سنن النسائي حدیث نمبر: 2012
Sunan an-Nasa'i 2012
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
86: بَابُ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ إِعْمَاقِ الْقَبْرِ
باب: قبر گہری کھودنا مستحب ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْحَفْرُ عَلَيْنَا لِكُلِّ إِنْسَانٍ شَدِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْفِرُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ" , قَالُوا: فَمَنْ نُقَدِّمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , قَالَ: فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ( غزوہ ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہر ایک آدمی کے لیے ( الگ الگ ) قبر کھودنا ہمارے لیے دشوار ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھودو اور گہرا کھودو اچھی طرح کھودو ، اور دو دو تین تین ( افراد ) کو ایک ہی قبر میں دفن کر دو “ ، تو لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! پہلے ہم کسے رکھیں ؟ آپ نے فرمایا : ” پہلے انہیں رکھو جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو “ ۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک ہی قبر میں رکھے جانے والے تین افراد میں سے میرے والد تیسرے فرد تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2012]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجنائز 71 (3215، 3216، 3217)، سنن الترمذی/الجھاد 33 (1713)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 41 (1560) مختصراً، (تحفة الأشراف: 11731)، مسند احمد 4/19، 20، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2013، 2017-2020 (صحیح)