سنن النسائي حدیث نمبر: 1980
Sunan an-Nasa'i 1980
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
75: بَابُ : اجْتِمَاعِ جَنَائِزِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ
باب: مرد اور عورت کے جنازے کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: سَمِعْتُ نَافِعًا يَزْعُمُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ" صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا فَجَعَلَ الرِّجَالَ يَلُونَ الْإِمَامَ وَالنِّسَاءَ يَلِينَ الْقِبْلَةَ فَصَفَّهُنَّ صَفًّا وَاحِدًا، وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ زَيْدٌ، وُضِعَا جَمِيعًا وَالْإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ، وَفِي النَّاسِ ابْنُ عُمَرَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ فَوُضِعَ الْغُلَامُ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ فَقَالَ رَجُلٌ: فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي قَتَادَةَ , فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هِيَ السُّنَّةُ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نو جنازوں کی ایک ساتھ نماز پڑھی ، تو مرد امام سے قریب رکھے گئے ، اور عورتیں قبلہ سے قریب ، ان سب عورتوں کی ایک صف بنائی ، اور علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی ام کلثوم ، اور ان کے بیٹے زید دونوں کا جنازہ ایک ساتھ رکھا گیا ، امام اس دن سعید بن العاص تھے ، اور لوگوں میں ابن عمر ، ابوہریرہ ، ابوسعید اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہم ( بھی موجود ) تھے ، بچہ امام سے قریب رکھا گیا ، تو ایک شخص نے کہا : مجھے یہ چیز ناگوار لگی ، تو میں نے ابن عباس ، ابوہریرہ ، ابوسعید اور ابوقتادہ ( رضی اللہ عنہم ) کی طرف ( حیرت سے ) دیکھا ، اور پوچھا : یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یہی سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1980]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، وانظر الحدیث الذي قبلہ (صحیح)