سنن النسائي حدیث نمبر: 2069
Sunan an-Nasa'i 2069
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
115: بَابُ : التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
باب: عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَتَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أَنْعَمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ عَجُوزَتَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ , قَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ , قَالَ: " صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا" , فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں یہود مدینہ کی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں میرے پاس آئیں ، ( اور ) کہنے لگیں کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے ، تو میں نے ان کو جھٹلا دیا اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ان کی تصدیق کروں ، وہ دونوں نکل گئیں ( تبھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہود مدینہ کی بوڑھیوں میں سے دو بوڑھیاں کہہ رہی تھیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دونوں نے سچ کہا ، انہیں عذاب دیا جاتا ہے جسے سارے چوپائے سنتے ہیں “ ، ( پھر ) میں نے دیکھا آپ ہر صلاۃ کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2069]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)