سنن النسائي حدیث نمبر: 2020
Sunan an-Nasa'i 2020
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
91: بَابُ : مَنْ يُقَدَّمُ
باب: قبر میں پہلے کون رکھا جائے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( غزوہ ) احد کے دن میرے والد قتل کئے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قبریں ) کھودو اور انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ ، اور ( ایک ہی ) قبر میں دو دو تین تین کو دفنا دو ، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو “ ، چنانچہ میرے والد تین میں کے تیسرے تھے ، اور انہیں قرآن زیادہ یاد تھا تو وہ پہلے رکھے گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2020]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)