سنن النسائي حدیث نمبر: 1890
Sunan an-Nasa'i 1890
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
34: بَابُ : غَسْلِ الْمَيِّتِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعَةٍ
باب: میت کو سات بار سے زیادہ غسل دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَتِهِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ" , قَالَتْ: قُلْتُ: وِتْرًا، قَالَ: " نَعَمْ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ , وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی ، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا : ” تین بار ، یا پانچ بار ، یا سات بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو “ ، تو میں نے کہا : طاق بار ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو ، ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے باخبر کرنا “ ، چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے ، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا ، اور فرمایا : ” اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1890]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18143) (صحیح)