيْهِ وَقَدْ قَدَّمْتُ ثَلَاثَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا بیٹا لے کر آئی جو بیمار تھا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ڈر رہی ہوں کہ یہ مر نہ جائے ، اور ( اس سے پہلے ) تین بچوں کو بھیج چکی ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے زبردست ڈھال بنا لیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1878]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البر والصلة 47 (2636)، (تحفة الأشراف: 14891)، مسند احمد 2/419، 536 (صحیح)
27: بَابُ : النَّعْىِ
باب: موت کی خبر دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ، فَنَعَاهُمْ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید اور جعفر کی موت کی اطلاع ( کسی آدمی کے ذریعہ ) ان کی ( موت ) کی خبر آنے سے پہلے دی ، اس وقت آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1879]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 4 (1246)، والجھاد 7 (2798)، 183 (3063)، والمناقب 25 (3630)، وفضائل الصحابة 25 (3757)، والمغازي 44 (4262)، (تحفة الأشراف: 820)، مسند احمد 3/113، 117 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ , وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَى لَهُمَا النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے ، اور فرمایا : ” اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1880]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 60 (1328)، ومناقب الأنصار 38 (3880)، صحیح مسلم/الجنائز 22 (951)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 62 (3204)، (تحفة الأشراف: 13176)، مسند احمد 2/529، ویأتی عند المؤلف برقم: 2044 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَعِيدٌ , حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا تَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا، فَلَمَّا تَوَسَّطَ الطَّرِيقَ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ؟" , قَالَتْ: أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْمَيِّتِ فَتَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ وَعَزَّيْتُهُمْ بِمَيِّتِهِمْ , قَالَ: " لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى" , قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ، فَقَالَ لَهَا: " لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: رَبِيعَةُ ضَعِيفٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک آپ کی نگاہ ایک عورت پہ پڑی ، ہم یہی گمان کر رہے تھے کہ آپ نے اسے نہیں پہچانا ہے ، تو جب بیچ راستے میں پہنچے تو آپ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ وہ ( عورت ) آپ کے پاس آ گئی ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ، آپ نے ان سے پوچھا : ” فاطمہ ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی ہو ؟ “ انہوں نے جواب دیا : میں اس میت کے گھر والوں کے پاس آئی ، میں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی ، اور ان کی میت کی وجہ سے ان کی تعزیت کی ، آپ نے فرمایا : ” شاید تم ان کے ساتھ کدیٰ ۱؎ تک گئی تھیں ؟ “ انہوں نے کہا : اللہ کی پناہ ! میں وہاں تک کیوں جاتی اس سلسلے میں آپ کو ان باتوں کا ذکر کرتے سن چکی ہوں جن کا آپ ذکر کرتے ہیں ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” اگر تم ان کے ساتھ وہاں جاتی تو تم جنت نہ دیکھ پاتی یہاں تک کہ تمہارے باپ کے دادا ( عبدالمطلب ) اسے دیکھ لیں “ ۲؎ ۔ نسائی کہتے ہیں : ربیعہ ضعیف ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1881]
💡 وضاحت:
۱؎: «کُدَی کُدْیَۃ» کی جمع ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں یہاں مراد قبرستان ہے۔ ۲؎: یہ جملہ «حتیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط» کے قبیل سے ہے، مراد یہ ہے کہ تم اسے کبھی نہیں دیکھ پاتی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 26 (3123)، (تحفة الأشراف: 8853)، مسند احمد 2/168، 223 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ربیعہ معافری‘‘ منکر روایت کیا کرتے تھے)
28: بَابُ : غَسْلِ الْمَيِّتِ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ
باب: میت کو پانی اور بیر کی پتیوں سے غسل دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ , فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ , وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ۱؎ کی وفات ہوئی ، آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ” اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے دو تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار اگر مناسب سمجھو غسل دو ، اور آخری بار میں کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو ( اور ) جب تم ( غسل سے ) فارغ ہو تو مجھے خبر کرو “ ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا : ” اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1882]
💡 وضاحت:
۱؎: جمہور کے قول کے مطابق یہ زینب رضی الله عنہا تھیں، اور بعض اہل سیر کی رائے ہے کہ یہ ام کلثوم رضی الله عنہا تھیں، صحیح پہلا قول ہے۔ ۲؎: شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے ملا ہو، مطلب یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو پھر کفن پہناؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 31 (167)، والجنائز 8-17 (1253-1263)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن ابی داود/الجنائز 33 (3142)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1458)، (تحفة الأشراف: 18094)، موطا امام مالک/الجنائز 1 (2)، مسند احمد 6/84، 85، 407، 408، ویأتی عند المؤلف فی بأرقام: 1887، 1888، 1891، 1894 (صحیح)
29: بَابُ : غَسْلِ الْمَيِّتِ بِالْحَمِيمِ
باب: میت کو گرم پانی سے غسل دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ: لَا تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: " مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا، فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِرَتْ مَا عُمِرَتْ".
ام قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا مر گیا ، تو میں اس پر رونے لگی اور اس شخص سے جو اسے غسل دے رہا تھا کہا : میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو کہ اس ( مرے کو مزید ) مارو ، عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور آپ کو ان کی یہ بات بتائی تو آپ مسکرا پڑے ، پھر فرمایا : ” کیا کہا اس نے ؟ اس کی عمردراز ہو “ ، ( راوی کہتے ہیں ) تو ہم نہیں جانتے کہ کسی عورت کو اتنی عمر ملی ہو جتنی انہیں ملی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1883]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا «طال عمرہا» کی برکت تھی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو الحسن مولي اُم قيس بنت محصن: مجهول،لم أجد من وثقه وجهله ابن القطان الفاسي. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18346)، مسند احمد 6/355 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”ابو الحسن‘‘ لین الحدیث ہیں)
30: بَابُ : نَقْضِ رَأْسِ الْمَيِّتِ
باب: میت کے سر (کی چوٹی) کھولنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَيُّوبُ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ، تَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ، " أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ قُلْتُ: نَقَضْنَهُ وَجَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان عورتوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کی تین چوٹیاں بنائیں ، میں نے پوچھا : اسے کھول کر انہوں نے تین چوٹیاں کر دیں ، تو انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1884]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: الجنائز 9 (1254) مطولاً، 13 (1258)، 14 (1260)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (938)، (تحفة الأشراف: 18116) (صحیح)
31: بَابُ : مَيَامِنِ الْمَيِّتِ وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهُ
باب: میت کے دائیں حصے اور وضو کے مقامات کو پہلے دھونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ , عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ: " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا".
ام عطیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے سلسلہ میں فرمایا : ” ان کے داہنے اعضاء ، اور وضو کے مقامات سے نہلانا شروع کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1885]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 31 (167)، الجنائز 10 (1255)، 11 (1256)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن ابی داود/الجنائز 33 (3145)، سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، (تحفة الأشراف: 18124) (صحیح)
32: بَابُ : غَسْلِ الْمَيِّتِ وَتْرًا
باب: میت کو طاق بار غسل دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ: مَاتَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" وَمَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا مِنْ خَلْفِهَا.
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی انتقال کر گئیں ، تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا : ” اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دینا ، اور طاق بار یعنی تین بار ، یا پانچ بار غسل دینا ، اگر ضرورت سمجھو تو سات بار دینا ، اور آخری بار تھوڑا کافور ملا لینا ( اور ) جب تم فارغ ہو چکو تو مجھے خبر کرنا “ ، تو جب ہم ( نہلا کر ) فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا ، اور فرمایا : ” اسے ( ان کے جسم پہ ) لپیٹ دو “ ، ( پھر ) ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں ، اور انہیں ان کے پیچھے ڈال دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1886]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 17 (1263)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، (تحفة الأشراف: 18135)، مسند احمد 6/407، 408 (صحیح)
33: بَابُ : غَسْلِ الْمَيِّتِ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسٍ
باب: میت کو پانچ بار سے زیادہ نہلانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹی کو نہلا رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” انہیں پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین یا پانچ بار غسل دو ، یا اگر مناسب سمجھو اس سے بھی زیادہ ، اور آخری بار کافور یا کافور کی کچھ ( مقدار ) ملا لینا ، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو “ ۔ چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا ، اور فرمایا : ” اسے ان کے جسم سے لپیٹ دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1887]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)
34: بَابُ : غَسْلِ الْمَيِّتِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعَةٍ
باب: میت کو سات بار سے زیادہ غسل دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" ‏.
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی ، تو آپ نے ہمیں بلوایا ( اور ) فرمایا : ” اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی کچھ ( مقدار ) ملا لینا ، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو “ ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی ، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : ” اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1888]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ".
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، مگر ( اس میں یہ الفاظ ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر اس کی ضرورت سمجھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1889]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 9 (1254)، 13 (1258)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1459)، (تحفة الأشراف: 18115) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَتِهِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ" , قَالَتْ: قُلْتُ: وِتْرًا، قَالَ: " نَعَمْ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ , وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی ، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا : ” تین بار ، یا پانچ بار ، یا سات بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو “ ، تو میں نے کہا : طاق بار ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو ، ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے باخبر کرنا “ ، چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے ، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا ، اور فرمایا : ” اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1890]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18143) (صحیح)
35: بَابُ : الْكَافُورِ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کے غسل کے پانی میں کافور ملانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" , قَالَ: أَوْ قَالَتْ حَفْصَةُ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا , قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ,
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” انہیں پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین بار ، یا پانچ بار ، غسل دو “ ، یا اس سے زیادہ ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی مقدار ملا لو ( اور ) جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو “ ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کی ، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : ” اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو “ ، راوی کہتے ہیں یا حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں : اسے تین ، پانچ ، یا سات بار غسل دو ، راوی کہتے ہیں : ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1891]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ" ,
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1892]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 15 (939)، سنن ابی داود/الجنائز 33 (3143)، (تحفة الأشراف: 18133)، مسند احمد 6/407 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَالَتْ حَفْصَةُ , عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ" وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ".
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1893]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1884 (صحیح)
36: بَابُ : الإِشْعَارِ
باب: میت کے بدن پر کپڑا لپیٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمَتْ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، حَدَّثَتْنَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" , وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ , قَالَ: لَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ , قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَزَّرُ بِهِ؟ قَالَ: لَا أُرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ: " الْفُفْنَهَا فِيهِ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں ام عطیہ رضی اللہ عنہا ایک انصاری عورت تھیں ، وہ ( بصرہ ) آئیں ، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پا سکیں ، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں پانی اور بیر ( کی پتیوں ) سے تین بار ، یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو ، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ “ ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : ” اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو “ ، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا ۔ ( ایوب نے ) کہا : میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھی ں ، راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا ” اشعار “ سے کیا مراد ہے ؟ کیا ازار ( تہبند ) پہنانا مقصود ہے ؟ ایوب نے کہا : میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1894]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ النَّسَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وَالْمَاءِ , وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِ ذَلِكِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي قَالَتْ: فَآذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی موت ہو گئی تو آپ نے فرمایا : ” انہیں تین یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو ، اور انہیں بیر ( کے پتوں ) اور پانی سے غسل دو ، اور کچھ کافور ملا لو ، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو “ ، وہ کہتی ہیں : میں نے آپ کو خبر کیا ، تو آپ نے ہماری طرف اپنی لنگی پھینکی اور فرمایا : ” اسے ( ان کے جسم سے ) لپیٹ دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1895]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 12 (1257)، (تحفة الأشراف: 18104) (صحیح)
37: بَابُ : الأَمْرِ بِتَحْسِينِ الْكَفَنِ
باب: کفن اچھا دینے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ الْقَطَّانُ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قال: أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلًا وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ , فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفْنَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا ، اور اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا تھا ، اور ایک گھٹیا کفن میں اس کی تکفین کی گئی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی آدمی رات میں دفنایا جائے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو ، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی ( کے کفن دفن کا ) ولی ہو تو اسے چاہیئے کہ اسے اچھا کفن دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1896]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 15 (943)، سنن ابی داود/الجنائز 34 (3148)، (تحفة الأشراف: 2805)، مسند احمد 3/295، ویأتی عند المؤلف برقم: 2016 (صحیح)
38: بَابُ : أَىُّ الْكَفَنِ خَيْرٌ
باب: کون سا کفن بہترین ہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ".
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے ، نیز اپنے مردوں کو ( بھی ) اسی میں کفنایا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1897]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4640)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 46 (2810)، سنن ابن ماجہ/اللباس 5 (3567)، مسند احمد 5/10، 12، 13، 17، 18، 19، 21، ویأتی عند المؤلف برقم: 5324 (صحیح)
39: بَابُ : كَفَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے کفن کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "" كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ"".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1898]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16670)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 18 (1264)، 23 (1271)، 24 (1272)، 94 (1387)، صحیح مسلم/الجنائز 13 (941)، سنن ابی داود/الجنائز 34 (3151)، سنن الترمذی/الجنائز 20 (996)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 11 (1469)، موطا امام مالک/الجنائز 2 (5)، مسند احمد 6/40، 93، 118، 132، 165، 231 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنائے گئے جن میں نہ تو قمیص تھی اور نہ عمامہ ( پگڑی ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1899]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 24 (1273)، (تحفة الأشراف: 17160)، موطا امام مالک/الجنائز 2 (5) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ"، فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ قَوْلُهُمْ: فِي ثَوْبَيْنِ وَبُرْدٍ مِنْ حِبَرَةٍ , فَقَالَتْ: قَدْ أُتِيَ بِالْبُرْدِ وَلَكِنَّهُمْ رَدُّوهُ وَلَمْ يُكَفِّنُوهُ فِيهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا جس میں نہ تو قمیص تھی ، اور نہ عمامہ ( پگڑی ) ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو کپڑوں اور ایک یمنی چادر کے متعلق لوگوں کی گفتگو کا ذکر کیا گیا ، تو انہوں نے کہا : چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا ، اور آپ کو اس میں نہیں کفنایا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1900]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 13 (941)، سنن ابی داود/الجنائز 34 (3152)، سنن الترمذی/الجنائز 20 (996)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 11 (1469)، (تحفة الأشراف: 16786) (صحیح)
40: بَابُ : الْقَمِيصِ فِي الْكَفَنِ
باب: کفن میں قمیص کے ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ , ثُمَّ قَالَ: " إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي أُصَلِّي عَلَيْهِ" فَجَذَبَهُ عُمَرُ وَقَالَ: قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ , فَقَالَ: " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ قَالَ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84" فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) مر گیا ، تو اس کے بیٹے ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ( اور ) عرض کیا : ( اللہ کے رسول ! ) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں ، اور آپ ان پر نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے ، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی ، پھر فرمایا : ” جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھوں گا “ ( اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچا ، اور کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں دو اختیارات کے درمیان ہوں ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا : «‏استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ” تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے “ ( التوبہ : ۸۰ ) چنانچہ آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی ، تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ” تم ان ( منافقین ) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو ، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو “ ( التوبہ : ۸۴ ) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1901]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 22 (1269)، وتفسیر التوبة 12 (4670)، 13 (4672)، واللباس 8 (5796)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2400)، وصفات المنافقین (2774)، سنن الترمذی/تفسیر التوبة (3098)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 31 (1523)، (تحفة الأشراف: 8139)، مسند احمد 2/18 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، قال: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ وُضِعَ فِي حُفْرَتِهِ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ لَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ" وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر آئے ، اور اسے اس کی قبر میں رکھا جا چکا تھا ، تو آپ اس پر کھڑے ہوئے ، اور اس کے نکالنے کا حکم دیا تو اسے نکالا گیا ، تو آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا ، اور اپنی قمیص پہنائی اور اس پر تھو تھو کیا ، واللہ تعالیٰ اعلم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1902]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 22 (1270)، 77 (1350)، واللباس 8 (5795)، صحیح مسلم/صفات المنافقین (2773)، (تحفة الأشراف: 2531)، مسند احمد 3/371، 381، ویأتي عند المؤلف برقم: 2021 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: " وَكَانَ الْعَبَّاسُ بِالْمَدِينَةِ فَطَلَبَتِ الْأَنْصَارُ ثَوْبًا يَكْسُونَهُ فَلَمْ يَجِدُوا قَمِيصًا يَصْلُحُ عَلَيْهِ إِلَّا قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَكَسَوْهُ إِيَّاهُ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مدینے میں تھے ، تو انصار نے ایک کپڑا تلاش کیا جو انہیں پہنائیں ، تو عبداللہ بن ابی کی قمیص کے سوا کوئی قمیص نہیں ملی جو ان پر فٹ آتی ، تو انہوں نے انہیں وہی پہنا دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1903]
💡 وضاحت:
۱؎: اور اسی احسان کے بدلے کے طور پر آپ نے مرنے پر عبداللہ بن ابی کو اپنی قمیص دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قال: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، قال: سَمِعْتُ شَقِيقًا، قال: حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قال: " هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً، كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ , وَإِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا" , وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ.
