سنن النسائي حدیث نمبر: 2008
Sunan an-Nasa'i 2008
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
84: بَابُ : مُوَارَاةِ الْمُشْرِكِ
باب: کافر و مشرک کو دفن کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ، فَمَنْ يُوَارِيهِ؟ قَالَ: " اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي وَذَكَرَ دُعَاءً لَمْ أَحْفَظْهُ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ کے بوڑھے گم کردہ راہ چچا ( ابوطالب ) مر گئے ہیں ، انہیں کون دفن کرے ؟ آپ نے فرمایا : ” تم جاؤ اور اپنے باپ کو دفن کر دو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا جب تک میرے پاس لوٹ نہ آنا “ ، چنانچہ میں انہیں دفن کر آیا ، تو آپ نے میرے لیے ( نہانے کا ) حکم دیا ، میں نے غسل کیا ، اور آپ نے مجھے دعا دی ۔ راوی ناجیہ بن کعب کہتے ہیں : اور علی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی دعا کا ذکر کیا جسے میں یاد نہیں رکھ سکا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2008]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 190 (صحیح)