سنن النسائي حدیث نمبر: 1819
Sunan an-Nasa'i 1819
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
1: بَابُ : تَمَنِّي الْمَوْتِ
باب: موت کی آرزو و تمنا۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا , وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے ، ( کیونکہ ) یا تو وہ نیک ہو گا تو ہو سکتا ہے زیادہ نیکی کرے ، یا برا ہو گا تو ہو سکتا ہے وہ برائی سے توبہ کر لے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1819]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لیے زندہ رہنا ہی اس کے لیے بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14117)، مسند احمد 2/236 (صحیح)