خباب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ، ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہ رہے تھے ، اللہ تعالیٰ پر ہمارا اجر ثابت ہو گیا ، پھر ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو مر گئے ( اور ) اس اجر میں سے ( دنیا میں ) کچھ بھی نہیں چکھا ، انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں ، جو جنگ احد میں قتل کئے گئے ، تو ہم نے سوائے ایک ( چھوٹی ) دھاری دار چادر کے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جس میں انہیں کفناتے ، جب ہم ان کا سر ڈھکتے تو پیر کھل جاتا ، اور جب پیر ڈھکتے تو سر کھل جاتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور ان کے پیروں پہ اذخر نامی گھاس ڈال دیں ، اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کے پھل پکے اور وہ اسے چن رہے ہیں ( یہ الفاظ اسماعیل کے ہیں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1904]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 27 (1276)، ومناقب الأنصار 45 (3897، 3914)، والمغازي 17 (4047)، 26 (4082)، والرقاق 7 (6432)، 16 (6448)، صحیح مسلم/الجنائز 13 (940)، سنن ابی داود/الوصایا 11 (2876)، سنن الترمذی/المناقب 54 (3853)، مسند احمد 5/109، 111، 112، 6/395، (تحفة الأشراف: 3514) (صحیح)
41: بَابُ : كَيْفَ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ إِذَا مَاتَ
باب: محرم جب مر جائے تو اس کی تکفین کیسے کی جائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوا الْمُحْرِمَ فِي ثَوْبَيْهِ اللَّذَيْنِ أَحْرَمَ فِيهِمَا , وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ , وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحْرِمًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” محرم کو اس کے ان ہی دونوں کپڑوں میں غسل دو جن میں وہ احرام باندھے ہوئے تھا ، اور اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے نہلاؤ ، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفناؤ ، نہ اسے خوشبو لگاؤ ، اور نہ ہی اس کا سر ڈھکو ، کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام باندھے ہوئے اٹھے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1905]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 21 (1268)، وجزاء الصید 13 (1839)، 20 (1849)، 21 (1851)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن ابی داود/الجنائز 84 (3238، 3239)، سنن الترمذی/الحج 105 (951)، سنن ابن ماجہ/الحج 89 (3084)، (تحفة الأشراف: 5582)، مسند احمد 1/215، 220، 266، 286، 346، سنن الدارمی/المناسک 35 (1894)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2715، 2861 (صحیح)
42: بَابُ : الْمِسْكِ
باب: مشک کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَشَبَابَةُ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، سَمِعَ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْيَبُ الطِّيبِ الْمِسْكُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمدہ ترین خوشبو مشک ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1906]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأدب 5 (2252)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 37 (3158)، سنن الترمذی/الجنائز 16 (991، 992)، (تحفة الأشراف: 4311)، مسند احمد 3/31، 36، 40، 46، 47، 62، 68، 87، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 5122، 5266 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ خَيْرِ طِيبِكُمُ الْمِسْكُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے بہترین خوشبوؤں میں سے مشک ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1907]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 37 (3158)، (تحفة الأشراف: 4381)، مسند احمد 3/36، 62 (صحیح)
43: بَابُ : الإِذْنِ بِالْجَنَازَةِ
باب: جنازہ کی خبر دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَضِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي" , فَأُخْرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلًا وَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْهَا فَقَالَ: " أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ لَيْلًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکینوں اور غریبوں کی بیمار پرسی کرتے اور ان کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا “ ، رات میں اس کا جنازہ لے جایا گیا ( تو ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ جانا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو ( رات میں ) جو کچھ ہوا تھا آپ کو اس کی خبر دی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کرنا ؟ “ تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو رات میں جگانا نا مناسب سمجھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے صحابہ کے ساتھ ) نکلے یہاں تک کہ اس کی قبر پہ لوگوں کی صف بندی ۱؎ کی اور چار تکبیریں کہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1908]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں قبر پر دوبارہ نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں وہ اسے اسی عورت کے ساتھ خاص مانتے ہیں لیکن یہ دعویٰ محتاج دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 137)، موطا امام مالک/الجنائز 5 (15)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1971، 1983 (صحیح)
44: بَابُ : السُّرْعَةِ بِالْجَنَازَةِ
باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ يَعْنِي السُّوءَ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ: يَا وَيْلِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي؟!".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب نیک بندہ اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے ، تو وہ کہتا ہے : مجھے جلدی لے چلو ، مجھے جلدی لے چلو ، اور جب برا آدمی اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے ، تو کہتا ہے : ہائے میری تباہی ! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1909]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13623)، مسند احمد 2/292، 474، 500 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً , قَالَتْ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ , قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا إِلَى أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا؟! يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب جنازہ ( چارپائی پر ) رکھا جاتا ہے ( اور ) لوگ اسے اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہیں ، تو اگر وہ نیکوکار ہوتا ہے تو کہتا ہے : مجھے جلدی لے چلو ، مجھے جلدی لے چلو ، اور اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے : ہائے اس کی ہلاکت ! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو ، اس کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے ، اگر انسان اسے سن لے تو بیہوش ہو جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1910]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 50 (1314)، 52 (1316)، 90 (1380)، (تحفة الأشراف: 4287)، مسند احمد 3/41، 58 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ تَكُ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازے کو تیز لے چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف ( جلد ) لے جاؤ گے ، اور اگر اس کے علاوہ ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم ( جلد ) اپنی گردنوں سے اتار پھینکو گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1911]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 51 (1315)، صحیح مسلم/الجنائز 16 (944)، سنن ابی داود/الجنائز 50 (3181)، سنن الترمذی/الجنائز 30 (1015)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1477)، (تحفة الأشراف: 13124)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (56)، (موقوفاً علی أبي ھریرة)، مسند احمد 2/240 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَدَّمْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَتْ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جنازے کو جلدی لے چلو ، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے ، اور اگر بد ہے تو شر کو اپنی گردنوں سے ( جلد ) اتار پھینکو گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1912]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 16 (944)، (تحفة الأشراف: 12187)، مسند احمد 2/240، 280 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: " شَهِدْتُ جَنَازَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، وَخَرَجَ زِيَادٌ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ السَّرِيرِ , فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَوَالِيهِمْ يَسْتَقْبِلُونَ السَّرِيرَ وَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ وَيَقُولُونَ: رُوَيْدًا رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ , فَكَانُوا يَدِبُّونَ دَبِيبًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ الْمِرْبَدِ لَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ عَلَى بَغْلَةٍ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ وَأَهْوَى إِلَيْهِمْ بِالسَّوْطِ , وَقَالَ: خَلُّوا , فَوَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ نَرْمُلُ بِهَا رَمَلًا فَانْبَسَطَ الْقَوْمُ".
عبدالرحمٰن بن جوشن کہتے ہیں میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں موجود تھا ، زیاد نکلے تو وہ چارپائی کے آگے چل رہے تھے ، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ اور ان کے غلام چارپائی کو سامنے کر کے اپنی ایڑیوں کے بل چلنے لگے ، وہ کہہ رہے تھے : آہستہ چلو ، آہستہ چلو ، اللہ تمہیں برکت دے ، تو وہ لوگ رینگنے کے انداز میں چلنے لگے ، یہاں تک کہ جب ہم مربد کے راستے میں تھے تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک خچر پر ( سوار ) ملے ، جب انہوں نے انہیں ( ایسا ) کرتے دیکھا ، تو اپنے خچر پر ( سوار ) ان کے پاس گئے اور کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا ، اور کہا : قسم ! اس ذات کی جس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت بخشی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے ، تو لوگ ( یہ سن کر ) خوش ہوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1913]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 50 (3183)، (تحفة الأشراف: 11695)، مسند احمد 5/36، 37، 38 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَهُشَيْمٌ , عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قال: " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ نَرْمُلُ بِهَا رَمَلًا" , وَاللَّفْظُ حَدِيثُ هُشَيْمٍ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( صحابہ کرام ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے ۔ یہ الفاظ ہشیم کی روایت کے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1914]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جَنَازَةٌ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہارے ( سامنے ) سے جنازہ گزرے تو کھڑے ہو جاؤ ، ( اور ) جو ( جنازے ) کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1915]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 48 (1310)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (959)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 47 (3173)، سنن الترمذی/الجنائز 51 (1043)، (تحفة الأشراف: 4420)، مسند احمد 3/25، 41، 43، 48، 51، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1918، 2000 (صحیح)
45: بَابُ : الأَمْرِ بِالْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ
باب: جنازہ کے لیے کھڑے ہونے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَلَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ".
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے ( اور ) اس کے ساتھ جا نہ رہا ہو تو وہ کھڑا رہے یہاں تک کہ ( جنازہ ) اس سے آگے نکل جائے یا آگے نکلنے سے پہلے رکھ دیا جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1916]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 46 (1307)، 47 (1308)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (958)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3172)، سنن الترمذی/الجنائز 51 (1041، 1042)، سنن ابن ماجہ/فیہ 35 (1542)، (تحفة الأشراف: 5041)، مسند احمد 3/445، 446، 447 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ".
عامر بن ربیعہ عدوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے ، یا رکھ دیا جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1917]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ ، ( اور ) جو اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے وہ نہ بیٹھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1918]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1915 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: " مَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِدَ جَنَازَةً قَطُّ فَجَلَسَ حَتَّى تُوضَعَ".
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ جنازے کے ساتھ ہوں ، ( اور ) بیٹھ گئے ہوں یہاں تک کہ وہ رکھ دیا جائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1919]
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4040، 13059) (حسن الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قال: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ. ح وأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قال: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ , وَقَالَ عَمْرٌو: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ ( لے کر ) گزرے ، تو آپ کھڑے ہو گئے ، اور عمرو بن علی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1920]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4088)، مسند احمد 3/47، 53 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قال: أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ" كَانُوا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَعَتْ جَنَازَةٌ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ مَنْ مَعَهُ فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى نَفَذَتْ".
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے ( اتنے میں ) ایک جنازہ نظر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے ، اور جو ان کے ساتھ تھے وہ بھی کھڑے ہو گئے ، تو وہ لوگ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ نکل گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1921]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11826)، مسند احمد 4/388 (صحیح الإسناد)
46: بَابُ : الْقِيَامِ لِجَنَازَةِ أَهْلِ الشِّرْكِ
باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قال: كَانَ سَهْلُ ابْنُ حُنَيْفٍ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا، فَقِيلَ لَهُمَا: إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ , فَقَالَا: " مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: أَلَيْسَتْ نَفْسًا".
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ قادسیہ میں تھے ۔ ان دونوں کے قریب سے ایک جنازہ لے جایا گیا ، تو دونوں کھڑے ہو گئے تو ان سے کہا گیا : یہ تو ذمی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا تو آپ کھڑے ہو گئے ، تو آپ سے عرض کیا گیا یہ تو یہودی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” کیا یہ روح نہیں ہے ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1922]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 49 (1312، 1313)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (961)، (تحفة الأشراف: 4662) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ , فَقَالَ: " إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا" , اللَّفْظُ لِخَالِدٍ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک جنازہ ہمارے پاس سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے ، اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہو گئے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ جنازہ ( ایک ) یہودی عورت کا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موت ایک قسم کی ہیبت ہے ، تو جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ “ ، یہ الفاظ خالد کے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1923]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 49 (1311)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (960)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3174)، (تحفة الأشراف: 2386)، مسند احمد 3/319، 334، 354 (صحیح)
47: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْقِيَامِ
باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہونے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قال: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: أَمْرُ أَبِي مُوسَى , فَقَالَ: " إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيَّةٍ وَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ".
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ( اتنے میں ) ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے ، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : ابوموسیٰ اشعری کا حکم ہے ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے تھے ، ( پھر ) اس کے بعد آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1924]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن أبى نجيح مدلس وعنعن. وله شاهد ضعيف، عند الحميدي (50 بتحقيقي) وأحمد (1/ 141.142) وغيرهما. وحديث مسلم (962 [2227.2230]) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 371
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10185)، مسند احمد 1/141، 142، 4/413 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ , فَقَالَ الْحَسَنُ: " أَلَيْسَ قَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ , ثُمَّ جَلَسَ".
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک جنازہ حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا ، تو حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نہیں کھڑے ہوئے ، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کا جنازہ ( دیکھ کر ) کھڑے نہیں ہوئے تھے ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : ہاں ، پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1925]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی پھر اس کے بعد کسی جنازے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3409)، مسند احمد 1/200، 201، 337، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1926، 1927، 1928 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قال: مُرَّ بِجَنَازَةٍ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ , فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَمَا قَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَامَ لَهَا ثُمَّ قَعَدَ".
اس سند سے بھی ابن سیرین کہتے ہیں کہ حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا ، تو حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نہیں کھڑے ہوئے ، تو حسن رضی اللہ عنہ نے ابن عباس سے کہا : کیا اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہوئے تھے ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : کھڑے ہوئے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1926]
💡 وضاحت:
۱؎: جمہور نے اس سے کھڑے ہونے والی روایت کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا کھڑا نہ ہونا بیان جواز کے لیے رہا ہو، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ مَرَّتْ بِهِمَا جِنَازَةٌ فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَقَعَدَ الآخَرُ , فَقَالَ الَّذِي قَامَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَامَ، قَالَ لَهُ الَّذِي جَلَسَ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَسَ".
اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما اور حسن بن علی رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو ان میں سے ایک کھڑے ہو گئے ، اور دوسرے بیٹھے رہے ، تو جو کھڑے ہو گئے تھے انہوں نے کہا : سنو ! اللہ کی قسم ! مجھے یہی معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے ، تو جو بیٹھے رہ گئے تھے انہوں نے کہا : مجھے ( یہ بھی ) معلوم ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بعد میں ) بیٹھے رہنے لگے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1927]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1925 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ جَالِسًا فَمُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ , فَقَامَ النَّاسُ حَتَّى جَاوَزَتِ الْجَنَازَةُ، فَقَالَ الْحَسَنُ: " إِنَّمَا مُرَّ بِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَرِيقِهَا جَالِسًا، فَكَرِهَ أَنْ تَعْلُوَ رَأْسَهُ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَامَ".
محمد بن علی الباقر کہتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ جنازہ گزر گیا ، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا : ایک یہودی کا جنازہ گزرا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی راستے میں بیٹھے تھے تو آپ نے ناپسند کیا کہ ایک یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے بلند ہو تو آپ کھڑے ہو گئے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1928]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ تاویل حسن رضی الله عنہ کی ہے جو ان کے ذہن میں آئی، لیکن احادیث سے جو بات سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی وجہ موت کی ہیبت اور اس کی سنگینی تھیں جیسا کہ «إن للموت فزعاً» والی روایت سے ظاہر ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی متعدد وجہیں رہی ہوں، ان میں سے ایک یہ بھی ہو کیونکہ ایک روایت میں ہے: ہم فرشتوں کی تکریم میں کھڑے ہوئے ہیں نہ کہ جنازہ کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1925 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے جو آپ کے پاس سے گزرا یہاں تک کہ وہ ( نظروں سے ) اوجھل ہو گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1929]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 24 (958، 959)، (تحفة الأشراف: 2818)، مسند احمد 3/295، 346 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
وأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَيْضًا، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ".
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ایک یہودی کے جنازے کے لیے سے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ وہ ( نظروں سے ) اوجھل ہو گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1930]
قال الشيخ الألباني: صحيح أيضاً
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، " أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ , فَقِيلَ: إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ , فَقَالَ: " إِنَّمَا قُمْنَا لِلْمَلَائِكَةِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ، آپ سے کہا گیا : یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم فرشتوں ( کی تکریم میں ) کھڑے ہوئے ہیں ، ( نہ کہ جنازہ کی ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1931]
قال الشيخ الألباني: صحيح أيضاً
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وللحديث شاهد ضعيف، عند أحمد (4/ 413). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1162) (صحیح الإسناد)
48: بَابُ : اسْتِرَاحَةِ الْمُؤْمِنِ بِالْمَوْتِ
باب: موت سے مومن کو آرام مل جاتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ: " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ" , فَقَالُوا: مَا الْمُسْتَرِيحُ وَمَا الْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ قَالَ: " الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ".
ابوقتادہ بن ربعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ( یہ ) «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے ، تو لوگوں نے پوچھا : «مستریح» اور «مستراح منہ» سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ مومن ( موت کے بعد ) دنیا کی بلا اور تکلیف سے راحت پا لیتا ہے ، اور فاجر ۱؎ بندہ مرتا ہے تو اس سے اللہ کے بندے ، بستیاں ، پیڑ پودے ، اور چوپائے ( سب ) راحت پا لیتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1932]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض لوگوں نے کہا ہے فاجر سے مراد کافر ہے کیونکہ یہاں مومن کے بالمقابل استعمال ہوا ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ اسے کافر اور فاجر دونوں کے لیے عام مانا جائے، کیونکہ کافر کی طرح فاجر مسلمان بھی بندگان اللہ کو اپنے مظالم کا شکار بناتے ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق 42 (6512)، صحیح مسلم/الجنائز 21 (950)، (تحفة الأشراف: 12128)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (54)، مسند احمد 5/296، 202، 304 (صحیح)
49: بَابُ : الاِسْتِرَاحَةِ مِنَ الْكُفَّارِ
باب: کفار و مشرکین کی موت سے لوگوں راحت ملتی ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ , قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَتْ جَنَازَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْ أَوْصَابِ الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا وَأَذَاهَا، وَالْفَاجِرُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے ، ( کیونکہ ) جب مومن مرتا ہے تو دنیا کی مصیبتوں ، بلاؤں اور تکلیفوں سے نجات پا لیتا ہے ، اور فاجر مرتا ہے تو اس سے ( اللہ کے ) بندے ، ملک و شہر ، پیڑ پودے ، اور چوپائے ( سب ) راحت پا لیتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1933]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
50: بَابُ : الثَّنَاءِ
باب: مردے کی تعریف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قال: مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ"، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ"، فَقَالَ عُمَرُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ: وَجَبَتْ، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتَ: وَجَبَتْ، فَقَالَ: " مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ، ( پھر ) ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا ، تو اس کی مذمت کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی ، تو آپ نے فرمایا : واجب ہو گئی پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا تو اس کی مذمت کی گئی ، تو آپ نے فرمایا : واجب ہو گئی ؟ ، تو آپ نے فرمایا : ” تم لوگوں نے جس کی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ، اور جس کی مذمت کی تھی اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی ، تم ۱؎ روئے زمین پر اللہ کے گواہ ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1934]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض لوگوں نے کہا ہے یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم کے ساتھ مخصوص ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس خطاب میں صحابہ رضی الله عنہم کرام کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ان کے طریقہ پر کاربند ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 85 (1367)، والشھادات 6 (2642)، صحیح مسلم/الجنائز 20 (949)، (تحفة الأشراف: 1004)، سنن الترمذی/الجنائز 63 (1058)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 20 (1491)، مسند احمد 3/179، 186، 197، 245، 281 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَامِرٍ، وَجَدَّهُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ" , ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَوْلُكَ الْأُولَى وَالْأُخْرَى وَجَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَلَائِكَةُ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي السَّمَاءِ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے ، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” : واجب ہو گئی “ ، پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے ، تو لوگوں نے اس کی مذمت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کے پہلی بار اور دوسری بار «وجبت» کہنے سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے آسمان پر اللہ کے گواہ ہیں ، اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1935]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 80 (3233)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 20 (1492)، (تحفة الأشراف: 13538)، مسند احمد 2/466، 470 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قال: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ , ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، فَقُلْتُ: وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قال: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ قَالُوا خَيْرًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ" , قُلْنَا: أَوْ ثَلَاثَةٌ , قَالَ: أَوْ ثَلَاثَةٌ , قُلْنَا: أَوِ اثْنَانِ , قَالَ: أَوِ اثْنَانِ.
ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا ، تو اس کی تعریف کی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : واجب ہو گئی ، پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا ، تو اس کی ( بھی ) تعریف کی گئی ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : واجب ہو گئی ، پھر ایک تیسرا جنازہ لے جایا گیا ، تو اس کی مذمت کی گئی ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : واجب ہو گئی ، تو میں نے پوچھا : امیر المؤمنین ! کیا واجب ہو گئی ؟ انہوں نے کہا : میں نے وہی بات کہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی : ” جس مسلمان کے لیے بھی چار لوگوں نے خیر کی گواہی دی تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا “ ، ہم نے پوچھا : ( اگر ) تین گواہی دیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین ہی سہی “ ، ( پھر ) ہم نے پوچھا : ( اگر ) دو گواہی دیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو ہی سہی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1936]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 85 (1368)، والشھادات 6 (2643)، سنن الترمذی/الجنائز 63 (1059)، (تحفة الأشراف: 10472)، مسند احمد 1/21، 22، 45، 30، 46 (صحیح)
51: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ ذِكْرِ الْهَلْكَى إِلاَّ بِخَيْرٍ
باب: مردوں کا تذکرہ بھلائی کے ساتھ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَالِكٌ بِسُوءٍ، فَقَالَ: " لَا تَذْكُرُوا هَلْكَاكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرے ہوئے شخص کا ذکر برائی سے کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” تم اپنے مردوں کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ کیا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1937]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17862) (صحیح)
52: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ سَبِّ الأَمْوَاتِ
باب: مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مردوں کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا تھا ، اس تک پہنچ چکے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1938]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انہیں اپنے اعمال کی جزا و سزا مل رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 97 (1393)، والرقاق 42 (6516)، (تحفة الأشراف: 17576)، مسند احمد 6/180، سنن الدارمی/السیر 68 (2553) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ , فَيَرْجِعُ اثْنَانِ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى وَاحِدٌ عَمَلُهُ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردے ( کے ساتھ ) تین چیزیں ( قبرستان تک ) جاتی ہیں : اس کے گھر والے ، اس کا مال ، اور اس کا عمل ، ( پھر ) دو چیزیں یعنی اس کے گھر والے اور اس کا مال لوٹ آتے ہیں ، اور ایک باقی رہ جاتا ہے اور وہ اس کا عمل ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1939]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق 42 (6514)، صحیح مسلم/الزھد 1 (2960)، سنن الترمذی/فیہ 46 (2379)، (تحفة الأشراف: 540)، مسند احمد 3/110 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں : جب بیمار ہو تو وہ اس کی عیادت کرے ، جب مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک رہے ، جب دعوت کرے تو اسے قبول کرے ، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے ، جب چھینکے اور «الحمد للہ» کہے تو جواب میں «یرحمک اللہ» کہے ، اور اس کی خیر خواہی کرے خواہ اس کے پیٹھ پیچھے ہو یا سامنے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1940]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب 1 (2737)، (تحفة الأشراف: 13066)، مسند احمد 2/321، 372، 412، 540 (صحیح) و ورد عندخ و م بلفظ ’’خمس‘‘أی بعدم ذکر ’’وینصح لہ إذا۔۔۔ الخ‘‘ راجع خ /الجنائز 2 (1240)، صحیح مسلم/السلام 3 (2162)
53: بَابُ : الأَمْرِ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ
باب: جنازہ کے ساتھ ساتھ جانے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ. ح وَأَنْبَأَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قال هَنَّادٌ , قال الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَقال سُلَيْمَانُ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ , أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ , وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ , وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ , وَنُصْرَةِ الْمَظْلُومِ , وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ , وَإِجَابَةِ الدَّاعِي , وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ , وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ , وَعَنِ الْمَيَاثِرِ , وَالْقَسِّيَّةِ , وَالْإِسْتَبْرَقِ , وَالْحَرِيرِ , وَالدِّيبَاجِ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ، اور سات باتوں سے منع فرمایا : ہمیں آپ نے مریض کی عیادت کرنے ، چھینکنے والے کے جواب میں «یرحمک اللہ» کہنے ، قسم پوری کرانے ، مظلوم کی مدد کرنے ، سلام کو عام کرنے ، دعوت دینے والوں ( کی دعوت ) قبول کرنے ، اور جنازے کے ساتھ جانے کا حکم دیا ، اور ہمیں آپ نے سونے کی انگوٹھیاں پہننے سے ، چاندی کے برتن ( میں کھانے ، پینے ) سے ، میاثر ، قسّیہ ، استبرق ۱؎ ، حریر اور دیباج نامی ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1941]
💡 وضاحت:
۱؎: استبرق، حریر اور دیباج یہ تینوں ریشمی کپڑوں کی قسمیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 2 (1239)، والمظالم 5 (2445)، وانکاح 71 (5175)، والأشربة 28 (5635)، والمرضی 4 (5650)، واللباس 28 (5838)، 36 (5849)، 45 (5863)، والأدب 124 (6222)، والاستئذان 8 (6654)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2066)، سنن الترمذی/الأدب 45 (2809)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 12 (2115)، (تحفة الأشراف: 1916)، مسند احمد 4/284، 287، 299، ویأتی عند المؤلف برقم: 3809 (صحیح)
54: بَابُ : فَضْلِ مَنْ يَتْبَعُ جَنَازَةً
باب: جنازے کے ساتھ جانے والے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ بُرْدٍ أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، قال: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطٌ، وَمَنْ مَشَى مَعَ الْجَنَازَةِ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطَانِ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جنازے کے ساتھ گیا ، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس پر جنازہ کی نماز پڑھی گئی اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے ، اور جو شخص کسی جنازے کے ساتھ گیا ، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک وہ دفن کر دیا گیا ، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے ، اور ایک قیراط احد ( پہاڑ ) کے مثل ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1942]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1915)، مسند احمد 4/294 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، فَإِنْ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ".
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی جنازے کے ساتھ جائے ، اور اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو لیا جائے ، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے ، اور اگر لوٹ آئے قبل اس کے کہ اس سے فارغ ہوا جائے ، تو اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1943]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9653)، مسند احمد 4/86، و5/57 (صحیح)
55: بَابُ : مَكَانِ الرَّاكِبِ مِنَ الْجَنَازَةِ
باب: سوار جنازے کے کس طرف رہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَخُوهُ الْمُغِيرَةُ جَمِيعًا، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ، وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوار جنازے کے پیچھے رہے ، پیدل چلنے والا جہاں چاہے رہے ، اور بچوں پہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1944]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 49 (3180) مطولاً، سنن الترمذی/الجنائز 42 (1031)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1481) مختصراً، 26 (1507)، (تحفة الأشراف: 11490)، مسند احمد 4/247، 248، 249، 252، ویأتی عند المؤلف برقم: 1945، 1950 (صحیح)
56: بَابُ : مَكَانِ الْمَاشِي مِنَ الْجَنَازَةِ
باب: پیدل چلنے والا جنازہ کے کس طرف رہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الْحَرَّانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَمِّهِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ، وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوار جنازے کے پیچھے رہے ، پیدل چلنے والا ( آگے پیچھے دائیں بائیں ) جہاں چاہے رہے ، اور بچوں پہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1945]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1944 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , وَقُتَيْبَةُ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1946]
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 49 (3179)، سنن الترمذی/الجنائز 26 (1007، 1008)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 16 (1482)، (تحفة الأشراف: 6820)، موطا امام مالک/الجنائز 3 (8) (مرسلاً)، مسند احمد 2/8، 122 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَمَنْصُورٌ , وَزِيَادٌ , وَبَكْرٌ هُوَ ابْنُ وَائِلٍ، كُلُّهُمْ ذَكَرُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا مِنَ الزُّهْرِيِّ يُحَدِّثُ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يَمْشُونَ بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَازَةِ" , بَكْرٌ وَحْدَهُ لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانَ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنازے کے آگے ( پیدل ) چلتے دیکھا ہے ۔ صرف راوی بکر نے عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ نسائی کہتے ہیں : اس حدیث کا موصول ہونا غلط ہے ، اور درست مرسل ہونا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1947]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
57: بَابُ : الأَمْرِ بِالصَّلاَةِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: مردے پر نماز جنازہ پڑھنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ النَّيْسَابُورِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ".
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا بھائی مر گیا ہے ، اٹھو اس کی نماز جنازہ پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1948]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 22 (953)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 48 (1039)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 33 (1535)، (تحفة الأشراف: 10886)، مسند احمد 4/431، 433، 446 (صحیح)
58: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الصِّبْيَانِ
باب: بچوں پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ خَالَتِهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ مِنْ صِبْيَانِ الْأَنْصَارِ فَصَلَّى عَلَيْهِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا وَلَمْ يُدْرِكْهُ , قَالَ: " أَوَ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ، خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انصار کے بچوں میں سے ایک بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو آپ نے اس کی جنازے کی نماز پڑھی ، میں نے کہا : ( یہ ) خوش بخت جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ، نہ تو اس نے کوئی برا کام کیا ، اور نہ اس عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا عائشہ ! اس کے علاوہ کچھ اور معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے جنت کی تخلیق فرمائی ، اور اس کے لیے لوگ پیدا کئے ، جبکہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے ، اور ( اللہ ) نے جہنم کی تخلیق کی ، اور اس کے لیے لوگ پیدا کیے جبکہ وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1949]
💡 وضاحت:
۱؎: اور وہ توقف ہے، لیکن یہ پہلے کی بات ہے، بعد میں آپ نے یہ بتایا کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں جائیں گے، البتہ کفار و مشرکین کے بچوں کی بابت جمہور کا موقف یہی ہے کہ ان کے بارے میں توقف اختیار کیا جائے، دیکھئیے حدیث رقم: ۱۹۵۱، ۱۹۵۳۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/القدر 6 (2662)، سنن ابی داود/السنة 18 (4713)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (82)، (تحفة الأشراف: 17873)، مسند احمد 6/41، 208 (صحیح)
59: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الأَطْفَالِ
باب: بچوں کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّهُ ذَكَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ، وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوار جنازے کے پیچھے رہے ، پیدل چلنے والا اس کے ( آگے پیچھے دائیں بائیں ) جس طرف چاہے رہے ، اور شیرخوار بچہ کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1950]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1944 (صحیح)
60: بَابُ : أَوْلاَدِ الْمُشْرِكِينَ
باب: آخرت میں کفار و مشرکین کی اولاد کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” جو کچھ وہ کرنے والے تھے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1951]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 92 (1383)، والقدر 3 (6592)، صحیح مسلم/القدر 6 (2659)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 18 (4714) بمعناہ، سنن الترمذی/القدر 5 (2138)، (تحفة الأشراف: 14212)، مسند احمد 2/244، 253، 259، 268، 315، 347، 393، 395، 471، 488، 518 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جو وہ کرنے والے تھے اسے خوب جانتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1952]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ اپنے اسی علم کی بنیاد پر ان کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13532)، مسند احمد 2/246، 282 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ: " خَلَقَهُمُ اللَّهُ حِينَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ يَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1953]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 92 (1383)، والقدر 3 (6597)، صحیح مسلم/القدر 6 (2660)، سنن ابی داود/السنة 18 (4711)، (تحفة الأشراف: 5449)، مسند احمد 1/215، 328، 340، 358 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1954]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
61: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ
باب: شہداء کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ ابْنَ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: أُهَاجِرُ مَعَكَ , فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةٌ، غَنِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ، فَأَعْطَى أَصْحَابَهُ مَا قَسَمَ لَهُ وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهُمْ، فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوهُ إِلَيْهِ , فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: قِسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: " قَسَمْتُهُ لَكَ" , قَالَ: مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعْتُكَ، وَلَكِنِّي اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَنْ أُرْمَى إِلَى هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ بِسَهْمٍ فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ: " إِنْ تَصْدُقِ اللَّهَ يَصْدُقْكَ" , فَلَبِثُوا قَلِيلًا ثُمَّ نَهَضُوا فِي قِتَالِ الْعَدُوِّ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْمَلُ قَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ حَيْثُ أَشَارَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهُوَ هُوَ؟" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: " صَدَقَ اللَّهَ فَصَدَقَهُ" ثُمَّ كَفَّنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُبَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَدَّمَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَكَانَ فِيمَا ظَهَرَ مِنْ صَلَاتِهِ: " اللَّهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ فَقُتِلَ شَهِيدًا أَنَا شَهِيدٌ عَلَى ذَلِكَ".
شداد بن ہاد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک بادیہ نشین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ پر ایمان لے آیا ، اور آپ کے ساتھ ہو گیا ، پھر اس نے عرض کیا : میں آپ کے ساتھ ہجرت کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب کو اس کا خیال رکھنے کی وصیت کی ، جب ایک غزوہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں ملیں ، تو آپ نے انہیں تقسیم کیا ، اور اس کا ( بھی ) حصہ لگایا ، چنانچہ اس کا حصہ اپنے ان اصحاب کو دے دیا جن کے سپرد اسے کیا گیا تھا ، وہ ان کی سواریاں چراتا تھا ، جب وہ آیا تو انہوں نے ( اس کا حصہ ) اس کے حوالے کیا ، اس نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یہ حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے لگایا تھا ، تو اس نے اسے لے لیا ، ( اور ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ، اور عرض کیا : ( اللہ کے رسول ! ) یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” میں نے تمہارا حصہ دیا ہے “ ، تو اس نے کہا : میں نے اس ( حقیر بدلے ) کے لیے آپ کی پیروی نہیں کی ہے ، بلکہ میں نے اس بات پر آپ کی پیروی کی ہے کہ میں تیر سے یہاں مارا جاؤں ، ( اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا ) پھر میں مروں اور جنت میں داخل ہو جاؤں ، تو آپ نے فرمایا : ” اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا وعدہ سچ کر دکھائے گا “ ، پھر وہ لوگ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے ، پھر دشمنوں سے لڑنے کے لیے اٹھے ، تو انہیں ( کچھ دیر کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا ، اور انہیں ایسی جگہ تیر لگا تھا جہاں انہوں نے اشارہ کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا یہ وہی شخص ہے ؟ “ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” اس نے اللہ تعالیٰ سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تو ( اللہ تعالیٰ ) نے ( بھی ) اپنا وعدہ اسے سچ کر دکھایا “ ۱؎ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جبّے ( قمیص ) میں اسے کفنایا ، پھر اسے اپنے سامنے رکھا ، اور اس کی جنازے کی نماز پڑھی ۲؎ آپ کی نماز میں سے جو چیز لوگوں کو سنائی دی وہ یہ دعا تھی : «اللہم هذا عبدك خرج مهاجرا في سبيلك فقتل شهيدا أنا شهيد على ذلك» ” اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے ، یہ تیری راہ میں ہجرت کر کے نکلا ، اور شہید ہو گیا ، میں اس بات پر گواہ ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1955]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی مراد پوری کر دی۔ ۲؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شہداء پر نماز جنازہ پڑھی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4833) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ".
عقبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے باہر ) نکلے ، اور غزوہ احد کے شہیدوں پر نماز ( جنازہ ) پڑھی ۱؎ جیسے میت کی نماز جنازہ پڑھتے تھے ، پھر منبر کی طرف پلٹے اور فرمایا : ” میں ( قیامت میں ) تمہارا پیش رو ہوں ، اور تم پر گواہ ( بھی ) ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1956]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نماز آپ نے جنگ احد کے آٹھ سال بعد آخری عمر میں پڑھی تھی، اور یہ شہداء احد ہی کے ساتھ خاص تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 72 (1344)، والمناقب 25 (3596)، والمغازي 17 (4042)، 27 (4085)، والرقاق 7 (6426)، 53 (6590)، صحیح مسلم/الفضائل 9 (2296)، سنن ابی داود/الجنائز 75 (3223)، (تحفة الأشراف: 9956)، مسند احمد 4/149، 153، 154 (صحیح)
62: بَابُ : تَرْكِ الصَّلاَةِ عَلَيْهِمْ
باب: شہیدوں کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: " أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ"، فَإِذَا أُشِيرَ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ , قَالَ: " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ" وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے مقتولین میں سے میں سے دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے ، پھر پوچھتے : ” ان دونوں میں کس کو قرآن زیادہ یاد تھا ؟ “ جب لوگ ان دونوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے تو آپ اسے قبر میں پہلے رکھتے ، اور فرماتے : ” میں ان پر گواہ ہوں “ ، آپ نے انہیں ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا ، اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی ۱؎ اور نہ انہیں غسل دیا گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1957]
💡 وضاحت:
۱؎: جو لوگ شہید کی نماز جنازہ پڑھی جانے کے قائل ہیں، وہ اس روایت کی یہ توجیہ کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ان میں کسی پر اس طرح نماز نہیں پڑھی جیسے حمزہ رضی الله عنہ پر کئی بار پڑھی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 72 (1344)، 73 (1345)، 75 (1346)، 78 (1348)، والمغازي 26 (4079)، سنن ابی داود/الجنائز 31 (3138، 3139)، سنن الترمذی/الجنائز 46 (1036)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 28 (1514)، (تحفة الأشراف: 2382) (صحیح)
63: بَابُ : تَرْكِ الصَّلاَةِ عَلَى الْمَرْجُومِ
باب: رجم کئے ہوئے شخص کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَنُوحُ بْنُ حَبِيبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبِكَ جُنُونٌ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ: " أَحْصَنْتَ" , قَالَ: نَعَمْ , فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ فَمَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا ، تو آپ نے اس کی طرف سے ( اپنا منہ ) پھیر لیا ، اس نے دوبارہ اعتراف کیا تو آپ نے ( پھر ) اپنا منہ پھیر لیا ، اس نے پھر تیسری دفعہ اعتراف کیا ، تو آپ نے ( پھر ) اپنا منہ پھیر لیا ، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہیاں دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تجھے جنون ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے پوچھا : ” کیا تو شادی شدہ ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کو رجم کر دیا گیا ، جب اسے پتھر لگا تو بھاگ کھڑا ہوا ، پھر وہ پکڑا گیا تو پتھروں سے مارا گیا ، تو اور مر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں اچھی بات کہی ، اور اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1958]
💡 وضاحت:
۱؎: رجم کئے جانے والے پر نماز جنازہ پڑھنے نہ پڑھنے کی بابت روایات مختلف ہیں، صحیح بات یہ ہے کہ رجم کے دن نہیں پڑھی دوسرے دن پڑھی، جیسا کہ سنن ابو قرہ میں ہے، نیز امام وقت کو یہ اختیار ہے، جس کے حالات جیسے ہوں اسی کے حساب پڑھے یا نہ پڑھے، ماعز اور غامدیہ رضی الله عنہما نے سچی توبہ کی تھی، تو ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور جو بغیر توبہ کے گواہی کی وجہ سے رجم کیا جائے اس پر نہ پڑھنا ہی بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطلاق 11 (5270)، والحدود 21 (6814)، 25 (6820) (المحاربین 7، 11)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1691)، سنن ابی داود/الحدود 24 (4430)، سنن الترمذی/الحدود 5 (14529)، (تحفة الأشراف: 3149)، مسند احمد 3/323، سنن الدارمی/الحدود 12 (2361) (صحیح)
64: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الْمَرْجُومِ
باب: رجم کئے ہوئے شخص کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ، وَهِيَ حُبْلَى فَدَفَعَهَا إِلَى وَلِيِّهَا، فَقَالَ: " أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا" , فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور کہنے لگی : میں نے زنا کیا ہے ، وہ حاملہ تھی ، تو آپ نے اسے اس کے ولی کے سپرد کر دیا اور کہا : ” اسے اچھی طرح رکھو ، اور جب بچہ جن دے تو میرے پاس لے کر آنا “ ، چنانچہ جب اس نے بچہ جن دیا تو ولی اسے لے کر آیا ، تو آپ نے اسے حکم دیا ، اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے ، پھر آپ نے اسے رجم کیا ، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا : آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں ؟ حالانکہ وہ زنا کر چکی ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے ، اور اس سے بہتر توبہ اور کیا ہو گی کہ اس نے اللہ تعالیٰ ( کی شریعت کے پاس و لحاظ میں ) اپنی جان ( تک ) قربان کر دی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1959]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحدود 5 (1696)، سنن ابی داود/الحدود 25 (4440، 4441)، سنن الترمذی/الحدود 9 (1435)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2555)، (تحفة الأشراف: 10881)، مسند احمد 4/420، 429، 435، 437، 440، سنن الدارمی/الحدود 17 (2370) (صحیح)
65: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ يَحِيفُ فِي وَصِيَّتِهِ
باب: وصیت میں ظلم کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةً مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ"، ثُمَّ دَعَا مَمْلُوكِيهِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً".
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے ، اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال ( مال و اسباب ) نہ تھا ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ اس سے ناراض ہوئے ، اور فرمایا : ” میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھوں “ ، پھر آپ نے اس کے غلاموں کو بلایا ، اور ان کے تین حصے کیے ، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی ، اور دو کو آزاد کر دیا ، اور چار کو رہنے دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1960]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10812)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأیمان 11 (1668)، سنن ابی داود/العتق 10 (3958)، سنن الترمذی/الأحکام 27 (1364)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 20 (2345)، مسند احمد 4/426، 431، 438، 440 (صحیح)
66: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ غَلَّ
باب: مال غنیمت چرانے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قال: مَاتَ رَجُلٌ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ إِنَّهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ.
