سنن النسائي حدیث نمبر: 1826
Sunan an-Nasa'i 1826
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
3: بَابُ : كَثْرَةِ ذِكْرِ الْمَوْتِ
باب: موت کو کثرت سے یاد کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ" , فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: " قُولِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً" , فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اچھی باتیں کرو ، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں “ ۔ چنانچہ جب ابوسلمہ مر گئے ، تو میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں کیا کہوں ؟ تو آپ نے فرمایا ـ : ” تو کہو : «اللہم اغفر لنا وله وأعقبني منه عقبى حسنة» ” اے اللہ ! ہماری اور ان کی مغفرت فرما ، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما “ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1826]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوسلمہ کی وفات کے بعد ام سلمہ رضی الله عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو گیا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں بدل ہی نہیں نعم البدل عطا فرما دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجنائز 3 (919)، سنن ابی داود/الجنائز 19 (3115)، سنن الترمذی/الجنائز 7 (977)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 4 (1447)، 55 (1598)، (تحفة الأشراف: 18162)، موطا امام مالک/الجنائز 14 (42)، مسند احمد 6/291، 306، 322 (صحیح)