سنن النسائي حدیث نمبر: 1924
Sunan an-Nasa'i 1924
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قال: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: أَمْرُ أَبِي مُوسَى , فَقَالَ: " إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيَّةٍ وَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ".
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ( اتنے میں ) ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے ، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : ابوموسیٰ اشعری کا حکم ہے ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے تھے ، ( پھر ) اس کے بعد آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1924]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن أبى نجيح مدلس وعنعن. وله شاهد ضعيف، عند الحميدي (50 بتحقيقي) وأحمد (1/ 141.142) وغيرهما. وحديث مسلم (962 [2227.2230]) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 371
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10185)، مسند احمد 1/141، 142، 4/413 (صحیح الإسناد)