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص خیبر میں مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، اس نے اللہ کی راہ میں چوری کی ہے “ ، تو ( جب ) ہم نے اس کے اسباب کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہود کے نگینوں میں سے کچھ نگینے ملے ، جو دو درہم کے برابر بھی نہیں تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1961]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجھاد 143 (2710)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 34 (2848)، (تحفة الأشراف: 3767)، موطا امام مالک/الجھاد 13 (23)، مسند احمد 4/114 و 5/192 (ضعیف) (اس کے راوی ”ابو عمرہ‘‘ لین الحدیث ہیں، اور موطا میں یہ سند سے ساقط ہیں، کما حررہ ابن عبدالبر)
67: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ
باب: مقروض آدمی کی نماز جنازہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ , فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا" , قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُوَ عَلَيَّ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِالْوَفَاءِ" , قَالَ: بِالْوَفَاءِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھتا ) کیونکہ اس پر قرض ہے “ ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ میرے ذمہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم اس کی ادائیگی کرو گے ؟ “ تو انہوں نے کہا : ہاں میں اس کی ادائیگی کروں گا ، تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1962]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجنائز 69 (1069)، سنن ابن ماجہ/الکفالة 9 (2407)، (تحفة الأشراف: 12103)، مسند احمد 5/301، 302، 311، سنن الدارمی/البیوع 53 (2635) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ، قال: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , صَلِّ عَلَيْهَا , قَالَ: " هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا؟" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" , قَالُوا: لَا , قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" , قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا : اللہ کے نبی ! اس کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے ، آپ نے پوچھا : ” کیا اس نے اپنے اوپر کچھ قرض چھوڑا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے پوچھا : ” کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو “ ، تو ابوقتادہ نامی ایک انصاری نے عرض کیا : آپ اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے ، اس کا قرض میرے ذمہ ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1963]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحوالة 3 (2289)، والکفالة 3 (2295)، (تحفة الأشراف: 4547)، مسند احمد 4/47 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَوْمَسِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيْتٍ , فَسَأَلَ: " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟" , قَالُوا: نَعَمْ، عَلَيْهِ دِينَارَانِ , قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے ، چنانچہ ایک جنازہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے پوچھا : ” کیا اس پر قرض ہے ؟ “ لوگوں نے جواب دیا : ہاں ، اس پر دو دینار ( کا قرض ) ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو “ ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دونوں دینار میرے ذمہ ہیں ، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتح و نصرت عطا کی ، تو آپ نے فرمایا : ” میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں ، جو قرض چھوڑ کر مرے ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے ، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1964]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخراج 15 (2954)، البیوع 9 (3343)، (تحفة الأشراف: 3158)، مسند احمد 3/296 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ سَأَلَ: " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ؟" فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنْ قَالُوا: لَا قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" , فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے : ” کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے ؟ “ اگر لوگ کہتے : جی ہاں ، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے ، اور اگر کہتے : نہیں ، تو آپ کہتے : ” تم اپنے ساتھی پر نماز ( جنازہ ) پڑھ لو “ ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا ، تو آپ نے فرمایا : ” میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں ، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو ، تو ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے ، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1965]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکفالة 5 (2298)، والنفقات 15 (2398)، صحیح مسلم/الفرائض 4 (1619)، سنن الترمذی/الجنائز 69 (1070)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 13 (2415)، (تحفة الأشراف: 15257، 15315)، مسند احمد 2/290، 453 (صحیح)
68: بَابُ : تَرْكِ الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ
باب: خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنِ ابْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَلَا أُصَلِّي عَلَيْهِ".
ابن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے تیر کی انی سے خودکشی کر لی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا میں تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1966]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 36 (978)، (تحفة الأشراف: 2157)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 51 (3185) مطولاً، سنن الترمذی/الجنائز 68 (1068)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 31 (1526)، مسند احمد 5/87، 90، 91، 92، 94، 96، 97، 100، 107 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ثُمَّ انْقَطَعَ عَلَيَّ شَيْءٌ خَالِدٌ , يَقُولُ: كَانَتْ حَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے ، تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش اپنے آپ کو اوپر سے نیچے گراتا رہے گا ، اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالے تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں رہے گا اسے وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں پیتا رہے گا ، اور جو شخص کسی دھار دار چیز سے اپنے آپ کو مار ڈالے ( راوی کہتے ہیں : پھر کوئی چیز میرے سننے سے رہ گئی ۱؎ ، خالد کہہ رہے تھے : ) تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا اسے وہ جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں برابر گھونپتا رہے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1967]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ متن حدیث کا حصہ نہیں ہے بلکہ خالد سے روایت کرنے والے راوی کا کلام ہے یعنی خالد کہہ رہے تھے کہ «من قتل نفسہ بحدیدۃ» کے بعد کوئی لفظ رہ گیا ہے جسے میں سن نہیں سکا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 56 (5778)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (109)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 11 (3872)، سنن الترمذی/الطب 7 (1044)، سنن ابن ماجہ/الطب 11 (1043)، (تحفة الأشراف: 12394)، مسند احمد 2/254، 278، 488، سنن الدارمی/الدیات 10 (2407) (صحیح)
69: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ
باب: منافق کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قال: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا أُعَدِّدُ عَلَيْهِ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ" , فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ , قَالَ: " إِنِّي قَدْ خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ، فَلَوْ عَلِمْتُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا"، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَتَانِ مِنْ بَرَاءَةَ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ سورة التوبة آية 84 فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافقوں کا سردار ) مر گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلائے گئے ، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑے ہوئے تو میں تیزی سے آپ کی طرف بڑھا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ابن ابی پر نماز جنازہ پڑھیں گے ؟ حالانکہ فلاں دن وہ ایسا ایسا کہہ رہا تھا ، میں اس کی تمام باتیں آپ پر گنانے لگا ، تو آپ مسکرائے ، اور فرمایا : ” اے عمر ! ان باتوں کو جانے دو “ ۔ جب میں نے کافی اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اختیار ہے ( نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں ) تو میں نے پڑھنا پسند کیا ، اگر میں یہ جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت چاہنے پر اس کی مغفرت ہو جائے گی تو میں اس سے زیادہ مغفرت کرتا “ ۱؎ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ، پھر لوٹے اور ابھی ذرا سا دم ہی لیا تھا کہ سورۃ برأت کی دونوں آیتیں نازل ہوئیں : «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره إنهم كفروا باللہ ورسوله وماتوا وهم فاسقون» ” جب یہ مر جائیں تو تم ان میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو ، اور نہ اس کی قبر پہ کھڑے ہو ، اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے ، اور گنہگار ہو کر مرے ہیں “ ، بعد میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنی اس دن کی اس جرات پر حیرت ہوئی ، اور اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں کہ یہ جرات میں نے کیوں کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1968]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ستر بار سے زیادہ اس کی مغفرت کے لیے دعا کرتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 84 (1366)، وتفسیر التوبة 12 (4671)، سنن الترمذی/الجنائز/تفسیر التوبة (3097)، (تحفة الأشراف: 10509)، مسند احمد 1/16 (صحیح)
70: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1969]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مسجد میں جنازہ پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، اگرچہ آپ کا معمول مسجد سے باہر پڑھنے کا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 34 (973) مطولاً، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 54 (3189)، سنن الترمذی/الجنائز 44 (1033)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 29 (1518)، (تحفة الأشراف: 16175)، موطا امام مالک/الجنائز 8 (22)، مسند احمد 6/78، 133، 169 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء ۱؎ کی نماز جنازہ مسجد کے صحن ہی میں پڑھی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1970]
💡 وضاحت:
۱؎: بیضاء کے تین بیٹے تھے جن کے نام سہل، سہیل اور صفوان تھے اور ان کی ماں کا نام رعد تھا، بیضاء ان کا وصفی نام ہے، اور ان کے والد کا نام وہب بن ربیعہ قرشی فہری تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
71: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ بِاللَّيْلِ
باب: رات میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَتِ امْرَأَةٌ بِالْعَوالِي مِسْكِينَةٌ , فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُمْ عَنْهَا وَقَالَ: " إِنْ مَاتَتْ فَلَا تَدْفِنُوهَا حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهَا" , فَتُوُفِّيَتْ فَجَاءُوا بِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَامَ فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ، فَصَلَّوْا عَلَيْهَا وَدَفَنُوهَا بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءُوا فَسَأَلَهُمْ عَنْهَا فَقَالُوا: قَدْ دُفِنَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَقَدْ جِئْنَاكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ , قَالَ: " فَانْطَلِقُوا" فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَشَوْا مَعَهُ حَتَّى أَرَوْهُ قَبْرَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفُّوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ۱؎ بیمار پڑ گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے ، اور کہہ رکھا تھا کہ ” اگر یہ مر جائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں “ ، چنانچہ وہ مر گئی ، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے ، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پایا ، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا ، چنانچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی ، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کر دیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے ، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! وہ تو دفنائی جا چکی ، ( رات ) ہم آپ کے پاس آئے ( بھی ) تھے ، ( لیکن ) ہم نے آپ کو سویا ہوا پایا ، تو آپ کو جگانا نامناسب سمجھا ، آپ نے فرمایا : ” چلو ! “ ( اور ) خود بھی چل پڑے ، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھا ، آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1971]
💡 وضاحت:
۱؎: اس عورت کا نام ام محجن تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1908 (صحیح)
72: بَابُ : الصُّفُوفِ عَلَى الْجَنَازَةِ
باب: جنازہ پر صف بندی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ" , فَقَامَ فَصَفَّ بِنَا كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْجَنَازَةِ وَصَلَّى عَلَيْهِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے بھائی نجاشی کی موت ہو گئی ہے ، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو “ ، ( پھر ) آپ نے ہماری صف بندی کی جیسے جنازہ پر صف بندی کی جاتی ہے ، اور ان کی نماز جنازہ پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1972]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 53 (1317)، 54 (1320)، 64 (1334)، ومناقب الأنصار 38 (3877)، صحیح مسلم/الجنائز 22 (952)، (تحفة الأشراف: 2450)، مسند احمد 3/295، 319، 369، 400 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے ، پھر آپ لوگوں کو لے کر صلاۃ گاہ کی طرف نکلے ، اور ان کی صف بندی کی ، ( پھر ) آپ نے ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی ، اور چار تکبیریں کہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1973]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 4 (1245)، 54 (1318)، 60 (1328)، 64 (1334)، والمناقب 38 (3880- 3881) صحیح مسلم/الجنائز 22 (951)، سنن ابی داود/الجنائز 62 (3204)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 37 (1022)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 33 (1534)، (تحفة الأشراف: 13232)، موطا امام مالک/الجنائز 5 (14)، مسند احمد 2/281، 289، 438، 439، ویأتی عند المؤلف برقم: 1982 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " نَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ لِأَصْحَابِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَصَفُّوا خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنِّي لَمْ أَفْهَمْهُ كَمَا أَرَدْتَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنے صحابہ کو نجاشی کی موت کی خبر دی ، تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی ، آپ نے ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی ، اور چار تکبیریں کہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ابن مسیب کا نام جیسا میں سننا چاہتا تھا نہیں سن سکا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1974]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 54 (1318)، سنن الترمذی/الجنائز 37 (1022)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 33 (1534)، (تحفة الأشراف: 13267، 15290) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ"، فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ صَفَّيْنِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے بھائی ( نجاشی ) مر گئے ہیں تو تم لوگ اٹھو ، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو “ تو ہم نے ان پر دو صفیں باندھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1975]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر صحیح مسلم/الجنائز 22 (952)، (تحفة الأشراف: 2670)، مسند احمد 3/355 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يَقُولُ: السَّاعَةَ يَخْرُجُ السَّاعَةَ يَخْرُجُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: " كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي يَوْمَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّجَاشِيِّ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز ( جنازہ ) پڑھی تھی میں دوسری صف میں تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1976]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 54 (1320) تعلیقاً، (تحفة الأشراف: 2774) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ , فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ" , قَالَ: فَقُمْنَا، فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْمَيِّتِ , وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” تمہارے بھائی نجاشی انتقال کر گئے ہیں تو تم اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو “ ، تو ہم کھڑے ہوئے ( اور ) ہم نے ان پر اسی طرح صف بندی کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے ، اور ہم نے ان کی نماز ( جنازہ ) اسی طرح پڑھی جس طرح میت کی پڑھی جاتی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1977]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر سنن الترمذی/الجنائز 48 (1039)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 33 (1535)، (تحفة الأشراف: 10889)، مسند احمد 4/439، 441 (صحیح)
73: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ قَائِمًا
باب: نماز جنازہ کھڑے ہو کر پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قال: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فِي وَسَطِهَا".
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام کعب رضی اللہ عنہا کی نماز ( جنازہ ) پڑھی ، جو اپنی زچگی میں مر گئیں تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ان کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1978]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 393 (صحیح)
74: بَابُ : اجْتِمَاعِ جَنَازَةِ صَبِيٍّ وَامْرَأَةٍ
باب: بچہ اور عورت کے جنازے کو اکٹھا پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قال: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَمَّارٍ، قال: " حَضَرَتْ جَنَازَةُ صَبِيٍّ وَامْرَأَةٍ فَقُدِّمَ الصَّبِيُّ مِمَّا يَلِي الْقَوْمَ وَوُضِعَتِ الْمَرْأَةُ وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِمَا، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، فَسَأَلْتُهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا: السُّنَّةُ".
عمار رضی الله عنہ کہتے ہیں ایک بچہ اور ایک عورت کا جنازہ آیا ، تو بچہ لوگوں سے متصل رکھا گیا ، اور عورت اس کے پیچھے ( قبلہ کی طرف ) رکھی گئی ، پھر ان دونوں کی نماز جنازہ پڑھی گئی ، لوگوں میں ابو سعید خدری ، ابن عباس ، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ( بھی ) تھے ، تو میں نے ان ( لوگوں ) سے اس کے متعلق سوال کیا ، تو سبھوں نے کہا : یہی سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1979]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 56 (3193)، (تحفة الأشراف: 4261) (صحیح)
75: بَابُ : اجْتِمَاعِ جَنَائِزِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ
باب: مرد اور عورت کے جنازے کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: سَمِعْتُ نَافِعًا يَزْعُمُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ" صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا فَجَعَلَ الرِّجَالَ يَلُونَ الْإِمَامَ وَالنِّسَاءَ يَلِينَ الْقِبْلَةَ فَصَفَّهُنَّ صَفًّا وَاحِدًا، وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ زَيْدٌ، وُضِعَا جَمِيعًا وَالْإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ، وَفِي النَّاسِ ابْنُ عُمَرَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ فَوُضِعَ الْغُلَامُ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ فَقَالَ رَجُلٌ: فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي قَتَادَةَ , فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هِيَ السُّنَّةُ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نو جنازوں کی ایک ساتھ نماز پڑھی ، تو مرد امام سے قریب رکھے گئے ، اور عورتیں قبلہ سے قریب ، ان سب عورتوں کی ایک صف بنائی ، اور علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی ام کلثوم ، اور ان کے بیٹے زید دونوں کا جنازہ ایک ساتھ رکھا گیا ، امام اس دن سعید بن العاص تھے ، اور لوگوں میں ابن عمر ، ابوہریرہ ، ابوسعید اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہم ( بھی موجود ) تھے ، بچہ امام سے قریب رکھا گیا ، تو ایک شخص نے کہا : مجھے یہ چیز ناگوار لگی ، تو میں نے ابن عباس ، ابوہریرہ ، ابوسعید اور ابوقتادہ ( رضی اللہ عنہم ) کی طرف ( حیرت سے ) دیکھا ، اور پوچھا : یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یہی سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1980]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، وانظر الحدیث الذي قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى. ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلَانٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ فِي وَسَطِهَا".
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کی ماں کی نماز جنازہ پڑھی جو اپنی زچگی میں مر گئیں تھیں ، تو آپ ان کے بیچ میں یعنی کمر کے پاس کھڑے ہوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1981]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 393 (صحیح)
76: بَابُ : عَدَدِ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ
باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ وَخَرَجَ بِهِمْ فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر دی ، اور آپ ان کے ساتھ نکلے تو ان کی صف بندی کی ، ( اور ) چار تکبیریں کہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1982]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1973 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قال: مَرِضَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ شَيْءٍ عِيَادَةً لِلْمَرِيضِ , فَقَالَ: " إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي" فَمَاتَتْ لَيْلًا , فَدَفَنُوهَا وَلَمْ يُعْلِمُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا , فَقَالُوا: كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَى قَبْرَهَا" فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا".
ابوامامہ بن سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عوالی والوں ۱؎ میں سے ایک عورت بیمار ہوئی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی سب سے زیادہ کرتے تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا “ تو وہ رات میں مر گئی ، اور لوگوں نے اسے دفنا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہیں کیا ، جب آپ نے صبح کی تو اس کے بارے میں پوچھا ، تو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا ، آپ اس کی قبر پر آئے ، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1983]
💡 وضاحت:
۱؎: عوالی مدینہ سے جنوب میں بلندی پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1908 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ" صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا خَمْسًا، وَقَالَ: كَبَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو ( اس میں ) پانچ تکبیریں کہیں ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1984]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 23 (961)، سنن ابی داود/الجنائز 58 (3197)، سنن الترمذی/الجنائز 37 (1023)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 25 (1505)، (تحفة الأشراف: 3671)، مسند احمد 4/367، 368، 370، 371، 372 (صحیح)
77: بَابُ : الدُّعَاءِ
باب: جنازے کی دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَاعْفُ عَنْهُ , وَعَافِهِ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ , وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ , وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ , وَقِهِ عَذَابَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ" , قَالَ عَوْفٌ: فَتَمَنَّيْتُ أَنْ لَوْ كُنْتُ الْمَيِّتَ لِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ الْمَيِّتِ.
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ ایک جنازے کی نماز میں کہہ رہے تھے : «اللہم اغفر له وارحمه واعف عنه وعافه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وقه عذاب القبر وعذاب النار» ” اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما ، اس پر رحم کر ، اسے معاف کر دے ، اسے عافیت دے ، اس کی ( بہترین ) مہمان نوازی فرما ، اس کی ( قبر ) کشادہ کر دے ، اسے پانی برف اور اولے سے دھو دے ، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ، اس کو بدلے میں اس کے گھر سے اچھا گھر ، اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے ، اور اس کی بیوی سے اچھی بیوی عطا کر ، اور اسے عذاب قبر اور عذاب جہنم سے بچا “ ۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس میت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ( سن کر ) میں نے آرزو کی : کاش ! اس کی جگہ میں ہوتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1985]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 62 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، قال: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعْتُ فِي دُعَائِهِ , وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ , وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ , وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ , وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ , وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ , وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَنَجِّهِ مِنَ النَّارِ، أَوْ قَالَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک میت پر صلاۃ پڑھتے سنا ، تو میں نے سنا کہ آپ اس کے لیے دعا میں یہ کہہ رہے تھے : «اللہم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وأدخله الجنة ونجه من النار - أو قال - وأعذه من عذاب القبر‏» ” اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما ، اس پر رحم کر ، اسے عافیت دے ، اسے معاف کر دے ، اس کی ( بہترین ) مہمان نوازی فرما ، اس کی ( قبر ) کشادہ کر دے ، اسے پانی ، برف اور اولے سے دھو دے ، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ، اس کو بدلے میں اس کے گھر سے اچھا گھر ، اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے ، اور اس کی بیوی سے اچھی بیوی عطا کر ، اور اسے جنت میں داخل کر ، اور جہنم کے عذاب سے نجات دے ، یا فرمایا اسے عذاب قبر سے بچا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1986]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 62 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قال: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ السُّلَمِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُلْتُمْ؟" , قَالُوا: دَعَوْنَا لَهُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ؟ وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟ فَلَمَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" , قَالَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ: أَعْجَبَنِي لِأَنَّهُ أَسْنَدَ لِي.
