سنن النسائي حدیث نمبر: 2011
Sunan an-Nasa'i 2011
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
85: بَابُ : اللَّحْدِ وَالشَّقِّ
باب: بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ، عَنْ حَكَّامِ بْنِ سَلْمٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بغلی قبر ہم ( مسلمانوں ) کے لیے ہے ، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2011]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ «اللحد لنا» کا مطلب «اللحد لي» ہے، یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے، جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے، یا «اللحدلنا» کا مطلب «اللحد اختیارنا» ہے، یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کی صندوقی مسلمانوں کے لیے ہے، کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے والا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا، اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3208) ترمذي (1045) ابن ماجه (1554) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجنائز 65 (3208)، سنن الترمذی/الجنائز 53 (1045)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 39 (1554)، (تحفة الأشراف: 5542) (صحیح)