سنن النسائي حدیث نمبر: 1901
Sunan an-Nasa'i 1901
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
40: بَابُ : الْقَمِيصِ فِي الْكَفَنِ
باب: کفن میں قمیص کے ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ , ثُمَّ قَالَ: " إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي أُصَلِّي عَلَيْهِ" فَجَذَبَهُ عُمَرُ وَقَالَ: قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ , فَقَالَ: " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ قَالَ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84" فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) مر گیا ، تو اس کے بیٹے ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ( اور ) عرض کیا : ( اللہ کے رسول ! ) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں ، اور آپ ان پر نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے ، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی ، پھر فرمایا : ” جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھوں گا “ ( اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچا ، اور کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں دو اختیارات کے درمیان ہوں ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا : «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ” تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے “ ( التوبہ : ۸۰ ) چنانچہ آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی ، تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ” تم ان ( منافقین ) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو ، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو “ ( التوبہ : ۸۴ ) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1901]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 22 (1269)، وتفسیر التوبة 12 (4670)، 13 (4672)، واللباس 8 (5796)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2400)، وصفات المنافقین (2774)، سنن الترمذی/تفسیر التوبة (3098)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 31 (1523)، (تحفة الأشراف: 8139)، مسند احمد 2/18 (صحیح)