عبید بن خالد سلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ کرایا ، ان میں سے ایک قتل کر دیا گیا ، اور دوسرا ( بھی ) اس کے بعد مر گیا ، ہم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم لوگوں نے کیا دعا کی ؟ “ ، تو ان لوگوں نے کہا : ہم نے اس کے لیے یہ دعا کی : «اللہم اغفر له اللہم ارحمه اللہم ألحقه بصاحبه» ” اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما ، اے اللہ اس پر رحم فرما ، اے اللہ ! اسے اپنے ساتھی سے ملا دے “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی صلاۃ اس کی صلاۃ کے بعد کہاں جائے گی ؟ اور اس کا عمل اس کے عمل کے بعد کہاں جائے گا ؟ ان دونوں کے درمیان وہی دوری ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے “ ۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں : مجھے خوشی ہوئی کیونکہ عبداللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ نے ( اس حدیث کو ) میرے لیے مسند کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1987]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجھاد 29 (2524)، (تحفة الأشراف: 9742)، مسند احمد 3/500، 4/419 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا".
ابوابراہیم انصاری اشہلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میت پر نماز جنازہ میں کہتے سنا : «اللہم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وذكرنا وأنثانا وصغيرنا وكبيرنا» ” اے اللہ ! ہمارے زندہ اور مردہ کو ، ہمارے حاضر اور غائب ، ہمارے نر اور مادہ ، ہمارے چھوٹے اور بڑے سب کو بخش دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1988]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجنائز 38 (1024)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1498)، (تحفة الأشراف: 15687)، مسند احمد 4/170، 5/412 (صحیح) (حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: أحکام الجنائز للألبانی: 157)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قال: " صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَجَهَرَ حَتَّى أَسْمَعَنَا، فَلَمَّا فَرَغَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: سُنَّةٌ وَحَقٌّ".
طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے جنازہ کی نماز پڑھی ، تو انہوں نے سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھی ، اور جہر کیا یہاں تک کہ آپ نے ہمیں سنا دیا ، جب فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا : ( یہ کیا ؟ ) تو انہوں نے کہا : ( یہی ) سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے ، اور ( یہی ) حق ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1989]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 65 (1335) مختصراً، سنن ابی داود/الجنائز 59 (3198) مختصراً، سنن الترمذی/الجنائز 39 (1016) مختصراً، (تحفة الأشراف: 5764) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: تَقْرَأُ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّهُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ".
طلحہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک جنازے کی نماز پڑھی ، تو میں نے انہیں سورۃ فاتحہ پڑھتے سنا ، تو جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا ، اور پوچھا : آپ ( نماز جنازہ میں ) قرآن پڑھتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں ، ( یہی ) حق اور سنت ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1990]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: وانظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّهُ قَالَ: " السُّنَّةُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ أَنْ يَقْرَأَ فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ مُخَافَتَةً، ثُمَّ يُكَبِّرَ ثَلَاثًا وَالتَّسْلِيمُ عِنْدَ الْآخِرَةِ".
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد سورۃ فاتحہ آہستہ پڑھی جائے ، پھر تین تکبیریں کہی جائیں ، اور آخر میں سلام پھیرا جائے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1991]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوامامہ یہ کنیت سے مشہور ہیں، ان کا نام اسعد یا سعد ہے، ابن سعد بن حنیف الانصاری، ان کا شمار صحابہ مںْ ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کا شرف حاصل کیا ہے، لیکن آپ سے احادیث نہیں سنی ہیں، اس لیے یہ حدیث مراسیل صحابہ میں سے ہے، اور یہ قابلِ استناد ہے، اس لیے کہ صحابی نے صحابی سے سنا ہے، اور دوسرے صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، بیچ کا واسطہ ثقہ راوی یعنی صحابی ہے، اس لیے کوئی حرج نہیں، دوسرے طرق میں واسطہ کا ذکر ثابت ہے، جیسا کہ آگے کی حدیث میں یہ روایت ضحاک بن قیس رضی الله عنہ سے آ رہی ہے (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: أحکام الجنائز للألبانی: فقرہ نمبر ۷۴، حدیث نمبر۵) امام زہری نے اس حدیث کی روایت ابوامامہ سے کی جس کی تصحیح أئمہ نے کی ہے امام طحاوی نے اس حدیث کی تخریج میں یہ اضافہ کیا ہے کہ زہری نے محمد بن سوید فہری سے ابوامامہ کی اس حدیث کا تذکرہ کیا، تو اس پر ابن سوید نے کہا کہ میں نے اسے ضحاک بن قیس رضی الله عنہ سے سنا ہے، جسے وہ حبیب بن مسلمہ سے نماز جنازہ کے بارے روایت کرتے ہیں، اور یہ اسی حدیث کی طرح ہے جسے ابوامامہ نے تم سے روایت کی ہے۔ (طحاوی ۱/۲۸۸) آگے صحیح سند سے نسائی نے اسے مرفوعاً ضحاک سے روایت کی ہے، اور طحاوی کے یہاں ضحاک نے اسے حبیب بن مسلمہ سے روایت کی ہے، واضح رہے کہ یہ دونوں کمسن صحابہ میں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ الدِّمَشْقِيِّ الْفِهْرِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الدِّمَشْقِيِّ بِنَحْوِ ذَلِكَ.
ضحاک بن قیس دمشقی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1992]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4974) (صحیح)
78: بَابُ : فَضْلِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ
باب: جس کی سو لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی ہو اس کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً يَشْفَعُونَ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" , قَالَ سَلَّامٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ , فَقَالَ: حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس میت پر بھی مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھے ( جن کی تعداد ) سو تک پہنچتی ہو ، ( اور ) وہ ( اللہ کے پاس ) شفاعت ( سفارش ) کریں تو اس کے حق میں ( ان کی ) شفاعت قبول کی جائے گی “ ۔ سلام کہتے ہیں : میں نے اس حدیث کو شعیب بن حبحاب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : مجھ سے اسے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے ، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1993]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 18 (947)، سنن الترمذی/الجنائز 40 (1029)، (تحفة الأشراف: 918، 16291)، مسند احمد 3/266، 6/32، 40، 97، 231 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعٍ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ فَيَبْلُغُوا أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُوا إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں میں سے جو بھی اس طرح مرتا ہو کہ لوگوں کی ایک ایسی جماعت اس کی نماز جنازہ پڑھتی ہو ، جو سو تک پہنچ جاتی ہو ، تو وہ شفاعت کرتے ہیں ، تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1994]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ أَبُو الْخَطَّابِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكَّارٍ الْحَكَمُ بْنُ فَرُّوخَ، قال: صَلَّى بِنَا أَبُو الْمَلِيحِ عَلَى جَنَازَةٍ فَظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ كَبَّرَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ , قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ سَلِيطٍ، عَنْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَخْبَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" , فَسَأَلْتُ أَبَا الْمَلِيحِ عَنِ الْأُمَّةِ , فَقَالَ: أَرْبَعُونَ.
ابوبکار حکم بن فروخ کہتے ہیں ہمیں ابوملیح نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی تو ہم نے سمجھا کہ وہ تکبیر ( تکبیر اولیٰ ) کہہ چکے ( پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ) وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے ، اور کہا : تم اپنی صفیں درست کرو تاکہ تمہاری سفارش کارگر ہو ۔ ابوملیح کہتے ہیں : مجھ سے عبداللہ بن سلیط نے بیان کیا ، انہوں نے امہات المؤمنین میں سے ایک سے روایت کی ، اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں ، وہ کہتی ہیں : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ، آپ نے فرمایا : ” جس میت کی بھی لوگوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھتی ہے تو اس کے حق میں ( ان کی ) شفاعت قبول کر لی جاتی ہے “ ، تو میں نے ابوملیح سے جماعت ( کی تعداد ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : چالیس افراد پر مشتمل گروہ امت ( جماعت ) ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1995]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18059)، مسند احمد 6/331، 334 (حسن صحیح)
79: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ
باب: نماز جنازہ پڑھنے والوں کے ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَالْقِيرَاطَانِ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی ، تو اسے ایک قیراط ملے گا ، اور جس نے اسے قبر میں رکھے جانے تک انتظار کیا ، تو اسے دو قیراط ملے گا ، اور دو قیراط دو بڑے پہاڑوں کے مثل ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1996]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 35 (47)، والجنائز 58 (1325)، صحیح مسلم/الجنائز 17 (945)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 45 (3168)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 34 (1539)، (تحفة الأشراف: 13266)، مسند احمد 2/233، 280 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَهِدَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ"، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی جنازے میں شریک رہے یہاں تک کہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے ، تو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا ، اور جو دفنائے جانے تک رہے تو اسے دو قیراط ملے گا “ ، پوچھا گیا : اللہ کے رسول ! یہ دو قیراط کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1997]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 58 (1325)، صحیح مسلم/الجنائز 17 (945)، (تحفة الأشراف: 13958)، مسند احمد 2/401 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ احْتِسَابًا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدَفَنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ مِنَ الْأَجْرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص طلب ثواب کے لیے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے ، اور اس کی نماز جنازہ پڑھے ، اور اسے دفنائے تو اس کے لیے دو قیراط ( کا ثواب ) ہے ، اور جو ( صرف ) نماز جنازہ پڑھے اور دفنانے جانے سے پہلے لوٹ آئے ، تو وہ ایک قیراط ( ثواب ) لے کر لوٹتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1998]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 35 (47)، (تحفة الأشراف: 14481)، مسند احمد 2/430، 493، ویأتي عند المؤلف برقم: 5035 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قال: حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ تَبِعَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی جنازے کے ساتھ جائے ( اور ) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر لوٹ آئے ، تو اسے ایک قیراط کا ثواب ہے ، اور جو ( جنازہ میں ) شریک ہو ، ( اور ) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے دفنا کر فارغ ہو لیا جائے ، تو اس کا اجر دو قیراط ہے ، ان میں سے ہر ایک قیراط احد ( پہاڑ ) سے زیادہ بڑا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1999]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13543) (صحیح)
80: بَابُ : الْجُلُوسِ قَبْلَ أَنْ تُوضَعَ الْجَنَازَةُ
باب: جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، وَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ ، اور جو اس کے ساتھ جائے وہ بھی کھڑا رہے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2000]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1915 (صحیح)
81: بَابُ : الْوُقُوفِ لِلْجَنَائِزِ
باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ وَاقِدٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ عَلَى الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ , فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ".
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا ، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے ) کھڑے رہتے تھے پھر بیٹھنے لگے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2001]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 25 (962)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3175)، سنن الترمذی/الجنائز 52 (1044)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1544)، (تحفة الأشراف: 10276)، موطا امام مالک/الجنائز 11 (33)، حصحیح مسلم/82، 83، 131، 138 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَرَأَيْنَاهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا آپ کھڑے ہوئے تو ہم ( بھی ) کھڑے ہوئے ، اور بیٹھتے دیکھا تو ہم ( بھی ) بیٹھنے لگے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2002]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے ، جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو وہ تیار نہیں ہوئی تھی ، چنانچہ آپ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے ، گویا ہمارے سر پر پرندے بیٹھے ہوئے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2003]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 68 (3211، 3212)، والسنة 27 (4753، 4754)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 37 (1548)، (تحفة الأشراف: 1758)، مسند احمد 4/287، 288، 297، 295 (صحیح)
82: بَابُ : مُوَارَاةِ الشَّهِيدِ فِي دَمِهِ
باب: شہید کو اس کے خون میں ہی دفن کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَتْلَى أُحُدٍ: " زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ إِلَّا يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ".
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا : ” انہیں ان کے خون کے ساتھ کپڑوں میں لپیٹ دو کیونکہ جو بھی زخم اللہ کی راہ میں لگا ہو گا وہ قیامت کے روز بہتا ہوا آئے گا ، اس کا رنگ خون کا رنگ ہو گا ، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2004]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5210)، مسند احمد 5/431 (صحیح)
83: بَابُ : أَيْنَ يُدْفَنُ الشَّهِيدُ
باب: شہید کہاں دفن کیا جائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ رَجُلٍ , يُقَالُ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَيَّةَ، قال: أُصِيبَ رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الطَّائِفِ فَحُمِلَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَمَرَ أَنْ يُدْفَنَا حَيْثُ أُصِيبَا" , وَكَانَ ابْنُ مُعَيَّةَ وُلِدَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبیداللہ بن معیہ نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ غزوہ طائف کے دن دو مسلمان مارے گئے ، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لائے گئے ، تو آپ نے انہیں ( اسی جگہ ) دفنانے کا حکم دیا جہاں وہ مارے گئے تھے ۔ اس حدیث کے راوی ابن معیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2005]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9741) (ضعیف الإسناد) (ابن معیّة تابعی ہیں اس لیے یہ روایت مرسل ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ" , وَكَانُوا قَدْ نُقِلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے مقتولین کے بارے حکم دیا کہ انہیں ان کے پچھاڑے جانے کی جگ ہوں پر لوٹا دیا جائے ، حالانکہ وہ مدینہ لے آئے گئے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2006]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 42 (3165)، سنن الترمذی/الجھاد 37 (1717)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 28 (1516)، (تحفة الأشراف: 3117)، مسند احمد 3/297، 303، 308، 397، سنن الدارمی/المقدمة 7 (46) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ادْفِنُوا الْقَتْلَى فِي مَصَارِعِهِمْ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مقتولین کو ان کے گرنے کی جگ ہوں میں دفن کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2007]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ مارے گئے ہیں اور جس جگہ ان کی لاش گری تھی وہیں دفن کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
84: بَابُ : مُوَارَاةِ الْمُشْرِكِ
باب: کافر و مشرک کو دفن کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ، فَمَنْ يُوَارِيهِ؟ قَالَ: " اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي وَذَكَرَ دُعَاءً لَمْ أَحْفَظْهُ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ کے بوڑھے گم کردہ راہ چچا ( ابوطالب ) مر گئے ہیں ، انہیں کون دفن کرے ؟ آپ نے فرمایا : ” تم جاؤ اور اپنے باپ کو دفن کر دو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا جب تک میرے پاس لوٹ نہ آنا “ ، چنانچہ میں انہیں دفن کر آیا ، تو آپ نے میرے لیے ( نہانے کا ) حکم دیا ، میں نے غسل کیا ، اور آپ نے مجھے دعا دی ۔ راوی ناجیہ بن کعب کہتے ہیں : اور علی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی دعا کا ذکر کیا جسے میں یاد نہیں رکھ سکا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2008]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 190 (صحیح)
85: بَابُ : اللَّحْدِ وَالشَّقِّ
باب: بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قال: " أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے لیے بغلی قبر کھودنا ، اور ( اینٹیں ) کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کی گئی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2009]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، صحیح مسلم/الجنائز 29 (966)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 39 (1556)، (تحفة الأشراف: 3926)، مسند احمد 1/173 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قال: " أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے کہا : میرے لیے بغلی قبر کھدوانا ، اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ السلام کے لیے کی گئی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2010]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تحفة الأشراف: 3867، حم1/169، 184 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ، عَنْ حَكَّامِ بْنِ سَلْمٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بغلی قبر ہم ( مسلمانوں ) کے لیے ہے ، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2011]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ «اللحد لنا» کا مطلب «اللحد لي» ہے، یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے، جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے، یا «اللحدلنا» کا مطلب «اللحد اختیارنا» ہے، یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کی صندوقی مسلمانوں کے لیے ہے، کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے والا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا، اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3208) ترمذي (1045) ابن ماجه (1554) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 65 (3208)، سنن الترمذی/الجنائز 53 (1045)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 39 (1554)، (تحفة الأشراف: 5542) (صحیح)
86: بَابُ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ إِعْمَاقِ الْقَبْرِ
باب: قبر گہری کھودنا مستحب ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْحَفْرُ عَلَيْنَا لِكُلِّ إِنْسَانٍ شَدِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْفِرُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ" , قَالُوا: فَمَنْ نُقَدِّمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , قَالَ: فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ( غزوہ ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہر ایک آدمی کے لیے ( الگ الگ ) قبر کھودنا ہمارے لیے دشوار ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھودو اور گہرا کھودو اچھی طرح کھودو ، اور دو دو تین تین ( افراد ) کو ایک ہی قبر میں دفن کر دو “ ، تو لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! پہلے ہم کسے رکھیں ؟ آپ نے فرمایا : ” پہلے انہیں رکھو جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو “ ۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک ہی قبر میں رکھے جانے والے تین افراد میں سے میرے والد تیسرے فرد تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2012]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 71 (3215، 3216، 3217)، سنن الترمذی/الجھاد 33 (1713)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 41 (1560) مختصراً، (تحفة الأشراف: 11731)، مسند احمد 4/19، 20، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2013، 2017-2020 (صحیح)
87: بَابُ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَوْسِيعِ الْقَبْرِ
باب: قبر کو کشادہ کھودنا مستحب ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قال: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أُصِيبَ مَنْ أُصِيبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَصَابَ النَّاسَ جِرَاحَاتٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ: " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس دن احد کی لڑائی ہوئی تو جن مسلمانوں کو مارا جانا تھا مارے گئے ، اور جسے زخمی ہونا تھا زخمی ہوئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قبریں ) کھودو اور چوڑی کھودو ، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین لوگوں کو دفنا دو ، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں ( قبر میں ) پہلے رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2013]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
88: بَابُ : وَضْعِ الثَّوْبِ فِي اللَّحْدِ
باب: لحد میں کپڑا بچھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " جُعِلَ تَحْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دُفِنَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت دفنائے گئے آپ کے نیچے ایک سرخ چادر رکھی گئی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2014]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور یہ ہے کہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض غلاموں نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو بتائے بغیر بچھایا تھا، ابن سعد نے طبقات (۲/۲۹۹) میں وکیع کا قول نقل کیا ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے، اور حسن بصری سے ایک روایت ہے کہ زمین گیلی تھی اس لیے ایک سرخ چادر بچھائی گئی جسے آپ اوڑھتے تھے، اور حسن بصری ہی سے ایک دوسری روایت ہے جس میں ہے «قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افرشوا لي قطیفتي في لحدي، فإن الأرض لم تسلط علی أجساد الأنبیائ» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 30 (967)، سنن الترمذی/الجنائز 55 (1048)، (تحفة الأشراف: 6526)، مسند احمد 1/228، 355 (صحیح)
89: بَابُ : السَّاعَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ إِقْبَارِ الْمَوْتَى، فِيهِنَّ
باب: جن اوقات میں مردوں کو دفن کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، قال: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، قال: " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے ( اور ) اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے : ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے ، اور دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے ، اور ( تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو رہا ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2015]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 561 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الْقَطَّانُ الرَّقِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: " خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلًا وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا ( آپ نے اس میں ) اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا ، اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا ، اور ایک گھٹیا کفن میں کفنایا گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی رات میں دفنایا جائے ، سوائے اس کے کہ وہ اس کے لیے مجبور کر دیا جائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2016]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1896 (صحیح)
90: بَابُ : دَفْنِ الْجَمَاعَةِ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ
باب: کئی لوگوں کو ایک قبر میں دفنانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَنْ نُقَدِّمُ؟ قَالَ: " قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ( غزوہ ) احد کا دن آیا ، تو لوگوں کو سخت پریشانی ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قبریں کھودو اور اسے چوڑی کھودو ، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین دفنا دو “ ، تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! پہلے کسے رکھیں ؟ آپ نے فرمایا : ” پہلے اسے رکھو جسے قرآن زیادہ یاد ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2017]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: اشْتَدَّ الْجِرَاحُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( غزوہ ) احد کے دن ( لوگ ) شدید زخمی ہوئے ( اور جاں بحق ہو گئے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی گئی ۱؎ ، آپ نے فرمایا : ” ( قبریں ) کھودو ، انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ ، اور ایک ( ہی ) قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو ، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہوا سے آگے رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2018]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ سے اس پریشانی کا ذکر کیا گیا کہ اتنے لوگوں کے لیے قبریں کھودنا بہت مشکل امر ہے، انہیں کیسے دفنایا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " احْفِرُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قبریں ) کھودو ، اور انہیں خوبصورت بناؤ ، اور دو دو تین تین کو دفن کرو ، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2019]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)
91: بَابُ : مَنْ يُقَدَّمُ
باب: قبر میں پہلے کون رکھا جائے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( غزوہ ) احد کے دن میرے والد قتل کئے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قبریں ) کھودو اور انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ ، اور ( ایک ہی ) قبر میں دو دو تین تین کو دفنا دو ، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو “ ، چنانچہ میرے والد تین میں کے تیسرے تھے ، اور انہیں قرآن زیادہ یاد تھا تو وہ پہلے رکھے گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2020]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)
92: بَابُ : إِخْرَاجِ الْمَيِّتِ مِنَ اللَّحْدِ بَعْدَ أَنْ يُوضَعَ فِيهِ
باب: میت کو لحد میں رکھنے کے بعد باہر نکالنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا، يَقُولُ: " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي قَبْرِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ" , وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے ، تو آپ نے اسے ( نکالنے کا ) حکم دیا ، چنانچہ وہ نکالا گیا ، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا ، اور اس پر تھو تھو کیا ، اور اسے اپنی قمیص پہنائی ، واللہ اعلم ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2021]
💡 وضاحت:
۱؎: اس پر تھو تھو کرنے اور اسے اپنی قمیص پہنانے میں کیا مصلحت پنہا تھی اسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، بعض لوگوں نے کہا: چونکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی الله عنہ کو اپنی قمیص پہنائی تھی اس لیے آپ نے بدلے میں ایسا کیا، اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے بیٹے کی دلجوئی کے لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ واللہ اعلم
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1902 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَتَفَلَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ" قَالَ جَابِرٌ: " وَصَلَّى عَلَيْهِ" وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکلوایا ، پھر اس کا سر اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا ، اور اس پر تھو تھو کیا ، اور اسے اپنی قمیص پہنائی ۔ اور اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی ، واللہ اعلم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2022]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2509) (صحیح)
93: بَابُ : إِخْرَاجِ الْمَيِّتِ مِنَ الْقَبْرِ بَعْدَ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ
باب: قبر میں رکھ دیئے جانے کے بعد مردے کو نکالنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أخبرنا العباس بن عبد العظيم عن سعيد بن عامر عن شعبة عن بن أبي نجيح عن عطاء عن جابر قال: دفن مع أبي رجل في القبر فلم يطب قلبي حتى أخرجته ودفنته على حدة ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ساتھ قبر میں ایک شخص اور دفن کیا گیا تھا ، میرا دل خوش نہیں ہوا یہاں تک کہ میں نے اسے نکالا ، اور انہیں علاحدہ دفن کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2023]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 77 (1350)، (تحفة الأشراف: 2422)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 79 (3232) (صحیح)
94: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟" قَالُوا: هَذِهِ فُلَانَةُ مَوْلَاةُ بَنِي فُلَانٍ، فَعَرَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَاتَتْ ظُهْرًا وَأَنْتَ نَائِمٌ قَائِلٌ فَلَمْ نُحِبَّ أَنْ نُوقِظَكَ بِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا , ثُمَّ قَالَ: " لَا يَمُوتُ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلَاتِي لَهُ رَحْمَةٌ".
