سنن النسائي حدیث نمبر: 1821
Sunan an-Nasa'i 1821
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
1: بَابُ : تَمَنِّي الْمَوْتِ
باب: موت کی آرزو و تمنا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَلَكِنْ لِيَقُلْ، اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز مصیبت کی وجہ سے جو اسے دنیا میں پہنچتی ہے موت کی تمنا نہ کرے ۱؎ ، بلکہ یہ کہے : «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» ” اے اللہ ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو ، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1821]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ زندگی کا جو حصہ باقی ہے اس کے دین و دنیا کے لیے بہتر ہو، اس لیے موت کی آرزو کرنا منع ہے، شہادت کی یا مقدس جگہ مرنے کی آرزو کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 805، حم3/104 (صحیح)