سنن النسائي حدیث نمبر: 1913
Sunan an-Nasa'i 1913
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
44: بَابُ : السُّرْعَةِ بِالْجَنَازَةِ
باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: " شَهِدْتُ جَنَازَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، وَخَرَجَ زِيَادٌ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ السَّرِيرِ , فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَوَالِيهِمْ يَسْتَقْبِلُونَ السَّرِيرَ وَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ وَيَقُولُونَ: رُوَيْدًا رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ , فَكَانُوا يَدِبُّونَ دَبِيبًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ الْمِرْبَدِ لَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ عَلَى بَغْلَةٍ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ وَأَهْوَى إِلَيْهِمْ بِالسَّوْطِ , وَقَالَ: خَلُّوا , فَوَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ نَرْمُلُ بِهَا رَمَلًا فَانْبَسَطَ الْقَوْمُ".
عبدالرحمٰن بن جوشن کہتے ہیں میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں موجود تھا ، زیاد نکلے تو وہ چارپائی کے آگے چل رہے تھے ، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ اور ان کے غلام چارپائی کو سامنے کر کے اپنی ایڑیوں کے بل چلنے لگے ، وہ کہہ رہے تھے : آہستہ چلو ، آہستہ چلو ، اللہ تمہیں برکت دے ، تو وہ لوگ رینگنے کے انداز میں چلنے لگے ، یہاں تک کہ جب ہم مربد کے راستے میں تھے تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک خچر پر ( سوار ) ملے ، جب انہوں نے انہیں ( ایسا ) کرتے دیکھا ، تو اپنے خچر پر ( سوار ) ان کے پاس گئے اور کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا ، اور کہا : قسم ! اس ذات کی جس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت بخشی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے ، تو لوگ ( یہ سن کر ) خوش ہوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1913]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجنائز 50 (3183)، (تحفة الأشراف: 11695)، مسند احمد 5/36، 37، 38 (صحیح)