سنن النسائي حدیث نمبر: 2033
Sunan an-Nasa'i 2033
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
99: بَابُ : تَسْوِيَةِ الْقُبُورِ إِذَا رُفِعَتْ
باب: قبریں اونچی بنائی گئی ہوں تو انہیں برابر کر دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَا تَدَعَنَّ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ، وَلَا صُورَةً فِي بَيْتٍ إِلَّا طَمَسْتَهَا".
ابوہیاج ( حیان بن حصین اسدی ) کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا : تم کوئی بھی اونچی قبر نہ چھوڑنا مگر اسے برابر کر دینا ، اور نہ کسی گھر میں کوئی مجسمہ ( تصویر ) چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2033]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجنائز 31 (969)، سنن ابی داود/الجنائز 72 (3218)، سنن الترمذی/الجنائز 56 (1049)، (تحفة الأشراف: 10083)، مسند احمد 1/96، 98، 111، 129 (صحیح)