سنن النسائي حدیث نمبر: 2091
Sunan an-Nasa'i 2091
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
121: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: تعزیت کی ایک اور قسم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ , فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، " فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ , وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ"، قَالَ: أَيْ رَبِّ , ثُمَّ مَهْ، قَالَ: " الْمَوْتُ" قَالَ: فَالْآنَ ," فَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ" , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں موت کا فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا ، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا ، تو اس کی ایک آنکھ پھوٹ کر بہہ گئی ، چنانچہ اس نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر شکایت کی کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اچھی کر دی ، اور کہا : اس کے پاس دوبارہ جاؤ ، اور اس سے کہہ : تم اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے عوض انہیں ایک سال کی مزید عمر مل جائے گی ، تو انہوں نے عرض کیا : اے میرے رب ! پھر کیا ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر مرنا ہو گا ، ( موسیٰ علیہ السلام ) نے کہا : تب تو ابھی ( مرنا بہتر ہے ) ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر قریب کر دے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں راستے کی طرف سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھلاتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2091]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 68 (1339)، والأنبیاء 33 (3407)، صحیح مسلم/الفضائل 42 (2372)، (تحفة الأشراف: 13519)، مسند احمد 2/269- 315 (صحیح)