سنن النسائي حدیث نمبر: 1904
Sunan an-Nasa'i 1904
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
40: بَابُ : الْقَمِيصِ فِي الْكَفَنِ
باب: کفن میں قمیص کے ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قال: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، قال: سَمِعْتُ شَقِيقًا، قال: حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قال: " هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً، كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ , وَإِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا" , وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ.
خباب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ، ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہ رہے تھے ، اللہ تعالیٰ پر ہمارا اجر ثابت ہو گیا ، پھر ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو مر گئے ( اور ) اس اجر میں سے ( دنیا میں ) کچھ بھی نہیں چکھا ، انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں ، جو جنگ احد میں قتل کئے گئے ، تو ہم نے سوائے ایک ( چھوٹی ) دھاری دار چادر کے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جس میں انہیں کفناتے ، جب ہم ان کا سر ڈھکتے تو پیر کھل جاتا ، اور جب پیر ڈھکتے تو سر کھل جاتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور ان کے پیروں پہ اذخر نامی گھاس ڈال دیں ، اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کے پھل پکے اور وہ اسے چن رہے ہیں ( یہ الفاظ اسماعیل کے ہیں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1904]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 27 (1276)، ومناقب الأنصار 45 (3897، 3914)، والمغازي 17 (4047)، 26 (4082)، والرقاق 7 (6432)، 16 (6448)، صحیح مسلم/الجنائز 13 (940)، سنن ابی داود/الوصایا 11 (2876)، سنن الترمذی/المناقب 54 (3853)، مسند احمد 5/109، 111، 112، 6/395، (تحفة الأشراف: 3514) (صحیح)