سنن النسائي حدیث نمبر: 2072
Sunan an-Nasa'i 2072
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
116: بَابُ : وَضْعِ الْجَرِيدَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: قبر پر کھجور کی ٹہنی رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے ، اگر جنتی ہے تو جنت میں کا ، اور اگر جہنمی ہے تو جہنم میں کا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز اٹھائے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2072]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اٹھائے جانے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا، اور وہ اپنے اس ٹھکانے میں پہنچ جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 89 (1379)، وبدء الخلق 8 (3240)، والرقاق 42 (6515)، (تحفة الأشراف: 8292)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنة 17 (2866)، سنن الترمذی/الجنائز 70 (1072)، سنن ابن ماجہ/الزھد 32 (4270)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (47)، مسند احمد 2/16، 51، 113، 123 (صحیح)