سنن النسائي حدیث نمبر: 1887
Sunan an-Nasa'i 1887
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
33: بَابُ : غَسْلِ الْمَيِّتِ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسٍ
باب: میت کو پانچ بار سے زیادہ نہلانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹی کو نہلا رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” انہیں پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین یا پانچ بار غسل دو ، یا اگر مناسب سمجھو اس سے بھی زیادہ ، اور آخری بار کافور یا کافور کی کچھ ( مقدار ) ملا لینا ، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو “ ۔ چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا ، اور فرمایا : ” اسے ان کے جسم سے لپیٹ دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1887]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)