سنن النسائي حدیث نمبر: 2038
Sunan an-Nasa'i 2038
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
102: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ الاِسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین کے لیے مغفرت طلب کرنا منع ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ، فَقُلْتُ: أَتَسْتَغْفِرُ لَهُمَا وَهُمَا مُشْرِكَانِ، فَقَالَ: أَوَ لَمْ يَسْتَغْفِرْ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأَبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ سورة التوبة آية 114.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں میں نے ایک شخص کو اپنے ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے ، تو میں نے کہا : کیا تو ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے ؟ حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے ، تو اس نے کہا : کیا ابراہیم ( علیہ السلام ) نے اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی ؟ تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو ( یہ آیت ) اتری : «وما كان استغفار إبراهيم لأبيه إلا عن موعدة وعدها إياه» ” ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا ایک وعدہ کی وجہ سے تھا “ ( التوبہ : ۱۱۴ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2038]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3101) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیر التوبة (3101)، (تحفة الأشراف: 10181)، مسند احمد 1/99، 103 (حسن)