سنن النسائي حدیث نمبر: 1983
Sunan an-Nasa'i 1983
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
76: بَابُ : عَدَدِ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ
باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قال: مَرِضَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ شَيْءٍ عِيَادَةً لِلْمَرِيضِ , فَقَالَ: " إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي" فَمَاتَتْ لَيْلًا , فَدَفَنُوهَا وَلَمْ يُعْلِمُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا , فَقَالُوا: كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَى قَبْرَهَا" فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا".
ابوامامہ بن سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عوالی والوں ۱؎ میں سے ایک عورت بیمار ہوئی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی سب سے زیادہ کرتے تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا “ تو وہ رات میں مر گئی ، اور لوگوں نے اسے دفنا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہیں کیا ، جب آپ نے صبح کی تو اس کے بارے میں پوچھا ، تو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا ، آپ اس کی قبر پر آئے ، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1983]
💡 وضاحت:
۱؎: عوالی مدینہ سے جنوب میں بلندی پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1908 (صحیح)