📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي - حدیث نمبر 1908

Sunan an-Nasa'i Hadith 1908 (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
کتاب #25 📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز) ← 🏷️ باب: جنازہ کی خبر دینے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 1908 Sunan an-Nasa'i 1908
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
43: بَابُ : الإِذْنِ بِالْجَنَازَةِ
🏷️ باب: جنازہ کی خبر دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَضِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي" , فَأُخْرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلًا وَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْهَا فَقَالَ:" أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ لَيْلًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکینوں اور غریبوں کی بیمار پرسی کرتے اور ان کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا “ ، رات میں اس کا جنازہ لے جایا گیا ( تو ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ جانا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو ( رات میں ) جو کچھ ہوا تھا آپ کو اس کی خبر دی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کرنا ؟ “ تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو رات میں جگانا نا مناسب سمجھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے صحابہ کے ساتھ ) نکلے یہاں تک کہ اس کی قبر پہ لوگوں کی صف بندی ۱؎ کی اور چار تکبیریں کہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1908]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں قبر پر دوبارہ نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں وہ اسے اسی عورت کے ساتھ خاص مانتے ہیں لیکن یہ دعویٰ محتاج دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 137)، موطا امام مالک/الجنائز 5 (15)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1971، 1983 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #1908
1906 1907 1908 1909 1910

📖 اسی کتاب کی دیگر احادیث (Related Hadiths)

#1819 أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ س...
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرز...
#1820 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ...
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و...
#1821 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَ...
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز مصیبت کی وجہ سے...
#1822 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَ...
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو ...
#1823 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنِي إ...
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم موت کی دعا نہ کرو ، اور نہ ہی اس کی تمنا ( ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