سنن النسائي حدیث نمبر: 1910
Sunan an-Nasa'i 1910
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
44: بَابُ : السُّرْعَةِ بِالْجَنَازَةِ
باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً , قَالَتْ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ , قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا إِلَى أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا؟! يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب جنازہ ( چارپائی پر ) رکھا جاتا ہے ( اور ) لوگ اسے اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہیں ، تو اگر وہ نیکوکار ہوتا ہے تو کہتا ہے : مجھے جلدی لے چلو ، مجھے جلدی لے چلو ، اور اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے : ہائے اس کی ہلاکت ! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو ، اس کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے ، اگر انسان اسے سن لے تو بیہوش ہو جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1910]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 50 (1314)، 52 (1316)، 90 (1380)، (تحفة الأشراف: 4287)، مسند احمد 3/41، 58 (صحیح)