سنن النسائي حدیث نمبر: 2024
Sunan an-Nasa'i 2024
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟" قَالُوا: هَذِهِ فُلَانَةُ مَوْلَاةُ بَنِي فُلَانٍ، فَعَرَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَاتَتْ ظُهْرًا وَأَنْتَ نَائِمٌ قَائِلٌ فَلَمْ نُحِبَّ أَنْ نُوقِظَكَ بِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا , ثُمَّ قَالَ: " لَا يَمُوتُ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلَاتِي لَهُ رَحْمَةٌ".
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : یہ فلاں قبیلے کی لونڈی ( کی قبر ) ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا ، وہ دوپہر میں مری تھی ، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے ، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی ، اور آپ نے چار تکبیریں کہیں ، پھر فرمایا : ” جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے مرے اس کی خبر مجھے ضرور دو ، کیونکہ میری نماز اس کے لیے رحمت ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2024]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1528)، (تحفة الأشراف: 11824)، مسند احمد 4/388 (صحیح)