سنن النسائي حدیث نمبر: 2071
Sunan an-Nasa'i 2071
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
116: بَابُ : وَضْعِ الْجَرِيدَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: قبر پر کھجور کی ٹہنی رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ: " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ"، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ فَقَالَ: " لَعَلَّهُمَا أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ” ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے ، اور یہ کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دئیے جا رہے ہیں ، رہا ان میں سے ایک تو وہ اپنے پیشاب سے اچھی طرح پاکی حاصل نہیں کرتا تھا ، اور رہا دوسرا تو وہ چغل خوری کرتا تھا ، پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری ٹہنی لی ( اور ) اسے آدھا آدھا چیر دیا ، پھر ہر ایک کی قبر پہ گاڑ دیا “ ، تو لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا کر دیا جائے جب تک یہ دونوں ( ٹہنیاں ) خشک نہ ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2071]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 31 (صحیح)