📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز) 🏷️ باب: باب: (قیامت کے دن) جسے سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 2089 Sunan an-Nasa'i 2089
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
119: بَابُ : ذِكْرِ أَوَّلِ مَنْ يُكْسَى
باب: (قیامت کے دن) جسے سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , وَأَبُو دَاوُدَ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْعِظَةِ , فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عُرَاةً قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حُفَاةً غُرْلًا، وَقَالَ وَكِيعٌ، وَوَهْبٌ: عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104 , قَالَ: أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِنَّهُ سَيُؤْتَى قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: يُجَاءُ، وَقَالَ وَهْبٌ، وَوَكِيعٌ سَيُؤْتَى بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ , فَأَقُولُ: رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ , فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَى قَوْلِهِ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ سورة المائدة آية 117 - 118 الْآيَةَ , فَيُقَالُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُدْبِرِينَ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا : ” لوگو ! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے ، ( ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے ، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے : ننگے جسم اور بلا ختنہ ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے ، اور عنقریب میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے ( ابوداؤد کی روایت میں «یجائ» ہے اور وہب اور وکیع کی روایت میں «سیؤتی» ہے ) اور وہ پکڑ کر بائیں جانب لے جائے جائیں گے ، میں عرض کروں گا : اے میرے رب ! یہ میرے اصحاب ( امتی ) ہیں ، کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے جو آپ کے بعد انہوں نے شریعت میں نئی چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں ، تو میں وہی کہوں گا جو نیکوکار بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا تھا کہ جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا ان پر گواہ تھا جب تو نے مجھے وفات دے دی ( تو تو ہی ان کا نگہبان تھا ) اب اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست حکمت والا ہے ، تو کہا جائے گا : یہ لوگ برابر پیٹھ پھیرنے والے رہے ، ( اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : جب سے تم ان سے جدا ہوئے یہ اپنے ایڑیوں کے بل پلٹنے والے رہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2089]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2084 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #2089
2087 2088 2089 2090 2091
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