سنن النسائي حدیث نمبر: 1855
Sunan an-Nasa'i 1855
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
15: بَابُ : النِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر نوحہ کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ هُوَ ابْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ بِخُرَاسَانَ وَنَاحَ أَهْلُهُ عَلَيْهِ هَاهُنَا , أَكَانَ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ؟ قَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَبْتَ أَنْتَ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، اس پر ایک شخص نے ان سے کہا : مجھے بتائیے کہ ایک شخص خراسان میں مرے ، اور اس کے گھر والے یہاں اس پر نوحہ کریں تو اس پر اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا ، ( یہ بات عقل میں آنے والی نہیں ) ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ، اور تو جھوٹا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1855]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی جواب ہے اس شخص کا جو حدیث کے ہوتے ہوئے عقل اور قیاس کے گھوڑے دوڑائے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وعنعن. ولأصل الحديث شواهد كثيرة،انظر الحديث السابق (1854) وهو يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10810) (صحیح) (اس سند میں ’’ہشیم“ اور ”حسن بصری‘‘ مدلس ہیں، مگر پچھلی سند (1850) سے یہ روایت صحیح ہے)