سنن النسائي حدیث نمبر: 1872
Sunan an-Nasa'i 1872
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
23: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ
باب: صبر کرنے اور اجر و ثواب چاہنے والے کے ثواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ يُعَزِّيهِ بِابْنٍ لَهُ هَلَكَ، وَذَكَرَ فِي كِتَابِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ , وَقَالَ: مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ".
عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا ، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے ، اور وہ اس پر صبر کرے ، اور اجر چاہے ، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے ، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1872]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8765) (صحیح)