سنن النسائي حدیث نمبر: 2021
Sunan an-Nasa'i 2021
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
92: بَابُ : إِخْرَاجِ الْمَيِّتِ مِنَ اللَّحْدِ بَعْدَ أَنْ يُوضَعَ فِيهِ
باب: میت کو لحد میں رکھنے کے بعد باہر نکالنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا، يَقُولُ: " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي قَبْرِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ" , وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے ، تو آپ نے اسے ( نکالنے کا ) حکم دیا ، چنانچہ وہ نکالا گیا ، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا ، اور اس پر تھو تھو کیا ، اور اسے اپنی قمیص پہنائی ، واللہ اعلم ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2021]
💡 وضاحت:
۱؎: اس پر تھو تھو کرنے اور اسے اپنی قمیص پہنانے میں کیا مصلحت پنہا تھی اسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، بعض لوگوں نے کہا: چونکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی الله عنہ کو اپنی قمیص پہنائی تھی اس لیے آپ نے بدلے میں ایسا کیا، اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے بیٹے کی دلجوئی کے لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ واللہ اعلم
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1902 (صحیح)