سنن النسائي حدیث نمبر: 1956
Sunan an-Nasa'i 1956
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
61: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ
باب: شہداء کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ".
عقبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے باہر ) نکلے ، اور غزوہ احد کے شہیدوں پر نماز ( جنازہ ) پڑھی ۱؎ جیسے میت کی نماز جنازہ پڑھتے تھے ، پھر منبر کی طرف پلٹے اور فرمایا : ” میں ( قیامت میں ) تمہارا پیش رو ہوں ، اور تم پر گواہ ( بھی ) ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1956]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نماز آپ نے جنگ احد کے آٹھ سال بعد آخری عمر میں پڑھی تھی، اور یہ شہداء احد ہی کے ساتھ خاص تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 72 (1344)، والمناقب 25 (3596)، والمغازي 17 (4042)، 27 (4085)، والرقاق 7 (6426)، 53 (6590)، صحیح مسلم/الفضائل 9 (2296)، سنن ابی داود/الجنائز 75 (3223)، (تحفة الأشراف: 9956)، مسند احمد 4/149، 153، 154 (صحیح)