سنن النسائي حدیث نمبر: 1911
Sunan an-Nasa'i 1911
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
44: بَابُ : السُّرْعَةِ بِالْجَنَازَةِ
باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ تَكُ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازے کو تیز لے چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف ( جلد ) لے جاؤ گے ، اور اگر اس کے علاوہ ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم ( جلد ) اپنی گردنوں سے اتار پھینکو گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1911]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 51 (1315)، صحیح مسلم/الجنائز 16 (944)، سنن ابی داود/الجنائز 50 (3181)، سنن الترمذی/الجنائز 30 (1015)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1477)، (تحفة الأشراف: 13124)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (56)، (موقوفاً علی أبي ھریرة)، مسند احمد 2/240 (صحیح)