سنن النسائي حدیث نمبر: 2029
Sunan an-Nasa'i 2029
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
96: بَابُ : الزِّيَادَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: قبر اونچی کرنے کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَأَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ، قال: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ أَوْ يُجَصَّصَ زَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَوْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ قبر پر قبہ بنایا جائے یا اس کو اونچا کیا جائے ، یا اس کو پختہ بنایا جائے ، سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ” یا اس پر لکھا جائے “ کا اضافہ ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2029]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نہی مطلق ہے، اس میں میت کا نام اور اس کی تاریخ وفات تبرک کے لیے قرآن کی آیتیں، اور اسماء حسنٰی وغیرہ لکھنا سبھی داخل ہیں اور یہ سب کچھ منع ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجنائز 32 (970)، سنن ابی داود/الجنائز 76 (3225)، سنن الترمذی/الجنائز 58 (1052)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 43 (1562، 1563)، (تحفة الأشراف: 2274، 2796)، مسند احمد 3/295، 332، 399 (صحیح)