سنن النسائي حدیث نمبر: 2057
Sunan an-Nasa'i 2057
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
113: بَابُ : ضَمَّةِ الْقَبْرِ وَضَغْطَتِهِ
باب: قبر کے دبانے اور دبوچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہی وہ شخص ہے جس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا ، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے ، اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے ، ( پھر بھی قبر میں ) اسے ایک بار بھینچا گیا ، پھر ( یہ عذاب ) اس سے جاتا رہا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2057]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7926) (صحیح)