سنن النسائي حدیث نمبر: 1940
Sunan an-Nasa'i 1940
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
52: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ سَبِّ الأَمْوَاتِ
باب: مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں : جب بیمار ہو تو وہ اس کی عیادت کرے ، جب مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک رہے ، جب دعوت کرے تو اسے قبول کرے ، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے ، جب چھینکے اور «الحمد للہ» کہے تو جواب میں «یرحمک اللہ» کہے ، اور اس کی خیر خواہی کرے خواہ اس کے پیٹھ پیچھے ہو یا سامنے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1940]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأدب 1 (2737)، (تحفة الأشراف: 13066)، مسند احمد 2/321، 372، 412، 540 (صحیح) و ورد عندخ و م بلفظ ’’خمس‘‘أی بعدم ذکر ’’وینصح لہ إذا۔۔۔ الخ‘‘ راجع خ /الجنائز 2 (1240)، صحیح مسلم/السلام 3 (2162)