سنن النسائي حدیث نمبر: 2034
Sunan an-Nasa'i 2034
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
100: بَابُ : زِيَارَةِ الْقُبُورِ
باب: قبروں کی زیارت کا بیان۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَامْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم اس کی زیارت کیا کرو ۱؎ ، اور میں نے قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا تو اب جب تک جی چاہے رکھو ، اور میں نے تمہیں مشک کے علاوہ کسی اور برتن میں نبیذ ( پینے ) سے منع کیا تھا ، تو سارے برتنوں میں پیو ( مگر ) کسی نشہ آور چیز کو مت پینا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2034]
💡 وضاحت:
۱؎: قبروں کی زیارت کی ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی تاکہ یہ چیز قبر پرستی اور مردوں سے مدد مانگنے اور فریاد کرنے کا ذریعہ نہ بن جائے پھر جب توحید کی تعلیم دلوں میں بیٹھ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، والأضاحي 5 (1977)، والأشربة 6 (977) (مقتصرا علی الشق الثالث)، سنن ابی داود/الأشربة 7 (3698)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 6 (1870)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 14 (3405)، (تحفة الأشراف: 2001)، مسند احمد 5/350، 355، 356، 357، 361، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4434، 5654، 5657 (صحیح)