سنن النسائي حدیث نمبر: 1942
Sunan an-Nasa'i 1942
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
54: بَابُ : فَضْلِ مَنْ يَتْبَعُ جَنَازَةً
باب: جنازے کے ساتھ جانے والے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ بُرْدٍ أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، قال: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطٌ، وَمَنْ مَشَى مَعَ الْجَنَازَةِ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطَانِ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جنازے کے ساتھ گیا ، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس پر جنازہ کی نماز پڑھی گئی اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے ، اور جو شخص کسی جنازے کے ساتھ گیا ، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک وہ دفن کر دیا گیا ، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے ، اور ایک قیراط احد ( پہاڑ ) کے مثل ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1942]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1915)، مسند احمد 4/294 (صحیح)