سنن النسائي حدیث نمبر: 2032
Sunan an-Nasa'i 2032
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
99: بَابُ : تَسْوِيَةِ الْقُبُورِ إِذَا رُفِعَتْ
باب: قبریں اونچی بنائی گئی ہوں تو انہیں برابر کر دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ حَدَّثَهُ , قَالَ: " كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا".
ثمامہ بن شفی کہتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں تھے کہ ہمارا ایک ساتھی وفات پا گیا ، تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی قبر ( زمین کے برابر کرنے کا ) حکم دیا ، تو وہ برابر کر دی گئی ۱؎ پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے برابر کرنے کا حکم دیتے سنا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2032]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کوہان کی طرح بنائی جانے کے بجائے مسطح بنائی گئی، گو وہ زمین سے کچھ اونچی ہو، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجنائز 31 (968)، سنن ابی داود/الجنائز 72 (3219)، (تحفة الأشراف: 11026)، مسند احمد 6/18، 21 (صحیح)