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : یہ فلاں قبیلے کی لونڈی ( کی قبر ) ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا ، وہ دوپہر میں مری تھی ، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے ، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی ، اور آپ نے چار تکبیریں کہیں ، پھر فرمایا : ” جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے مرے اس کی خبر مجھے ضرور دو ، کیونکہ میری نماز اس کے لیے رحمت ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2024]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1528)، (تحفة الأشراف: 11824)، مسند احمد 4/388 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مُنْتَبِذٍ: " فَأَمَّهُمْ وَصَفَّ خَلْفَهُ" , قُلْتُ: مَنْ هُوَ يَا أَبَا عَمْرٍو؟، قال: ابْنُ عَبَّاسٍ.
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرا ، جو الگ تھلگ تھی ، تو آپ نے ان کی امامت کی ، اور اپنے پیچھے ان کی صف بندی کی ۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے ( شعبی ) پوچھا : ابوعمرو ! یہ کون تھے ؟ انہوں نے کہا : ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2025]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، والجنائز 5، 54 (1247)، 55 (1319)، 59 (1324)، 66 (1326)، 69 (1336)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (954)، سنن ابی داود/الجنائز 58 (3196)، سنن الترمذی/الجنائز 47 (1037)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1530)، (تحفة الأشراف: 5766)، مسند احمد 1/224، 283، 338 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال الشَّيْبَانِيُّ , أَنْبَأَنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَرَّ بِقَبْرٍ مُنْتَبِذٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ" , قِيلَ: مَنْ حَدَّثَكَ، قال: ابْنُ عَبَّاسٍ.
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ، اور اپنے پیچھے اپنے اصحاب کی صف بندی کی ، پوچھا گیا : آپ سے کس نے بیان کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2026]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر اسے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2027]
قال الشيخ الألباني: صحيح بما قبله
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2407) (صحیح)
95: بَابُ : الرُّكُوبِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْجَنَازَةِ
باب: نماز جنازہ سے فارغ ہونے کے بعد سواری پر بیٹھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ، فَلَمَّا رَجَعَ أُتِيَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى فَرَكِبَ وَمَشَيْنَا مَعَهُ".
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ( شرکت کے لیے ) نکلے ، تو جب آپ لوٹنے لگے تو ( آپ کے لیے ) بغیر زین کے ننگی پیٹھ والا ایک گھوڑا لایا گیا ، آپ ( اس پر ) سوار ہو گئے ، اور ہم آپ کے ہمراہ پیدل چلنے لگے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2028]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 28 (965)، (تحفة الأشراف: 2194)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 48 (3178)، سنن الترمذی/الجنائز 29 (1013)، مسند احمد 5/90، 102 (صحیح)
96: بَابُ : الزِّيَادَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: قبر اونچی کرنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَأَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ، قال: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ أَوْ يُجَصَّصَ زَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَوْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ قبر پر قبہ بنایا جائے یا اس کو اونچا کیا جائے ، یا اس کو پختہ بنایا جائے ، سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ” یا اس پر لکھا جائے “ کا اضافہ ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2029]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نہی مطلق ہے، اس میں میت کا نام اور اس کی تاریخ وفات تبرک کے لیے قرآن کی آیتیں، اور اسماء حسنٰی وغیرہ لکھنا سبھی داخل ہیں اور یہ سب کچھ منع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 32 (970)، سنن ابی داود/الجنائز 76 (3225)، سنن الترمذی/الجنائز 58 (1052)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 43 (1562، 1563)، (تحفة الأشراف: 2274، 2796)، مسند احمد 3/295، 332، 399 (صحیح)
97: بَابُ : الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: قبر پر عمارت بنانے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ، أَوْ يُبْنَى عَلَيْهَا، أَوْ يَجْلِسَ عَلَيْهَا أَحَدٌ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے ۱؎ یا اس پر عمارت بنانے ۲؎ یا اس پر کسی کے بیٹھنے ۳؎ سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2030]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ فضول خرچی ہے اس سے کوئی فائدہ مردے کو نہیں ہوتا، دوسرے اس میں مردوں کی ایسی تعظیم ہے جو انسان کو شرک کی طرف لے جاتی ہے۔ ۲؎: قبہ اور گنبد وغیرہ بنانے کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ۳؎: یعنی قضائے حاجت کے ارادے سے بیٹھنے یا بطور سوگ بیٹھنے سے منع فرمایا، یا یہ ممانعت میت کی توقیر و تکریم کی خاطر ہے کیونکہ اس سے میت کی تذلیل و توہین ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
98: بَابُ : تَجْصِيصِ الْقُبُورِ
باب: قبروں کو پختہ بنانے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَجْصِيصِ الْقُبُورِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2031]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 32 (970)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 43 (1562)، (تحفة الأشراف: 2668)، مسند احمد 3/332 (صحیح)
99: بَابُ : تَسْوِيَةِ الْقُبُورِ إِذَا رُفِعَتْ
باب: قبریں اونچی بنائی گئی ہوں تو انہیں برابر کر دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ حَدَّثَهُ , قَالَ: " كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا".
ثمامہ بن شفی کہتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں تھے کہ ہمارا ایک ساتھی وفات پا گیا ، تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی قبر ( زمین کے برابر کرنے کا ) حکم دیا ، تو وہ برابر کر دی گئی ۱؎ پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے برابر کرنے کا حکم دیتے سنا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2032]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کوہان کی طرح بنائی جانے کے بجائے مسطح بنائی گئی، گو وہ زمین سے کچھ اونچی ہو، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 31 (968)، سنن ابی داود/الجنائز 72 (3219)، (تحفة الأشراف: 11026)، مسند احمد 6/18، 21 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَا تَدَعَنَّ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ، وَلَا صُورَةً فِي بَيْتٍ إِلَّا طَمَسْتَهَا".
ابوہیاج ( حیان بن حصین اسدی ) کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا : تم کوئی بھی اونچی قبر نہ چھوڑنا مگر اسے برابر کر دینا ، اور نہ کسی گھر میں کوئی مجسمہ ( تصویر ) چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2033]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 31 (969)، سنن ابی داود/الجنائز 72 (3218)، سنن الترمذی/الجنائز 56 (1049)، (تحفة الأشراف: 10083)، مسند احمد 1/96، 98، 111، 129 (صحیح)
100: بَابُ : زِيَارَةِ الْقُبُورِ
باب: قبروں کی زیارت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَامْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم اس کی زیارت کیا کرو ۱؎ ، اور میں نے قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا تو اب جب تک جی چاہے رکھو ، اور میں نے تمہیں مشک کے علاوہ کسی اور برتن میں نبیذ ( پینے ) سے منع کیا تھا ، تو سارے برتنوں میں پیو ( مگر ) کسی نشہ آور چیز کو مت پینا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2034]
💡 وضاحت:
۱؎: قبروں کی زیارت کی ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی تاکہ یہ چیز قبر پرستی اور مردوں سے مدد مانگنے اور فریاد کرنے کا ذریعہ نہ بن جائے پھر جب توحید کی تعلیم دلوں میں بیٹھ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، والأضاحي 5 (1977)، والأشربة 6 (977) (مقتصرا علی الشق الثالث)، سنن ابی داود/الأشربة 7 (3698)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 6 (1870)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 14 (3405)، (تحفة الأشراف: 2001)، مسند احمد 5/350، 355، 356، 357، 361، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4434، 5654، 5657 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ إِلَّا ثَلَاثًا فَكُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَذَكَرْتُ لَكُمْ أَنْ لَا تَنْتَبِذُوا فِي الظُّرُوفِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ انْتَبِذُوا فِيمَا رَأَيْتُمْ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا".
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( موجود ) تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا ( تو اب تم ) کھاؤ ، کھلاؤ اور جب تک جی چاہے رکھ چھوڑو ، اور میں نے تم سے ذکر کیا تھا کہ کدو کی تمبی ، تار کول ملے ہوئے ، اور لکڑی کے اور سبز اونچے گھڑے کے برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ ، ( مگر اب ) جس میں مناسب سمجھو بناؤ ، اور ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو ، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا ( تو اب ) جو بھی زیارت کرنا چاہے کرے ، البتہ تم زبان سے بری بات نہ کہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2035]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2002) (صحیح)
101: بَابُ : زِيَارَةِ قَبْرِ الْمُشْرِكِ
باب: کافر و مشرک کی قبر کی زیارت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: زَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ وَقَالَ: " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی ، تو آپ خود رو پڑے اور جو آپ کے اردگرد تھے انہیں بھی رلا دیا ، اور فرمایا : ” میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں ملی ، ( تو پھر ) میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی ، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2036]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 36 (976)، سنن ابی داود/الجنائز 81 (3234)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 48 (1572)، (تحفة الأشراف: 13439)، مسند احمد 2/441 (صحیح)
102: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ الاِسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین کے لیے مغفرت طلب کرنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ، دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ , فَقَالَ: " أَيْ عَمِّ , قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" , فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ , أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَالَا يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى كَانَ آخِرُ شَيْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ فَنَزَلَتْ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ سورة التوبة آية 113 وَنَزَلَتْ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56.
مسیب بن حزن رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، اور ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں ان کے پاس ( پہلے سے موجود ) تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” چچا جان ! آپ «لا إله إلا اللہ» کا کلمہ کہہ دیجئیے ، میں اس کے ذریعہ آپ کے لیے اللہ عزوجل کے پاس جھگڑوں گا “ ، تو ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں نے ان سے کہا : ابوطالب ! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ لو گے ؟ پھر وہ دونوں ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آخری بات جو عبدالمطلب نے ان سے کی وہ یہ تھی کہ ( میں ) عبدالمطلب کے دین پر ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” میں آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے روک نہ دیا جائے “ ، تو یہ آیت اتری ۱؎ : «‏ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين» ” نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں “ ( التوبہ : ۱۱۳ ) نیز یہ آیت اتری : «إنك لا تهدي من أحببت» ” آپ جسے چاہیں ہدایت کے راستہ پر نہیں لا سکتے “ ( القص : ۵۶ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2037]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں ایک مشکل یہ ہے کہ ابوطالب کی موت ہجرت سے پہلے ہوئی ہے، اور سورۃ برأت جس کی یہ آیت ہے ان سورتوں میں سے جو مدنی دور کے اخیر میں نازل ہوئی ہیں، اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ یہاں یہ مراد نہیں کہ آیت کا نزول آپ کے «لأستغفرن لك ما لم أنه عنك» کہنے کے بعد فوراً ہوا، بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ نزول کا سبب ہے «فنزلت» میں «فاء» سبب بیان کرنے کے لیے ہے نہیں کہ بلکہ «تعقیب» یعنی بعد میں واقع ہونے کی خبر کے لیے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 80 (1360)، ومناقب الأنصار 40 (3884)، وتفسیر التوبة 16 (4675)، والقصص 1 (4772)، والأیمان والنذور 19 (6681)، صحیح مسلم/الإیمان 9 (24)، (تحفة الأشراف: 11281)، مسند احمد 5/433 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ، فَقُلْتُ: أَتَسْتَغْفِرُ لَهُمَا وَهُمَا مُشْرِكَانِ، فَقَالَ: أَوَ لَمْ يَسْتَغْفِرْ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأَبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ سورة التوبة آية 114.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں میں نے ایک شخص کو اپنے ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے ، تو میں نے کہا : کیا تو ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے ؟ حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے ، تو اس نے کہا : کیا ابراہیم ( علیہ السلام ) نے اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی ؟ تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو ( یہ آیت ) اتری : «وما كان استغفار إبراهيم لأبيه إلا عن موعدة وعدها إياه» ” ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا ایک وعدہ کی وجہ سے تھا “ ( التوبہ : ۱۱۴ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2038]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3101) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/تفسیر التوبة (3101)، (تحفة الأشراف: 10181)، مسند احمد 1/99، 103 (حسن)
103: بَابُ : الأَمْرِ بِالاِسْتِغْفَارِ لِلْمُؤْمِنِينَ
باب: مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ , قَالَتْ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: بَلَى، قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي هُوَ عِنْدِي تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا، وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا، وَخَرَجَ رُوَيْدًا، وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي، وَاخْتَمَرْتُ، وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي، وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَطَالَ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ، وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ، فَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ , فَقَالَ: " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ حَشْيَا رَابِيَةً؟" قَالَتْ: لَا، قَالَ: " لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ"، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، قَالَ: " فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي" , قَالَتْ: نَعَمْ، فَلَهَزَنِي فِي صَدْرِي لَهْزَةً أَوْجَعَتْنِي، ثُمَّ قَالَ: " أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ"، قُلْتُ: مَهْمَا يَكْتُمُ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ، قَالَ: " فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ، فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ، فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْبَقِيعَ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ، قُلْتُ: كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ".
