سنن النسائي حدیث نمبر: 1883
Sunan an-Nasa'i 1883
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
29: بَابُ : غَسْلِ الْمَيِّتِ بِالْحَمِيمِ
باب: میت کو گرم پانی سے غسل دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ: لَا تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: " مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا، فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِرَتْ مَا عُمِرَتْ".
ام قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا مر گیا ، تو میں اس پر رونے لگی اور اس شخص سے جو اسے غسل دے رہا تھا کہا : میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو کہ اس ( مرے کو مزید ) مارو ، عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور آپ کو ان کی یہ بات بتائی تو آپ مسکرا پڑے ، پھر فرمایا : ” کیا کہا اس نے ؟ اس کی عمردراز ہو “ ، ( راوی کہتے ہیں ) تو ہم نہیں جانتے کہ کسی عورت کو اتنی عمر ملی ہو جتنی انہیں ملی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1883]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا «طال عمرہا» کی برکت تھی۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، أبو الحسن مولي اُم قيس بنت محصن: مجهول،لم أجد من وثقه وجهله ابن القطان الفاسي. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18346)، مسند احمد 6/355 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”ابو الحسن‘‘ لین الحدیث ہیں)