سنن النسائي حدیث نمبر: 2051
Sunan an-Nasa'i 2051
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
108: بَابُ : التَّسْهِيلِ فِي غَيْرِ السِّبْتِيَّةِ
باب: سبتی جوتیوں کے علاوہ میں چھوٹ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں ، تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2051]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مؤلف نے اس بات پر استدلال ہے کہ سبتی جوتیوں کے علاوہ دوسری جوتیاں پہن کر قبروں کے درمیان چلنا جائز ہے کیونکہ جوتیوں کی آواز اسی وقت سنی جا سکتی ہے جب انہیں پہن کر ان میں چلا جائے، واضح رہے کہ سبتی جوتیوں کے علاوہ کی قید مؤلف نے دونوں روایتوں میں تطبیق پیدا کرنے کے لیے لگائی ہے، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سبتی جوتوں کی بات اتفاقی ہے، وہ شخص اس وقت سبتی جوتے پہنے تھا، اگر ان کے سوا کوئی اور جوتے بھی ہوتے تو آپ یہی فرماتے، اور اس حدیث میں بات بیان جواز کی ہے یا قبروں سے بچ بچ کر جوتوں میں چل سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 67 (1338)، 86 (1373، 1374)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2870)، سنن ابی داود/الجنائز 78 (3231)، والسنة 27 (4752)، (تحفة الأشراف: 1170)، حصحیح مسلم/3/126، 233 (صحیح)