محمد بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہی تھیں : کیا میں تمہیں اپنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ضرور بتائیے ، تو وہ کہنے لگیں ، جب وہ رات آئی جس میں وہ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے تو آپ ( عشاء ) سے پلٹے ، اپنے جوتے اپنے پائتانے رکھے ، اور اپنے تہبند کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا ، آپ صرف اتنی ہی مقدار ٹھہرے جس میں آپ نے محسوس کیا کہ میں سو گئی ہوں ، پھر آہستہ سے آپ نے جوتا پہنا اور آہستہ ہی سے اپنی چادر لی ، پھر دھیرے سے دروازہ کھولا ، اور دھیرے سے نکلے ، میں نے بھی اپنا کرتا ، اپنے سر میں ڈالا اور اپنی اوڑھنی اوڑھی ، اور اپنی تہبند پہنی ، اور آپ کے پیچھے چل پڑی ، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے ، اور اپنے ہاتھوں کو تین بار اٹھایا ، اور بڑی دیر تک اٹھائے رکھا ، پھر آپ پلٹے تو میں بھی پلٹ پڑی ، آپ تیز چلنے لگے تو میں بھی تیز چلنے لگی ، پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی ، پھر آپ اور تیز دوڑے تو میں بھی اور تیز دوڑی ، اور میں آپ سے پہلے آ گئی ، اور گھر میں داخل ہو گئی ، اور ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ بھی اندر داخل ہو گئے ، آپ نے پوچھا : ” عائشہ ! تجھے کیا ہو گیا ، یہ سانس اور پیٹ کیوں پھول رہے ہیں ؟ “ میں نے کہا : کچھ تو نہیں ہے ، آپ نے فرمایا : ” تو مجھے بتا دے ورنہ وہ ذات جو باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والی ہے مجھے ضرور بتا دے گی “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، پھر میں نے اصل بات بتا دی تو آپ نے فرمایا : ” وہ سایہ جو میں اپنے آگے دیکھ رہا تھا تو ہی تھی “ ، میں نے عرض کیا : جی ہاں ، میں ہی تھی ، آپ نے میرے سینہ پر ایک مکا مارا جس سے مجھے تکلیف ہوئی ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا تو یہ سمجھتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ظلم کریں گے “ ، میں نے کہا : جو بھی لوگ چھپائیں اللہ تعالیٰ تو اس سے واقف ہی ہے ، ( وہ آپ کو بتا دے گا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے جس وقت تو نے دیکھا ، مگر وہ میرے پاس اندر نہیں آئے کیونکہ تو اپنے کپڑے اتار چکی تھی ، انہوں نے مجھے آواز دی اور انہوں نے تجھ سے چھپایا ، میں نے انہیں جواب دیا ، اور میں نے بھی اسے تجھ سے چھپایا ، پھر میں نے سمجھا کہ تو سو گئی ہے ، اور مجھے اچھا نہ لگا کہ میں تجھے جگاؤں ، اور میں ڈرا کہ تو اکیلی پریشان نہ ہو ، خیر انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں مقبرہ بقیع آؤں ، اور وہاں کے لوگوں کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کروں “ ، میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں کیا کہوں ( جب بقیع میں جاؤں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہو «السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين يرحم اللہ المستقدمين منا والمستأخرين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» ” سلامتی ہو ان گھروں کے مومنوں اور مسلمانوں پر ، اللہ تعالیٰ ہم میں سے اگلے اور پچھلے ( دونوں ) پر رحم فرمائے ، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے ( ہی ) والے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2039]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 35 (974)، (تحفة الأشراف: 17593)، مسند احمد 6/221، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 3415، 3416 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَبِسَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ خَرَجَ , قَالَتْ: فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي بَرِيرَةَ تَتْبَعُهُ فَتَبِعَتْهُ، حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ فَأَخْبَرَتْنِي، فَلَمْ أَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اپنا کپڑا پہنا پھر ( باہر ) نکل گئے ، تو میں نے اپنی لونڈی بریرہ کو حکم دیا کہ وہ پیچھے پیچھے جائے ، چنانچہ وہ آپ کے پیچھے پیچھے گئی یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع پہنچے ، تو اس کے قریب کھڑے رہے جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے کھڑا رکھنا چاہا ، پھر آپ پلٹے تو بریرہ آپ سے پہلے پلٹ کر آ گئی ، اور اس نے مجھے بتایا ، لیکن میں نے آپ سے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ صبح کیا ، تو میں نے آپ کو ساری باتیں بتائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ میں ان کے حق میں دعا کروں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2040]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17962)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (55)، مسند احمد 6/92 (ضعیف الإسناد) (اس کی راویہ ’’ام علقمہ مرجانہ‘‘ لین الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَتْ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْرُجُ فِي آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقُولُ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا وَإِيَّاكُمْ مُتَوَاعِدُونَ غَدًا أَوْ مُوَاكِلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے یہاں ہوتی تو رات کے آخری ( حصے ) میں مقبرہ بقیع کی طرف نکل جاتے ، ( اور ) کہتے : «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا وإياكم متواعدون غدا أو مواكلون وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون اللہم اغفر لأهل بقيع الغرقد» ” اے مومن گھر ( قبرستان ) والو ! تم پر سلامتی ہو ، ہم اور تم آپس میں ایک دوسرے سے کل کی حاضری کا وعدہ کرنے والے ہیں ، اور آپس میں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے ہیں ، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں ، اے اللہ ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2041]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 35 (974)، مسند احمد 6/180، (تحفة الأشراف: 17396) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى عَلَى الْمَقَابِرِ , فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَافِيَةَ لَنَا وَلَكُمْ".
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قبرستان آتے تو فرماتے : «‏السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون أنتم لنا فرط ونحن لكم تبع أسأل اللہ العافية لنا ولكم» ” اے مومن اور مسلمان گھر والو ! تم پر سلامتی ہو ، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم ( عنقریب ) تم سے ملنے والے ہیں ، تم ہمارے پیش رو ہو ، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں ۔ میں اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کی درخواست کرتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2042]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 35 (975)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 36 (1547)، (تحفة الأشراف: 1930)، مسند احمد 5/353، 359) 360، والمؤلف فی عمل الیوم واللیلة 318 (1091) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَغْفِرُوا لَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نجاشی ( شاہ حبشہ ) کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ ان کی بخشش کی دعا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2043]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15152) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: " اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شاہ حبشہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2044]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1880 (صحیح)
104: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي اتِّخَاذِ السُّرُجِ عَلَى الْقُبُورِ
باب: قبروں پر چراغاں کرنے پر وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والیوں پر ، اور انہیں سجدہ گاہ بنانے اور ان پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2045]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3236) ترمذي (320) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 82 (3236)، سنن الترمذی/الصلاة 122 (320)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 49 (1575) مختصراً، (تحفة الأشراف: 5370)، مسند احمد 1/229، 287، 324، 737 (ضعیف) (اس کے راوی ”ابو صالح باذام مولی ام ھانی‘‘ ضعیف اور مدلس ہیں)
105: بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي الْجُلُوسِ عَلَى الْقُبُورِ
باب: قبروں پر بیٹھنے پر وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ حَتَّى تَحْرُقَ ثِيَابَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کا انگارے پر بیٹھنا یہاں تک کہ اس کے کپڑے جل جائیں اس کے لیے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2046]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 33 (971)، (تحفةا الأشراف: 12662)، قد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 77 (3228)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 45 (1566)، مسند احمد 2/311، 389، 444، 528 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقْعُدُوا عَلَى الْقُبُورِ".
عمرو بن حزم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ قبروں پر نہ بیٹھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2047]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10727) (صحیح) (اس کے راوی ’’نصر سلمی‘‘ مجہول ہیں، لیکن پچھلی روایت نیز ابو مرثد رضی الله عنہ کی روایت صحیح ہے)
106: بَابُ : اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ
باب: قبروں کو مسجد بنانے پر وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2048]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16123)، مسند احمد 6/146، 252 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی ہے ( کیونکہ ) ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2049]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13318)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 54 (434)، صحیح مسلم/المساجد 3 (529)، سنن ابی داود/الجنائز 76 (3227)، مسند احمد 2/246، 260، 284، 285، 366، 396، (بعضھم بلفظ ’’قاتل‘‘ الخ) (صحیح)
107: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الْمَشْىِ بَيْنَ الْقُبُورِ فِي النِّعَالِ السِّبْتِيَّةِ
باب: بالدار چمڑے کی جوتیوں میں قبروں کے درمیان چلنے کی کراہت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، أَنَّ بَشِيرَ ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: " لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ شَرًّا كَثِيرًا"، ثُمَّ مَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ: " لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا"، فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ، فَرَأَى رَجُلًا يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ فِي نَعْلَيْهِ , فَقَالَ: " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا".
بشیر بن خصاصیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” یہ لوگ بڑے شر و فساد سے ( بچ ) کر آگے نکل گئے “ ، پھر آپ مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” یہ لوگ بڑے خیر سے ( محروم ) ہو کر آگے نکل گئے “ ، پھر آپ متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص اپنی دونوں جوتیوں میں قبروں کے درمیان چل رہا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے سبتی جوتوں والو ! انہیں اتار دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2050]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 78 (3230)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 46 (1568)، (تحفة الأشراف: 2021)، مسند احمد 5/83، 84، 224 (حسن)
108: بَابُ : التَّسْهِيلِ فِي غَيْرِ السِّبْتِيَّةِ
باب: سبتی جوتیوں کے علاوہ میں چھوٹ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں ، تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2051]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مؤلف نے اس بات پر استدلال ہے کہ سبتی جوتیوں کے علاوہ دوسری جوتیاں پہن کر قبروں کے درمیان چلنا جائز ہے کیونکہ جوتیوں کی آواز اسی وقت سنی جا سکتی ہے جب انہیں پہن کر ان میں چلا جائے، واضح رہے کہ سبتی جوتیوں کے علاوہ کی قید مؤلف نے دونوں روایتوں میں تطبیق پیدا کرنے کے لیے لگائی ہے، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سبتی جوتوں کی بات اتفاقی ہے، وہ شخص اس وقت سبتی جوتے پہنے تھا، اگر ان کے سوا کوئی اور جوتے بھی ہوتے تو آپ یہی فرماتے، اور اس حدیث میں بات بیان جواز کی ہے یا قبروں سے بچ بچ کر جوتوں میں چل سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 67 (1338)، 86 (1373، 1374)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2870)، سنن ابی داود/الجنائز 78 (3231)، والسنة 27 (4752)، (تحفة الأشراف: 1170)، حصحیح مسلم/3/126، 233 (صحیح)
109: بَابُ : الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ
باب: قبر میں مردہ سے سوال و جواب۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ , قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا".
انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتیوں کی آواز سنتا ہے ، ( پھر ) اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں ، اور اسے بٹھاتے ہیں ، ( اور ) اس سے پوچھتے ہیں : تم اس شخص ( محمد ) کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو اس سے کہا جائے گا کہ تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو ، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمہیں جنت میں ٹھکانا دیا ہے “ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” تو وہ ان دونوں ( جنت و جہنم ) کو ایک ساتھ دیکھے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2052]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنة 17 (2870)، (تحفة الأشراف: 1300)، مسند احمد 3/126 (صحیح)
110: بَابُ : مَسْأَلَةِ الْكَافِرِ
باب: قبر میں کافر و مشرک سے سوال و جواب۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ , فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ , فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ , فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا خَيْرًا مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ , فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے ، ( پھر ) دو فرشتے آتے ہیں ، ( اور ) اسے بٹھاتے ہیں ( پھر ) اس سے پوچھتے ہیں : تم اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، ( پھر ) اس سے کہا جاتا ہے تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے بدلے ایک اچھا ٹھکانا دیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : وہ ان دونوں ( جنت و جہنم ) کو ایک ساتھ دیکھتا ہے ، اور رہا کافر یا منافق تو اس سے پوچھا جاتا ہے : اس شخص ( محمد ) کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ ، تو وہ کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے ، تو اس سے کہا جائے گا : نہ تم نے خود جاننے کی کوشش کی ، اور نہ جانکار لوگوں کی پیروی کی ، پھر اس کے دونوں کانوں کے بیچ ایک ایسی مار ماری جاتی ہے کہ وہ ایسے زور کی چیخ مارتا ہے جسے انسان اور جنات کے علاوہ جو بھی اس کے قریب ہوتے ہیں سبھی سنتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2053]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2051 (صحیح)
111: بَابُ : مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ
باب: پیٹ کی بیماری میں مرنے والے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، وخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ، فَذَكَرُوا: أَنَّ رَجُلا تُوُفِّيَ مَاتَ بِبَطْنِهِ، فَإِذَا هُمَا يَشْتَهِيَانِ أَنْ يَكُونَا شُهَدَاءَ جِنَازَتِهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَقْتُلْهُ بَطْنُهُ فَلَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ" , فَقَالَ الْآخَرُ: بَلَى.
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور ( وہیں ) سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہٰ رضی اللہ عنہما ( بھی ) موجود تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ ایک آدمی اپنے پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا ہے ، تو ان دونوں نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں ، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے کہ ” جو پیٹ کے عارضہ میں مرے اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا “ ، تو دوسرے نے کہا : کیوں نہیں ، آپ نے ایسا فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2054]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجنائز 65 (1064)، (تحفة الأشراف: 3503)، مسند احمد 4/262 و 5/292 (صحیح)
112: بَابُ : الشَّهِيدِ
باب: شہید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ , عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَالُ الْمُؤْمِنِينَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ إِلَّا الشَّهِيدَ، قَالَ: " كَفَى بِبَارِقَةِ السُّيُوفِ عَلَى رَأْسِهِ فِتْنَة".
ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا بات ہے ؟ سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں ، سوائے شہید کے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس کے سروں پر چمکتی تلوار کی آزمائش کافی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2055]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15569) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: " الطَّاعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِيقُ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ" , قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ مِرَارًا، وَرَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں طاعون سے مرنے والا ، پیٹ کے مرض میں مرنے والا ، ڈوب کر مرنے والا ، اور زچگی کی وجہ سے مرنے والی عورت شہید ہے ۔ وہ ( تیمی ) کہتے ہیں : ہم سے ابوعثمان نے بارہا بیان کیا ، ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مرفوع بیان کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2056]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4948)، مسند احمد 3/400، 401 و 6/465، 466، سنن الدارمی/الجھاد 22 (صحیح)
113: بَابُ : ضَمَّةِ الْقَبْرِ وَضَغْطَتِهِ
باب: قبر کے دبانے اور دبوچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہی وہ شخص ہے جس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا ، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے ، اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے ، ( پھر بھی قبر میں ) اسے ایک بار بھینچا گیا ، پھر ( یہ عذاب ) اس سے جاتا رہا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2057]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7926) (صحیح)
114: بَابُ : عَذَابِ الْقَبْرِ
باب: قبر کے عذاب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 , قَالَ: " نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ” اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ٹھیک بات پر قائم رکھے گا “ ( ابراہیم : ۲۷ ) ۔ عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2058]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنة 17 (2871)، (تحفة الأشراف: 1754) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 , قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ , فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة‏» ” اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت ( دونوں میں ) ٹھیک بات پر قائم رکھے گا “ ۔ عذاب قبر کے سلسلے میں اتری ہے ۔ میت سے پوچھا جائے گا : تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہے گا : میرا رب اللہ ہے ، میرا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے ۔ اللہ کے قول : «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» سے یہی مراد ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2059]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 86 (1369)، وتفسیر سورة ابراھیم 2 (4699)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2871)، سنن ابی داود/السنة 27 (4750، 4753)، سنن الترمذی/تفسیر سورة إبراھیم (3119)، سنن ابن ماجہ/الزھد 32 (4269)، (تحفة الأشراف: 1762)، مسند احمد 4/282، 291 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ , فَقَالَ: " مَتَى مَاتَ هَذَا؟" قَالُوا مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ: " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قبر سے ایک آواز سنی تو پوچھا : ” یہ کب مرا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : زمانہ جاہلیت میں مرا ہے ، آپ اس بات سے خوش ہوئے ، اور فرمایا : ” اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے ، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر سنا دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2060]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 711)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2868)، مسند احمد 3/103، 111، 114، 153، 175، 176، 201، 273، 284 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا , فَقَالَ: " يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا".
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈوبنے کے بعد نکلے ، تو ایک آواز سنی ، آپ نے فرمایا : ” یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جا رہے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2061]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 87 (1375)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2869)، (تحفة الأشراف: 3454)، مسند احمد 5/417، 419 (صحیح)
115: بَابُ : التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
باب: عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے : «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من عذاب النار وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال» ” اے اللہ ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور مسیح دجال کی آزمائش سے ( بھی ) تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2062]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15435)، صحیح البخاری/الجنائز 87 (1377)، مسند احمد 2/414، ویأتی عند المؤلف برقم: 5508 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2063]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: یہودی عورت کے عذاب قبر کے ذکر کے بعد آپ نے عذاب قبر سے پناہ مانگنی شروع کر دی تھی، دیکھئیے حدیث رقم: ۲۰۶۶۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 24 (585)، (تحفة الأشراف: 12284) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ , تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْفِتْنَةَ الَّتِي يُفْتَنُ بِهَا الْمَرْءُ فِي قَبْرِهِ، فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَكَنَتْ ضَجَّتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي، أَيْ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ قَوْلِهِ؟ قَالَ: " قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ".
