سنن النسائي حدیث نمبر: 1891
Sunan an-Nasa'i 1891
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
35: بَابُ : الْكَافُورِ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کے غسل کے پانی میں کافور ملانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" , قَالَ: أَوْ قَالَتْ حَفْصَةُ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا , قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ,
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” انہیں پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین بار ، یا پانچ بار ، غسل دو “ ، یا اس سے زیادہ ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی مقدار ملا لو ( اور ) جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو “ ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کی ، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : ” اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو “ ، راوی کہتے ہیں یا حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں : اسے تین ، پانچ ، یا سات بار غسل دو ، راوی کہتے ہیں : ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1891]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)