سنن النسائي حدیث نمبر: 1925
Sunan an-Nasa'i 1925
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
47: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْقِيَامِ
باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہونے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ , فَقَالَ الْحَسَنُ: " أَلَيْسَ قَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ , ثُمَّ جَلَسَ".
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک جنازہ حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا ، تو حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نہیں کھڑے ہوئے ، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کا جنازہ ( دیکھ کر ) کھڑے نہیں ہوئے تھے ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : ہاں ، پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1925]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی پھر اس کے بعد کسی جنازے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3409)، مسند احمد 1/200، 201، 337، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1926، 1927، 1928 (صحیح الإسناد)