سنن النسائي حدیث نمبر: 2081
Sunan an-Nasa'i 2081
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
117: بَابُ : أَرْوَاحِ الْمُؤْمِنِينَ
باب: مومنوں کی روحوں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ حَتَّى حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ، قَالَ: فَفَعَلَ أَهْلُهُ ذَلِكَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ شَيْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا: أَدِّ مَا أَخَذْتَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: خَشْيَتُكَ , فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا : ” ایک بندے نے اپنے اوپر ( بڑا ) ظلم کیا ، یہاں تک کہ موت ( کا وقت ) آپ پہنچا ، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا : جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر مجھے پیس ڈالنا ، کچھ ہوا میں اڑا دینا اور کچھ سمندر میں ڈال دینا ، اس لیے کہ اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوا تو ایسا ( سخت ) عذاب دے گا کہ ویسا عذاب اپنی کسی مخلوق کو نہیں دے گا “ ، تو اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جس نے اس کا کچھ حصہ لیا تھا حکم دیا کہ حاضر کرو جو کچھ تم نے لیا ہے ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سامنے کھڑا ہے ، ( تو ) اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا ؟ اس نے کہا : تیرے خوف نے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2081]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3481)، والتوحید 35 (7506)، صحیح مسلم/التوبة 5 (2756)، سنن ابن ماجہ/الزھد 30 (4255)، (تحفة الأشراف: 12280)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (51)، مسند احمد 2/269 (صحیح)