سنن النسائي حدیث نمبر: 1909
Sunan an-Nasa'i 1909
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
44: بَابُ : السُّرْعَةِ بِالْجَنَازَةِ
باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ يَعْنِي السُّوءَ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ: يَا وَيْلِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي؟!".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب نیک بندہ اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے ، تو وہ کہتا ہے : مجھے جلدی لے چلو ، مجھے جلدی لے چلو ، اور جب برا آدمی اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے ، تو کہتا ہے : ہائے میری تباہی ! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1909]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13623)، مسند احمد 2/292، 474، 500 (صحیح)