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ( اور ) اس آزمائش کا ذکر کیا جس سے آدمی اپنی قبر میں دوچار ہوتا ہے ، تو جب آپ نے اس کا ذکر کیا تو مسلمانوں نے ایک چیخ ماری جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سمجھنے کے درمیان حائل ہو گئی ، جب ان کی چیخ و پکار بند ہوئیں تو میں نے ایک شخص سے جو مجھ سے قریب تھا کہا : اللہ تجھے برکت دے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطاب کے آخر میں کیا کہا تھا ؟ اس نے کہا : ( آپ نے فرمایا تھا : ) ” مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی جو دجال کی آزمائش کے قریب قریب ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2064]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 24 (86)، والوضوء 37 (184)، والجمعة 29 (1053)، والکسوف 10 (1061)، والجنائز 86 (1373) مختصراً، والاعتصام 2 (7287)، (تحفة الأشراف: 15728)، صحیح مسلم/الکسوف 3 (905)، موطا امام مالک/الکسوف 2 (4)، مسند احمد 6/345، 354 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ , قُولُوا: " اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا انہیں اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے ، آپ فرماتے کہو : «اللہم إنا نعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ” اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں جہنم کے عذاب سے ، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے ، اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے ، اور تیری پناہ مانگتا ہوں موت اور زندگی کی آزمائش سے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2065]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 25 (590)، سنن ابی داود/الصلاة 367 (1542)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3494)، (تحفة الأشراف: 5752)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3840)، موطا امام مالک/القرآن 8 (33)، مسند احمد 1/242، 258، 298، 311، ویأتي عند المؤلف برقم: 5514 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ , وَهِيَ تَقُولُ: إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ، فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ"، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، میرے پاس ایک یہودی عورت تھی ، وہ کہہ رہی تھی کہ تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے ، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے ، اور فرمایا : ” صرف یہودیوں ہی کی آزمائش ہو گی “ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر ہم کئی رات ٹھہرے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھ پر وحی آئی ہے کہ تمہیں ( بھی ) قبروں میں آزمایا جائے گا “ ، اس کے بعد سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنتی رہی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2066]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 24 (584)، (تحفة الأشراف: 16712)، مسند احمد 6/89، 238، 248، 271 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ , وَقَالَ: " إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب ، اور دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرتے ، اور فرماتے : ” تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2067]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17944)، ویأتی برقم: 5506 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ دَخَلَتْ يَهُودِيَّةٌ عَلَيْهَا فَاسْتَوْهَبَتْهَا شَيْئًا، فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ , فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی ( اور ) اس نے ان سے کوئی چیز مانگی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے دیا تو اس نے کہا : اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے ! عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو اس کی یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2068]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الدعوات 37 (6366)، صحیح مسلم/المساجد 24 (586)، (تحفة الأشراف: 17611)، مسند احمد 6/44، 205 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَتَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أَنْعَمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ عَجُوزَتَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ , قَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ , قَالَ: " صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا" , فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں یہود مدینہ کی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں میرے پاس آئیں ، ( اور ) کہنے لگیں کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے ، تو میں نے ان کو جھٹلا دیا اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ان کی تصدیق کروں ، وہ دونوں نکل گئیں ( تبھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہود مدینہ کی بوڑھیوں میں سے دو بوڑھیاں کہہ رہی تھیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دونوں نے سچ کہا ، انہیں عذاب دیا جاتا ہے جسے سارے چوپائے سنتے ہیں “ ، ( پھر ) میں نے دیکھا آپ ہر صلاۃ کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2069]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
116: بَابُ : وَضْعِ الْجَرِيدَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: قبر پر کھجور کی ٹہنی رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ مَكَّةَ أَوِ الْمَدِينَةِ، سَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ , ثُمَّ قَالَ: بَلَى كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ"، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً , فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: " لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ یا مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے دو انسانوں کی آوازیں سنیں جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے ، اور انہیں کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دیا جا رہا ہے ۱؎ ، بلکہ ان میں سے ایک اچھی طرح اپنے پیشاب سے پاکی نہیں حاصل کرتا تھا ، اور دوسرا چغل خوری ۲؎ کرتا تھا “ ، پھر آپ نے ایک ٹہنی منگوائی ( اور ) اس کے دو ٹکڑے کئے پھر ان میں سے ہر ایک کی قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا ، تو آپ سے سوال کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ” شاید ان کے عذاب میں نرمی کر دی جائے جب تک یہ دونوں ( ٹہنیاں ) خشک نہ ہوں “ ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے «ما لم ييبسا أو أن ييبسا» فرمایا ، یا «إلى أن ييبسا» فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2070]
💡 وضاحت:
۱؎: کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دیا جا رہا ہے کا مطلب ہے ان کے خیال میں وہ کوئی بڑا جرم نہیں ورنہ شریعت کی نظر میں تو وہ بڑا جرم تھا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کبیر سے مراد ہے کہ ان کا ترک کرنا کوئی زیادہ مشکل امر نہیں تھا اگر چاہتا تو آسانی سے اس گناہ سے بچ سکتا تھا۔ ۲؎: دو آدمیوں میں فساد ڈالنے کی نیت سے ایک بات دوسرے تک پہنچانے کا نام چغل خوری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 31 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ: " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ"، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ فَقَالَ: " لَعَلَّهُمَا أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ” ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے ، اور یہ کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دئیے جا رہے ہیں ، رہا ان میں سے ایک تو وہ اپنے پیشاب سے اچھی طرح پاکی حاصل نہیں کرتا تھا ، اور رہا دوسرا تو وہ چغل خوری کرتا تھا ، پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری ٹہنی لی ( اور ) اسے آدھا آدھا چیر دیا ، پھر ہر ایک کی قبر پہ گاڑ دیا “ ، تو لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا کر دیا جائے جب تک یہ دونوں ( ٹہنیاں ) خشک نہ ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2071]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 31 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے ، اگر جنتی ہے تو جنت میں کا ، اور اگر جہنمی ہے تو جہنم میں کا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز اٹھائے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2072]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اٹھائے جانے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا، اور وہ اپنے اس ٹھکانے میں پہنچ جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 89 (1379)، وبدء الخلق 8 (3240)، والرقاق 42 (6515)، (تحفة الأشراف: 8292)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنة 17 (2866)، سنن الترمذی/الجنائز 70 (1072)، سنن ابن ماجہ/الزھد 32 (4270)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (47)، مسند احمد 2/16، 51، 113، 123 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُعْرَضُ عَلَى أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، قِيلَ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے ، چنانچہ اگر وہ جہنمی ہے تو جہنمیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے ( پیش کیا جائے گا ) ، اور کہا جاتا ہے : یہ ہے تمہارا ٹھکانا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے روز اٹھائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2073]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8125) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ عُرِضَ عَلَى مَقْعَدِهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس کا ٹھکانا اس پر صبح و شام پیش کیا جاتا ہے ، اگر وہ جنتی ہے تو جنتیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے ، اور اگر جہنمی ہے تو جہنمیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے ، ( اور اس سے ) کہا جاتا ہے : یہ تمہارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل تمہیں قیامت کے روز اٹھائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2074]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 89 (1379)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2866)، (تحفة الأشراف: 8361)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (47)، مسند احمد 2/113 (صحیح)
117: بَابُ : أَرْوَاحِ الْمُؤْمِنِينَ
باب: مومنوں کی روحوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کی جان جنت کے درختوں پہ اڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم کی طرف بھیج دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2075]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجھاد 13 (1641)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 4 (1449)، والزھد 32 (4271)، (تحفة الأشراف: 11148)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (49)، مسند احمد 3/455، 456، 460، 6/386 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، أَخَذَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ , فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالْأَمْسِ قَالَ: " هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا" قَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا تِيكَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ، فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى" يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا" , فَقَالَ عُمَرُ: تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا، فَقَالَ: " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ وہ ہم سے اہل بدر کے سلسلہ میں بیان کرنے لگے ، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( کافروں کے ) مارے جانے کی جگہیں ایک دن پہلے دکھلا دیں ، اور فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل فلاں کے پچھاڑ کھا کر گرنے کی جگہ یہاں ہو گی ، اور فلاں کی یہاں “ ، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ! ان جگہوں میں کوئی فرق نہیں آیا ، چنانچہ انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا ، ( پھر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، ( اور ) پکارا : ” اے فلاں ، فلاں کے بیٹے ! اے فلاں ، فلاں کے بیٹے ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے صحیح پایا ؟ میں نے تو اللہ نے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اسے صحیح پایا “ ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2076]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنة 17 (2873)، (تحفة الأشراف: 10410)، مسند احمد 1/26 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ مِنَ اللَّيْلِ بِبِئْرِ بَدْرٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُنَادِي" يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوَ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا , فَقَالَ: " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے رات کو بدر کے کنویں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے آواز لگاتے سنا : ” اے ابوجہل بن ہشام ! اے شیبہ بن ربیعہ ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اور اے امیہ بن خلف ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے صحیح پایا ؟ ، میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو محض بدبودار لاش ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے ، لیکن ( فرق صرف اتنا ہے کہ ) وہ جواب نہیں دے سکتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2077]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 713)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2874)، مسند احمد 3/104، 220، 263 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ , فَقَالَ: " هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، قَالَ: إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ الْآنَ مَا أَقُولُ لَهُمْ"، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ: وَهِلَ ابْنُ عُمَرَ , إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُمُ الْآنَ يَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ"، ثُمَّ قَرَأَتْ قَوْلَهُ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے ( اور ) فرمایا : ” کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا ؟ “ ( پھر ) آپ نے فرمایا : ” اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں “ ، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا ، تو انہوں نے کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) کہا تھا : ” یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا “ ، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا : «إنك لا تسمع الموتى» ( النمل : ۸۰ ) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2078]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 8 (3980)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (932)، (تحفة الأشراف: 7323)، مسند احمد 2/38 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، وَمُغِيرَةُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ بَنِي آدَمَ وَفِي حَدِيثِ مُغِيرَةَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ , يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی آدم ( کے جسم کا ہر حصہ ) ، ( مغیرہ والی حدیث میں ہے ) ابن آدم ( کے جسم کے ہر حصہ کو ) مٹی کھا جاتی ہے ، سوائے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے ، اسی سے وہ پیدا کیا گیا ہے ، اور اسی سے ( دوبارہ ) جوڑا جائے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2079]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر الزمر 4 (4814)، وتفسیر النبأ 1 (4945)، صحیح مسلم/الفتن 28 (2955)، سنن ابی داود/السنة 24 (4743)، (تحفة الأشراف: 13835، 13884)، سنن ابن ماجہ/الزھد 32 (4266)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (48)، مسند احمد 2/315، 322، 428، 499 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي، وَشَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ , فَقَوْلُهُ: إِنِّي لَا أُعِيدُهُ كَمَا بَدَأْتُهُ، وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ بِأَعَزَّ عَلَيَّ مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ , فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ مجھے جھٹلانا اس کے لیے مناسب نہ تھا ، ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ مجھے گالی دینا اس کے لیے مناسب نہ تھا ، رہا اس کا مجھے جھٹلانا تو وہ اس کا ( یہ ) کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہیں کر سکوں گا جیسے پہلی بار کیا تھا ، حالانکہ آخری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ دشوار مشکل نہیں ، اور رہا اس کا مجھے گالی دینا تو وہ اس کا ( یہ ) کہنا ہے کہ اللہ کے بیٹا ہے ، حالانکہ میں اللہ اکیلا اور بے نیاز ہوں ، نہ میں نے کسی کو جنا ، نہ مجھے کسی نے جنا ، اور نہ کوئی میرا ہم سر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2080]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13869)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 1 (3193)، وتفسیر سورة الصمد 1 (4974)، مسند احمد 2/317، 350، 394 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ حَتَّى حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ، قَالَ: فَفَعَلَ أَهْلُهُ ذَلِكَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ شَيْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا: أَدِّ مَا أَخَذْتَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: خَشْيَتُكَ , فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا : ” ایک بندے نے اپنے اوپر ( بڑا ) ظلم کیا ، یہاں تک کہ موت ( کا وقت ) آپ پہنچا ، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا : جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر مجھے پیس ڈالنا ، کچھ ہوا میں اڑا دینا اور کچھ سمندر میں ڈال دینا ، اس لیے کہ اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوا تو ایسا ( سخت ) عذاب دے گا کہ ویسا عذاب اپنی کسی مخلوق کو نہیں دے گا “ ، تو اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جس نے اس کا کچھ حصہ لیا تھا حکم دیا کہ حاضر کرو جو کچھ تم نے لیا ہے ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سامنے کھڑا ہے ، ( تو ) اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا ؟ اس نے کہا : تیرے خوف نے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2081]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3481)، والتوحید 35 (7506)، صحیح مسلم/التوبة 5 (2756)، سنن ابن ماجہ/الزھد 30 (4255)، (تحفة الأشراف: 12280)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (51)، مسند احمد 2/269 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ يَقْدِرْ عَلَيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي، قَالَ: فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ فَتَلَقَّتْ رُوحَهُ , قَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: يَا رَبِّ , مَا فَعَلْتُ إِلَّا مِنْ مَخَافَتِكَ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا ، چنانچہ جب موت ( کا وقت ) آپ پہنچا ، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا : جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر پیس ڈالنا ، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا ، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہو گا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے ، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا ؟ اس نے کہا : اے میرے رب ! میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2082]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3479)، والرقاق 25 (6480)، (تحفة الأشراف: 3312)، مسند احمد 5/383، 395، 407 (صحیح)
118: بَابُ : الْبَعْثِ
باب: موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَقُولُ: " إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے سنا آپ فرما رہے تھے : ” تم اللہ تعالیٰ سے ننگے پاؤں ، ننگے بدن ( اور ) غیر مختون ملو گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2083]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه -
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق 45 (6524، 6525)، صحیح مسلم/الجنة 14 (2860)، (تحفة الأشراف: 5583)، وقد أخرجہ: حم1/220 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُرَاةً غُرْلًا، وَأَوَّلُ الْخَلَائِقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ قیامت کے دن ننگ دھڑنگ ، غیر مختون اکٹھا کیے جائیں گے ، اور مخلوقات میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا ، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی : «كما بدأنا أول خلق نعيده» ” جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے “ ( الانبیاء : ۱۰۴ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2084]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأنبیاء 8 (3349)، 49 (3447)، تفسیر المائدة 13 (4626)، تفسیر الأنبیاء 2 (4740)، الرقاق 45 (6526)، صحیح مسلم/الجنة 14 (2860)، سنن الترمذی/صفة القیامة 3 (2423)، تفسیر الأنبیاء (3167)، (تحفة الأشراف: 5622)، مسند احمد 1/223، 229، 235، 253، سنن الدارمی/الرقاق 82 (2844)، ویأتي برقم: 2089 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ؟ قَالَ: " لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں ، ننگے بدن ( اور ) غیر مختون اٹھائے جائیں گے “ ، تو اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا حال ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہو گی جو اسے ( ان چیزوں سے ) بے نیاز کر دے گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2085]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16628)، مسند احمد 6/90 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً" , قُلْتُ: الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ: " إِنَّ الْأَمْرَ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَلِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ ( قیامت کے دن ) ننگے پاؤں ( اور ) ننگے بدن اکٹھا کیے جاؤ گے “ ، میں نے پوچھا : مرد عورت سب ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معاملہ اتنا سنگین ہو گا کہ انہیں اس کی فکر نہیں ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2086]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق 45 (6527)، صحیح مسلم/الجنة 14 (2859)، سنن ابن ماجہ/الزہد 33 (4276)، (تحفة الأشراف: 17461)، مسند احمد 6/53 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ، رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ، اثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَعَشْرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ قیامت کے دن تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے ، کچھ جنت کی رغبت رکھنے والے اور جہنم سے ڈرنے والے ہوں گے ۱؎ ، اور کچھ لوگ ایک اونٹ پر دو سوار ہوں گے ، ایک اونٹ پر تین سوار ہوں گے ، ایک اونٹ پر چار سوار ہوں گے ، ایک اونٹ پر دس سوار ہوں گے ، اور بقیہ لوگوں کو آگ ۱؎ اکٹھا کرے گی ، ان کے ساتھ وہ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے ، رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے ، صبح کرے گی جہاں وہ صبح کریں گے ، اور شام کرے گی جہاں وہ شام کریں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2087]
💡 وضاحت:
۱؎: اس آگ کا ذکر بہت سی حدیثوں میں آیا ہوا ہے، یہ عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو شام کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔ ۲؎: یہ پہلا گروہ ہو گا جو موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسی وقت چل پڑے گا جب سواریوں اور زاد راہ کی بہتات ہو گی، چنانچہ وہ سوار ہو کر کھاتا اور پہنتا پہنچے گا، اور کچھ بیٹھے رہیں جب سواریاں کم ہو جائیں گی تب چلیں گے، ایک اونٹ پر کئی کئی لوگ سوار ہوں گے، اور تیسرا گروہ وہ ہو گا جو سواریوں سے محروم ہو گا، اور جسے آگ پا پیادہ ہانک کر لے جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق 45 (6522)، صحیح مسلم/الجنة 14 (2861)، (تحفة الأشراف: 13521) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَدَّثَنِي: " أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ: فَوْجٌ رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ، وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ، وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ يُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ فَلَا يَبْقَى حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ يُعْطِيهَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ ( قیامت کے دن ) تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے : ایک گروپ سوار ہو گا ، کھاتے ( اور ) پہنتے اٹھے گا ، اور ایک گروہ کو فرشتے اوندھے منہ گھسیٹیں گے ، اور انہیں آگ گھیر لے گی ، اور ایک گروہ پیدل چلے گا ( بلکہ ) دوڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفت نازل کر دے گا ، چنانچہ کوئی سواری باقی نہ رہے گی ، یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس باغ ہو گا جسے وہ ایک پالان والے اونٹ کے بدلے میں دیدے گا جس پر وہ قادر نہ ہو سکے گا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2088]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11906)، مسند احمد 5/164 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ولید بن عبداللہ بن جمیع‘‘ حافظہ کے ذرا کمزور راوی ہیں، اس لیے کبھی کبھی انہیں روایتوں میں وہم ہو جایا کرتا تھا)
119: بَابُ : ذِكْرِ أَوَّلِ مَنْ يُكْسَى
باب: (قیامت کے دن) جسے سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , وَأَبُو دَاوُدَ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْعِظَةِ , فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عُرَاةً قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حُفَاةً غُرْلًا، وَقَالَ وَكِيعٌ، وَوَهْبٌ: عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104 , قَالَ: أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِنَّهُ سَيُؤْتَى قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: يُجَاءُ، وَقَالَ وَهْبٌ، وَوَكِيعٌ سَيُؤْتَى بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ , فَأَقُولُ: رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ , فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَى قَوْلِهِ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ سورة المائدة آية 117 - 118 الْآيَةَ , فَيُقَالُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُدْبِرِينَ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا : ” لوگو ! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے ، ( ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے ، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے : ننگے جسم اور بلا ختنہ ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے ، اور عنقریب میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے ( ابوداؤد کی روایت میں «یجائ» ہے اور وہب اور وکیع کی روایت میں «سیؤتی» ہے ) اور وہ پکڑ کر بائیں جانب لے جائے جائیں گے ، میں عرض کروں گا : اے میرے رب ! یہ میرے اصحاب ( امتی ) ہیں ، کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے جو آپ کے بعد انہوں نے شریعت میں نئی چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں ، تو میں وہی کہوں گا جو نیکوکار بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا تھا کہ جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا ان پر گواہ تھا جب تو نے مجھے وفات دے دی ( تو تو ہی ان کا نگہبان تھا ) اب اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست حکمت والا ہے ، تو کہا جائے گا : یہ لوگ برابر پیٹھ پھیرنے والے رہے ، ( اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : جب سے تم ان سے جدا ہوئے یہ اپنے ایڑیوں کے بل پلٹنے والے رہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2089]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2084 (صحیح)
120: بَابُ : فِي التَّعْزِيَةِ
باب: تعزیت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ يَجْلِسُ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ لَهُ ابْنٌ صَغِيرٌ، يَأْتِيهِ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَيُقْعِدُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَهَلَكَ، فَامْتَنَعَ الرَّجُلُ أَنْ يَحْضُرَ الْحَلْقَةَ لِذِكْرِ ابْنِهِ فَحَزِنَ عَلَيْهِ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَالِي لَا أَرَى فُلَانًا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بُنَيُّهُ الَّذِي رَأَيْتَهُ هَلَكَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ بُنَيِّهِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ هَلَكَ، فَعَزَّاهُ عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " يَا فُلَانُ أَيُّمَا كَانَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ تَمَتَّعَ بِهِ عُمُرَكَ أَوْ لَا تَأْتِي غَدًا إِلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، إِلَّا وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ، يَفْتَحُهُ لَكَ" , قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُهَا لِي لَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ: " فَذَاكَ لَكَ".
قرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے پاس بیٹھتی ، ان میں ایک ایسے آدمی بھی ہوتے جن کا ایک چھوٹا بچہ ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آتا ، تو وہ اسے اپنے سامنے ( گود میں ) بٹھا لیتے ( چنانچہ کچھ دنوں بعد ) وہ بچہ مر گیا ، تو اس آدمی نے اپنے بچے کی یاد میں محفل میں آنا بند کر دیا ، اور رنجیدہ رہنے لگا ، تو ( جب ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پایا تو پوچھا : ” کیا بات ہے ؟ میں فلاں کو نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کا ننھا بچہ جسے آپ نے دیکھا تھا مر گیا ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ملاقات کی ، ( اور ) اس کے بچے کے بارے میں پوچھا ، تو اس نے بتایا کہ وہ مر گیا ، تو آپ نے اس کی ( موت کی خبر ) پر اس کی تعزیت کی ، پھر فرمایا : ” اے فلاں ! تجھ کو کون سی بات زیادہ پسند ہے ؟ یہ کہ تم اس سے عمر بھر فائدہ اٹھاتے یا یہ کہ ( جب ) تم قیامت کے دن جنت کے کسی دروازے پر جاؤ تو اسے اپنے سے پہلے پہنچا ہوا پائے ، وہ تمہارے لیے اسے کھول رہا ہو ؟ “ تو اس نے کہا : اللہ کے نبی ! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے ، اور میرے لیے دروازہ کھول رہا ہو ، آپ نے فرمایا : ” تمہارے لیے ایسا ( ہی ) ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2090]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1871 (صحیح)
121: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: تعزیت کی ایک اور قسم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ , فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، " فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ , وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ"، قَالَ: أَيْ رَبِّ , ثُمَّ مَهْ، قَالَ: " الْمَوْتُ" قَالَ: فَالْآنَ ," فَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ" , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں موت کا فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا ، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا ، تو اس کی ایک آنکھ پھوٹ کر بہہ گئی ، چنانچہ اس نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر شکایت کی کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اچھی کر دی ، اور کہا : اس کے پاس دوبارہ جاؤ ، اور اس سے کہہ : تم اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے عوض انہیں ایک سال کی مزید عمر مل جائے گی ، تو انہوں نے عرض کیا : اے میرے رب ! پھر کیا ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر مرنا ہو گا ، ( موسیٰ علیہ السلام ) نے کہا : تب تو ابھی ( مرنا بہتر ہے ) ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر قریب کر دے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں راستے کی طرف سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھلاتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2091]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 68 (1339)، والأنبیاء 33 (3407)، صحیح مسلم/الفضائل 42 (2372)، (تحفة الأشراف: 13519)، مسند احمد 2/269- 315 (صحیح)
← پچھلی کتاب #24 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #26 →