سنن النسائي حدیث نمبر: 1888
Sunan an-Nasa'i 1888
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
34: بَابُ : غَسْلِ الْمَيِّتِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعَةٍ
باب: میت کو سات بار سے زیادہ غسل دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" .
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی ، تو آپ نے ہمیں بلوایا ( اور ) فرمایا : ” اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی کچھ ( مقدار ) ملا لینا ، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو “ ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی ، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : ” اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1888]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)